کالم

آپ کی نظر میں محبت کیا ہے؟

94 نیوز تحریر: ایم انس

رات کے اس پہر گھر کے دالان میں بیٹھا میں یہ سیاق قرطاس پر مطبوعہ کر رہاھوں گھر کے سامنے باغ ھونے کی وجہ سے تاحدِ نگاہ درخت ھی درخت ھیں میرے غریب خانے کے ساتھ سنبل کا بلند و بالا پیڑ رقصاں ہے اس رومانوی ماحول میں تنہائی سے لبالب اس سوچ میں محو ھوں کہ محبت کیا ہے ویسے بد قسمتی سے ھمارے معاشرے میں محبت کا ذکر ھو تو بادی النظر دھیان لڑکا لڑکی کی محبت پر ھی جاتا ہے
جون ایلیاء کا ایک شعر ہے

ساری عقل و ہوش کی آسائشیں تم نے سانچے میں جنوں کے ڈھال دی
کر لیا تھا ھم نے عہد ترک عشق تم نے پھر بانہیں گلے میں ڈال دی

عشق محبت ھرگز یہ نہیں ہے جہاں جذباتیت ہو وہاں جہالت بھی ہوتی ہے گذشتہ دنوں ایک نوجوان جوڑے کا سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر بہت چرچا رہا انہوں نے اپنے آزادیِ اظہار کا حق استعمال کرتے ھوئے نکاح کیا کچھ لوگ انکی حمایت میں بولے اور کچھ خلاف ملے جلے سے بیانات کچھ مدلل اور کچھ ناقص خوب بحث مباحثے ھوئے خیر میں مذکورہ کیس کی تفصیل میں نہیں جاتا آپ یقیناً اس مضطرب فقیر سے بہت بہتر معلومات رکھتے ھوں گے میرے نزدیک منکوحہ محبت کا تعلق "مالی اور ذھنی” حالات سے ھوتا ہے محبت متنوع رنگوں میں بنٹی پر تپاک جذبات اوراحساسات کا نام ہے جو ہمیں ماں باپ اولاد بہن بھائی دوست زندگی کے اوائل میں ہم ان رشتوں کی موجودگی میں لاشعوری طور پر اس احساس کی زنجیر کے ساتھ جکڑے جاتے ہیں جوں جوں انسان ذھنی بلوغت کے مدارج طے کرتا جاتا ہے تو ان رشتوں کے علاوہ کئی اور نئے رشتوں اور قدرتی مناظر سے محبت کرنی شروع کر دیتا ہے لڑکپن میں ایک عدد مشوق اور مشوقہ سے محبت کا خواہشمند ہوتا ہے پھر اسے قدرت کے شہکار اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں تو کوئی شخص پہاڑوں سمندروں دریاوں ریگیستانوں باغوں شاہراؤں یہ ہر انسان کا اپنا ذوق ہے اسکو کیا چیز ہانٹ کرتی ہے پھر رشتہ ازدواج میں آنے کے بعد بیوی بچوں سے محبت کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے محبت ایک احساس کا نام ہے اس کے مختلف رنگ اور محسوسات ھوتے ہیں اس کو کسی خاص ایک احساس کے ساتھ مشروط کرنا نہایت قبیح فعل ہے یہ بے ربط متزلزل عامیانہ فلسفے گھڑتے گھڑتے ایک عجب کیفیت طاری ہے جو کہ اکثر شہر کے شور و غل اور پکے مکانوں کی تزئین و آرائش گہما گہمی سے اوب کر غالب آتی ہے جی چاہتا ہے شہر سے دور کہیں ویرانوں کی طرف نکل جائوں چھوٹی سی اِک جھونپڑی اور ھلکی ھلکی خنکی ھو کتابیں انٹرنیٹ ھو اور شدید تنہائی ھو یہ بھی قدرت سے الفت کا ایک انداز ہے جس کو بیان کرنے کےلئے ایک شاعر کی مدد درکار ہے پروین شاکر کے یہ الفاظ اس وقت میری کیفیت کے عین عکاس ھیں۔

کچا سا اِک مکاں کہی آبادیوں سے دور چھوٹا سا ایک حجرہ فرازِ مکان پر

سبزے سے جھانکتی ھوئی کھپریل والی چھت دیوارِ چوب پر کوئی موسم کی سبز بیل

اترتی ھوئی پہاڑ پہ برسات کی وہ رات کمرے میں لالٹین کی ہلکی سی روشنی

وادی میں گھومتا ھوا اک چشمہ شریر کھڑکی کو چومتا ھوا بارش کا جلترنگ

سانسوں میں گونجتا ھوا اک ان کہی کا بھید

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button