کالم

پی ٹی آئی کی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی باتیں

لاہور 94 نیوز طارق محمود جہانگیری کامریڈ
ھمارے حکمران طبقہ ، ھماری اشرافیہ ، ھمارے جج صاحبان ، ھماری سیاسی جماعتوں ، ھمارے سیاسی حکمران راہنماوں میں ایک بڑی ھی عجیب و غریب مضحکہ خیز روش اور انوکھی و نرالی چلن ھے۔ ان معزز مقدس ہستیوں کا ضمیر اقتدار سے باھر آنے یا نکالنے جانے کے بعد جاگتا ہے۔ معزولی یا سبکدوشی کے بعد بیدار ھوتا ھے ۔ جب یہ ایلیٹ کلاس کے سادھو اور حکمران طبقہ کے مقدس فرشتے اقتدار یا طاقت میں ھوتے ھیں ان کو ھر جگہ ھر مقام پر سب کچھ اچھا لگ رہا ھوتا ھے۔ ھر طرف ھریالی ھی ھریالی ، ملک و قوم کی خوشحالی ، آئین کی بالادستی ، قانون کی حکمرانی دیکھائی دے رھی ھوتی ھے۔ اقتدار سے باھر آنے کے بعد ھمارے حکمران طبقہ ، ھماری اشرافیہ کی مقدس سادھوں کو آئین و قانون کی پائمالی ، سیاسی عدم استحکام ، سیاسی معاملات میں غیر سیاسی مققدر قوتوں کی مداخلت ، دخل اندازی ، اور قوم کی معاشی و معاشرتی بدحالی یاد آجاتی ہے ۔ ان دنوں ایک مرتبہ پھر ایوانوں میں اور ایوانوں سے باھر اس قسم کی روش اور ایسا ھی چلن دیکھنے کو مل رھا ھے ۔ پچھلے چند ہفتوں سے پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے یہ عندیہ دیا جا رہا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کے علاوہ ملک کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت اور مذکرات کے لیے تیار ہیں۔ تحریک انصاف کے بانی ، روحانی پیشوا اور مرشد عمران خان جوکہ مختلف الزامات کے تحت 5 اگست سے جیل میں قید ھیں ان کی اور پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کی جانب سےاسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی کے فلمی انداز کا جزباتی جارحانہ رویہ رکھنے والے ارکان اسمبلی اور اس مزاج کے دیگر رانما اڈیالہ جیل میں قیدی نمبر 804 کی رہائی کے بغیر کسی بھی قسم کی گفت و شنید ، بات چیت اور مذاکرات کی مخالفت کرتے نظر آرھے ھیں ۔ کچھ دنوں پہلے سابق وزیر اعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں نے علی امین گنڈاپور، عمر ایوب اور شبلی فراز کے علاوہ کسی کو بھی اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کا اختیار نہیں دیا ھے ۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہرخان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا ابھی تک مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے، نہ ہی کسی بھی ادارے کے ساتھ کوئی بیک ڈور مذاکرات ہو رہے۔ تحریک انصاف کے کسی نمائندے کے پاس ڈائیلاگ کا اختیار نہیں ھے ۔ رانماوں کے مختلف بیانات سے تحریک انصاف کی صفوں میں انتشار ، بے ترتیبی ، بے ھم آھنگی اور ایک دوسرے سے تضادات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ تحریک انصاف کے سربراہ بیرسٹر گوہر کا اپنے ایک حالیہ بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مذاکرات سیاسی جماعتوں سے ہونے چاہییں۔ مذاکرات کا مطلب پاور شیئرنگ نہیں ہے۔ ھمارے قاعد عمران خان پاور شیئرنگ کی بجائے عوامی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا یہ بیان اس اعتبار سے بڑا دلچسپ اور حیران کن ہے کیونکہ تحریک انصاف کے مرشد کی سیاسی فلاسفی دیگر تمام سیاسی جماعتوں ، سیاسی قائدین سے بلکل مختلف اور جدا ھے۔ کیونکہ عمران خان کسی قسم کے سیاسی یا جمہوری عمل کے پابند نظر نہیں آتے ہیں ۔ ان کے غیر لچکدار سیاسی رویہ میں پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے نرم گوشہ کی رائئ برابر گنجائش نہیں پائی جاتی ہے۔ متبادل صدارتی نظام کا عنصر بھی دیکھائی نہیں دیتا ہے ۔ البتہ فرد واحد کی شخصی حکومت اور شخصی آمریت کی جھلک واضح طور پر دیکھائی دیتی ھے ۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ھے کہ تحریک انصاف کی دیگر مخالف سیاسی جماعتیں خالصتاً سیاسی یا جمہوری جماعتیں ہیں ۔ ان سب جماعتوں کا اولین مقصد صرف اور اقتدار کا حصول ہے ۔ لیکِن پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن میں اہنی حریف سیاسی جماعتوں کے ساتھ گفت و شنید ، اور مذاکرات کرنے کی نرمی ضرور پائی جاتی ہے ۔ اس کے پس منظر خواہ کوئی بھی سیاسی محلصت ھو لیکن ان جماعتوں کے نرم اور لجکددار رویہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا ھے ۔ عمران خان کے جارحانہ انداز اور ھٹ دھرمی میں ذرا سی بھی لچک کی گنجائش موجود ھوتی تو عمران خان آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے ناں ھوتے۔ ان کی سزا و جزا اور بریت کے بارے پارلمینٹ میں فیصلے ھو رھے ھوتے ۔ عمران خان کی بےپناہ عوامی مقبولیت کے پیچھے خاص طور مسلم لیگ ن کے غیر دانشمندانہ فیصلوں اور اقدامات کا بھی بڑا عمل دخل شامل ہے ۔ 2013 کے انتخابات کے دوران چار قومی اسمبلی کے حلقہ جات میں دوبارہ سے انتخابات کے مطالبہ کو تسلیم کرلیا جاتا تو 2014 کو اسلام آباد دھرنے کی نوبت پیش نہ آتی ۔ مسلم لیگ ن کو آج عمران خان کی شکل وصورت میں سیاسی عذاب سے گزرنے کی نوبت نہ آتی۔ سیاسی فتنہ گری کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ چند دن قبل پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی کا ایک مقامی نجی ٹی وی نیوز چینل کے پروگرام میں کہنا تھا کہ عمران خان صرف آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے مذاکرات چاہتے ہیں کیونکہ ن لیگ کی موجودہ اتحادی حکومت نے تحریک انصاف کا عوامی مینڈیٹ چوری کیا ہے اور یہ عوام کے مسترد شدہ لوگ ہیں۔ ان سے کیا مذاکرات ہوں گے۔ ان کے بیان سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر مذاکرات کے حوالے سے متضاد مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما حماد اظہر کے بیان کے مطابق عمران خان اپنی رہائی سے پہلے اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بات چیت نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا بھی تھا کہ مذاکرات کے لیے بشریٰ بی بی اور پی ٹی آئی سمیت تمام قائدین کو رہا کرنے اور الیکشن مینڈیٹ واپس کرنے جیسی شرائط بھی ھیں ۔ ادھر دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کہتے ہیں کہ انھیں تحریک انصاف یا عمران خان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کا علم نہیں ہے۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی جن کے مشورہ جات اور ان کی لکھی ہوئی معصومانہ تقاریر کی وجہ سے میاں نواز شریف کو پانامہ پیپرز لیکس کی رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا موقف ہے پی ٹی آئی کے رہنما مذاکرات کے معاملے پر تقسیم اور ابہام کا شکار ہیں۔ کبھی کوئی بیان آتا ہے تو کبھی کوئی موقف اختیار کیا جاتا ہے۔ عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ عمران خان ایوان میں کی گئی مذاکرات کی پیشکش نہیں سمجھ سکتے ہیں۔ تحریک انصاف والے اور ان کا قائد مذاکرات نہیں صرف دائر مقدمات سے نجات چاہتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے لوگ تو صرف اپنے نجات دہندہ تلاش اور صرف رھائئ چاھتے ھیں ۔ جبکہ حکومت صرف مذاکرت کرسکتی ہے نجات نہیں دلا سکتی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کی اسٹیبلشمنٹ سے ’رابطوں‘ کی قیاس آرائیاں ملک بھر کے سیاسی حلقوں میں بڑی تیزی سے گونج رہی ھیں ۔ موضوع بحث ومباحثہ بنی ہوئی ہیں ۔ شہریار آفریدی کے بیان کے بعد ایک نئی سیاسی بحث چھڑ گئی ھے ۔ حسب روایت تحریک انصاف کے کچھ رانما ان کے بیان کی حمایت تو کچھ اختلاف کررھے ھیں ۔ ذرائع کی اطلاعات کے مطابق عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز شامل ہیں۔ اس کمپنی کی تشکیل کی خبر کے بعد ذھنوں میں یہ سوال بار بار امڈ رہا ہے کہ اس کمیٹی کے ارکان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پی ٹی آئی کے رابطوں میں کوئی پیش رفت میں کامیاب ھو سکیں گے۔ کیا یہ نامزد ارکان مذاکرات میں کامیاب ہوسکیں گے ؟ کیا ان مذاکرات میں حکومت کوئی کردار ادا کر سکے گی۔ مغربی ذرائع ابلاغ کی خبروں اور اطلاعات کے مطابق 8 فروری کے عام انتخابات سے قبل ہی ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے درمیان رابطے جاری تھے۔ ملٹری اسٹبلشمنٹ کی جانب سے عمران خان کو نو مئی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کا کہا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ آئندہ ایسا عمل نہیں کریں گے۔ جبکہ دوسری جانب عمران خان کا کہنا ہے کہ میں نے نو مئی پلان نہیں کیا ھے۔ میں یہ بات کیسے مانوں جو کام میں نے کیا ھی نہیں ھے ۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہ پرتشدد کارروائیاں ، یہ گھیراؤ جلاؤ ٹکراؤ کس کی ایما پر کیا گیا ؟ کیا یہ پلان عزیز آباد ، لیاقت آباد کا تیار کردہ تھا ۔ اس خطرناک پلان کاماسٹر مائنڈ کون تھا ۔ اس کے بارے میں علی زیدی ، فروغ نسیم اور سابق صدر عارف علوی شاید سب سے بہتر جانتے ھوں ۔ کیونکہ محلاتی سازشوں کے بارے میں ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا ہے اور نہ کوئی صحیح طور پر اس کے متعلق بتا سکتا ھے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے فیصلے کو افسوس ناک قرار دیا ھے ۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ملک کی خاطر پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ڈائیلاگ اور مفاہمت کی دعوت دینی چاہیے۔ تحریک انصاف کی جانب سے صرف اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا مطالبہ افسوس ناک ہے۔ پی ٹی آئی کے گزشتہ اور حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی مذاکرات کے معاملے پر اندرونی تقسیم کا شکار ہے۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ کامیاب نامزد ارکان اسمبلی اور دیگر رانما سیاسی جماعتوں کی بجائے صرف اعلیٰ عسکری قیادت اور اسٹبلشمنٹ سے گفت و شنید اور مذکرات چاھتے ھیں۔ اس طرز عمل سے ماضی جیسی سیاسی نظام پر بے اعتمادی اور پہلی جیسی غیر جمہوری روش نظر آتی ہے ۔ اس نازک حالات میں بھی تحریک انصاف مختلف مؤقف اور آرا میں بٹے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ بیشتر رانماوں کے نزدیک جب تک ان کے روحانی پیشوا اور مرشد عمران خان رہا نہیں ہوں گے جب تک سیاسی معاملات میں ان کوحصہ لینے کی آزادی نہیں مل جاتی ہے تب تک خراب سیاسی معاملات بہتر اور ماحول خوشگوار ھونے کے امکانات نہیں ھیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے حامی سیاسی پنڈتوں اور ناقدین یہ رائے رکھتے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ معاملے پر تحریک انصاف کی صفوں میں کوئی اختلافات نہیں ھیں۔ بلکہ ان میں اس حوالے سے یکسوئی پائی جاتی ہے کہ مذاکرات ہونے چاہیے اور یہ صرف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہونے چاہیے۔یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تحریک انصاف کے بعض رہنما پارلمینٹ میں موجود سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کے بجائے طاقتور حلقوں ھی سے مذاکرات کے حامی ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر علی محمد خان موقف کے مطابق عمران خان نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔ لیکن مذاکرات کے کچھ اصول اور شرائط بھی تو ہونی چاہییں۔عوامی مینڈیٹ تسلیم کئے بغیر ایسے کوئی مذاکرات تحریک انصاف کو قبول نہیں ھونگے۔کیونکہ تحریک انصاف جعلی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کرتی ھے۔ عمران خان کی رہائی کے بغیر مذاکرات معاملات کو طول دینے کے مترادف ھوگا ۔مینڈیٹ تسلیم کر لینے کے بعد سارے جھگڑے ، سارے سیاسی اختلافات کم ھو جائیں گے۔ تحریک انصاف کی نامزد کردہ مذاکراتی کمیٹی کے رکن علی امین گنڈاپور نے اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ عمران خان نے بتایا ہے کہ بات چیت ہوسکتی ہے۔عمران خان پہلے بھی کہا چکے ہیں کہ میں پاکستان کے لیے بات چیت کرنے کو تیار ہوں۔ لیکن یہ وضاحت کرنا بہت ضروری ہے کہ عمران خان کی یہ بات چیت کس سے ہوگی۔ کیا یہ بات چیت ، یہ مذکرات سب کے سامنے ہونگے یا پھر بند کمرے میں اونچی اونچی دیواروں کے پیچھے ھونگے۔ چھپ کر کسی سے بات چیت یا مذکرات نہیں ھونے چاھئیں۔ لیکن ایک بات طے شدہ ھے اور تحریک انصاف کے ارکان اور ان کے رانماوں کے بیانات سے یہ بات عیاں ہو رہی ہے کہ عمران خان یہ چاہتے ہیں کہ ان کے مذاکرات اسٹیبلشمنٹ، آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے ہوں۔ عمران خان سیاسی رہنماؤں خصوصاً ن لیگ کی موجودہ اتحادی حکومت سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ نہ ہی ایسا کوئی عندیہ ان کی جانب سے دیا گیا ہے۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ سیاسی حقیقتوں کو، سیاسی قوتوں یا سیاسی جماعتوں کو تسلیم کئے بغیر مذاکرات کا سلسلہ آگے کیسے چل اور بڑ سکتا ھے۔ مذکرات کی راہ ایک اور بھی روکاوٹ نظر آرھی ھے۔ عمران خان گزشتہ دو سالوں سے مسلسل یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ وہ سیاسی قوتوں کے ساتھ بات نہیں کریں گے۔ اس کے علاؤہ اپنی تقریروں اور اپنے بیانات میں آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی کا نام لے کر ان پر الزامات بھی لگاتے رہے ہیں۔ عمران خان ایک ہی وقت میں عسکری قوت کے اہم عہدوں کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ اور دوسری طرف مقتدر حلقوں پر اپنا دباؤ بڑھانے کے لیے ان کے ساتھ بات چیت کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔ یہ کیسے ممکن ہے ۔ کیونکہ اسٹبلشمنٹ سے بات چیت یا مذکرات کی کوئی گنجائش ھی نہیں چھوڑی گئی ہے ۔ رجیم چینج اور 9 مئئ کے افسوسناک حادثہ کے بعد عمران خان اور پی ٹی آئی کے ارکان کی جانب سے جو کچھ ھوتا رھا ھے اس عمل کے بعد اسٹیبشلمنٹ کے ساتھ بات چیت یا مذکرات کی کوئی گنجائش باقی رھے گئی ہے۔ کیا 9 مئ کو فوجی تنصیبات پر حملوں اور جلاؤ گھیراؤ ٹکراؤ کے افسوسناک واقعات کے بعد اسٹبلشمنٹ پر کسی قسم کا دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر اندھی تقلید ، شخصیت پرستی میں مبتلا ، اور پاکستان کے سیاسی حالات سے نابلدہ ناواقف دیوانوں کو کھلی آنکھ سے اس سچائی اور حقیقت جو سرخم تسلیم کر لینا چاہیے کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کی لڑائی میں عسکری قوت اور اسٹبلشمنٹ ھی جیتتی رہی ہے۔ لیکن کیا کریں کہ کرکٹ کے میدان کے کھلاڑی کپتان اور پلے بوائے فرینڈ ماڈلنگ کے ھیرو عمران خان کو یہ بات کون سمجھائے جو ابھی تک یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کی جماعت تحریک انصاف کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسٹیبشلمنٹ سے ٹکراؤ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اور وہ اسی جارحانہ رویہ اور ٹکراؤ کے نتیجے میں اقتدار سے محروم کئے گئے ہیں۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے ووٹرز کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار حالیہ عام انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے ہی ہارے ھیں۔ اسی لیے وہ اپنی شکت کے سارے الزامات مسلم لیگ ن اور ان کی اتحادی جماعتوں پر عائد کررھے ھیں ۔ یہ بات اب کسی ھوش مند اور سیاسی سوج بھوج رکھنے والے ذی شعور سے ڈھکی چھپی نہیں رھی ھے کہ تحریک انصاف 2018 کے عام انتخابات میں اسٹبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آئی ہے ۔ یہ بات بھی کھلی کتاب کی طرح سب کے سامنے ھے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اقتدار سے رجیم چینج آپریشن سے قبل اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت اور ایک پیج پر ھونے کے مسلسل دعوے کرتے رہے ھیں۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی سے قبل اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید کی جمہوریت پسندی کے طربیہ گیت اور نغمے گنگناتے رہے ہیں۔ جبکہ افواج پاکستان کے اعلی افسران اور اسٹبلشمنٹ سیاسی معاملات میں مداخلت یا دخل اندازی الزام کی بار بار تردید کرتی رہی ہے ۔ سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ اپنے ایک گزشتہ بیان میں حلفیہ رجیم چینج الزام کی تردید کر چکے ہیں ۔ اخلاقی طور پر اس قرآنی ایمانی بیان کے بعد اب کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رھے جاتی ھے ۔ عمران خان اب بھی اس خوش فہمی میں مبتلا دیکھائی دے رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے معاملات ٹھیک ہونے پر تحریک انصاف کو ایک بار پھر اقتدار کے لیے سازگار ماحول مل سکے گا۔ عمران خان دوبارہ اقتدار آنے کی صورت میں اب یہ دعویٰ کبھی نہیں کرسکیں گے کہ تحریک انصاف کی حکومت اور اعلیٰ عسکری قیادت یا افواج پاکستان ایک پیج پر ھیں ۔ اسٹبلشمنٹ کس طرح عمران خان اور اسکی حکومت کے ساتھ کھڑی ھو پائے گی۔ مستقبل میں اس کی کوئی امید یا صورت نظر نہیں آ رہی ہے۔ عمران خان مقتدر حلقوں کو چائیے کتنی بار یہ یقین دلانے کی کوشش کریں کہ ان کا اسٹبلشمنٹ سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ تحریک انصاف اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان بہت دوریاں اور خلیج پیدا ھو چکی ھے ۔ اب یہ دوریاں اور یہ مسافت کم ھونے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی ہے ۔ اگرچہ سیاست میں کوئی بھی چیز حرف آخر نہیں ھوتی ھے ۔ لیکن اختلافات اور الزامات نے ان دونوں کے درمیان بہت فاصلے پیدا کردیے ہیں ۔ موجودہ صورت حال یہ ھے کہ عمران خان اپنی سیاسی فلاسفی اور سیاسی سوچ کے نتیجے میں موجودہ حکومت کو کٹھ پتلی حکومت سمجھتے ہیں۔ وہ ابھی تک یہی سوچ رہے ہیں کہ انھیں جو کچھ بھی ملنا ہے وہ اسٹیبلشمنٹ سے ہی ملنا ہے۔ وہ اب بھی اسٹیبلشمنٹ کو ہی اپنا سیاسی فریق سمجھ رہے ہیں ۔ پی ٹی آئی کے رانماوں اور عمران خان کو خود یہ احساس کرلینا چاہیے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ عمران خان یا اسکی جماعت کے مذاکرات اب ممکن نہیں رھے ھیں ۔ اس میں عمران خان کی انا پرستی ، ان کی ضد سے زیادہ افواج پاکستان کی عزت و تکریم ، احترام اور بین الاقوامی وقار کا سوال ھے ۔ تحریک انصاف اور عمران خان کو اب یہ سبق اچھی طرح سے یاد کرلینا چاہیے کہ پی ٹی آئی کے پاس اب جو کچھ باقی بچا ہے وہ اسمبلییوں میں ھی میں موجود ہے۔ تحریک انصاف کو اپنا سیاسی کردار موجودہ سیاسی نظام کے تحت پارلیمان میں رہ کر ھی کردار ادا کرنا ھوگا۔ کیونکہ نو مئی کے یوم سیاہ باب کے دن جو کچھ ہوا ھے ۔ اس سے نہ صرف اسٹبلشمنٹ کے ھاتھ مظبوط ھوئے ھیں۔ بلکہ سیاسی اداروں ، پارلمینٹ ، سیاسی جماعتوں اور عدلیہ پر بھی بہت سخت دباؤ آیا ہے۔ سیاسی آزادیاں بہت محدود ہوگئی ھیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ فوجی تنصیبات پر کے نتیجے میں ملک کی تمام سیاسی جماعتیں بھی کمزور ہوئی ہیں۔ عوامی طور مقبول سیاسی جماعت ھونے کے باوجود تحریک انصاف اپنی مقبولیت اور عوامی طاقت کا استعمال ایک سیاسی جماعت کے طور پر نہیں کر سکتی ہے۔ کیونکہ ھمارے ھاں مقبولیت کے ساتھ قبولیت لازم و ملزوم ھے ۔ بلکہ قبولیت کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ یاد رہے کہ دسمبر 2022 میں اپنے مخالفین سے کبھی مذاکرات نہ کرنے کے دعویدار سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جماعت نے اس وقت کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے بھی مذاکرات جاری رکھے ہوئے تھی جسے ان کی طرف سےماضی میں سنگین الزامات کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں نے وفاقی حکومت کے ساتھ اپنے مذاکرات کی تصدیق کی تھی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وکٹ کی دونوں جانب کھیلنے کے ماھر کھلاڑی تحریک انصاف کے نامزد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے بھی متعدد بار ملاقاتیں کی تھیں ۔ ان ملاقاتوں کے بعد دونوں طرف سے خوشگوار تاثرات کا اظہار بھی کیا گیا تھا ۔ماحول میں سازگار تبدیلی کے لیے چوہدری شجاعت حسین نے دونوں فریقین کی رضامندی کی صورت میں شہباز شریف اور عمران خان کی ملاقات کروانے کی پیشکش بھی کی تھی۔ عمران خان حکومت کے ساتھ بات چیت پر کیوں مجبور ہوئے تھے ۔ سچ تو یہ ہے کہ عمران خان عوامی دباؤ کے تحت اسٹیبلشمنٹ میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں کروا سکے اور نہ ہی الیکشن کی تاریخ لے سکے۔ تحریک انصاف کے سابق وزیراعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے عمران خان کی صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کے فیصلے اور اسمبلیوں سے نکلنے کے اعلان کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا۔ دراصل ان حالات میں عمران خان کے پاس بہت کم اپشنزز رہ گئے تھے۔ عمران خان نے اپنے پتے اپنے تمام کارڈز جلدی کھیلنے میں ضائع کر دئیے تھے۔ لانگ مارچ آخری حربہ ہونا چاہیے تھا لیکن انہوں نے اپنے احتجاج کا آغاز غلط وقت پر لانگ مارچ کا اعلان کر دیا تھا ۔ اب اگر وہ مذاکرات کی طرف نہ جاتے تو وہ اگلے الیکشن کے لیے کی جانے والی مشاورت سے باہر ہو جاتے۔ منظر عام پر آنے والی زلفی بخاری اور عمران کی اہلیہ کی آڈیو نے ان کے تاثر کو بہت بری طرح سے مجروح کیا۔ اس وقت کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی ط سے واضح طور پر عمران خان کو بتا دیا گیا تھا کہ وہ انہیں نہ تو الیکشن کی تاریخ لے کر دینے میں کوئی مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہی دیگر سیاسی امور میں ان کی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔ انہیں اپنے سیاسی معاملات کو خود ہی حل کرنا ہے اور فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ”اب اگر آپ اس کو اشارہ سمجھتے ہیں تو پھر یہی اشارہ ہو سکتا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ عمران خان کسی کے اشارے پر مذاکرات کی میز کی طرف نہیں آئے بلکہ کسی کی طرف سے اشارہ نہ مل سکنے کی وجہ سے ان مذاکرات کی طرف آنا پڑ گیا ۔


عمران خان کا مذاکرات کی طرف آنا خوش آئند فیصلہ قرار دیا گیا تھا ۔ کیونکہ اس سے پہلے پارلیمنٹ میں موجود سیاسی مخالفین کو چور ڈٓاکو قرار دے کر مذاکرات سے انکار کرنا عمران خان کا غیر جمہوری رویہ سمجھا جا رہا تھا ۔ معتدل سنجیدہ سیاسی طبقات کے نزدیک عمران خان اب اگر وہ جس کسی کے کہنے پر بھی مذاکرات پر آمادہ ہو گئے ہیں تو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ جمہوری نظام کے لیے نیک شگون ہے۔ وہ اس لیے کہ سیاسی قوتیں اگر خود مذاکرات کی جانب پیش رفت نہیں کریں گی تو پھر صاف ظاہر ہے تیسری قوت کو مذاکرات کرانے کے لیے آنا پڑے گا۔ اسے مداخلت کرنی پڑے گی۔ وہ حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے سیاسی مفادات بھی پیش نظر رکھے گی۔ جس کے جمہوریت پر اچھے اثرات نہیں ہوں گے۔ یہ سوال غور طلب ہے کہ کیا پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ بھی سیاسی بحران کا خاتمہ چاہتی ہے۔ کیونکہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ کیا اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ دونوں چاہتے ہیں کہ سیاسی معاملات صرف پارلیمنٹ میں ھی طے ہوں تاکہ ملک میں سیاسی و معاشی استحکام پیدا ھو سکے ۔ عمران خان سے اگر مذاکرات کامیاب طے ھو پاتے ہیں تو اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ وہ اپنی بات پر ثابت قدم رہیں گے؟ اپنی سوچ میں تبدیلی لائیں گے ۔ اگر مستقبل کے متوقع مذاکرات سے ماحول میں بہتری آتی ہے تو اس کے ثمرات موجودہ حکومت تک پہنچ سکیں گے ۔ وفاقی وزیر احسن اقبال گزشتہ روز ایک مقامی نیوز چینل سے اپنے انٹرویو کے دوران کہہ چکے ہیں کہ عمران خان کی رھائئ کا فیصلہ حکومت نے نہیں بلکہ اس ملک کی اعلیٰ عدالتوں نے کرنا ہے ۔ تحریک انصاف کو انصاف کے لیے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے ۔ 4 مئی 2024 کو ن لیگ کے سنئیر سیاسی راہنما خواجہ محمد آصف نے اپنے ایک بیان میں کہا ھے کہ 9 مئی کو ایک ریڈ لائن کراس کی گئی ھے ۔ فوجی تنصیبات پر حملےکی شہادتیں ویڈیو کی صورت میں سامنے آئی ہیں ۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پہلے پی ٹی آئی کی طرف سے فوج میں بغاوت کرانےکی کوشش کی گئی، اب یہ کہتے ہیں کہ مذاکرات کریں گے لیکن اب مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ھے ۔
ان کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ایک سال قبل تاریخی واقعہ ہوا اور پہلی بار ایک سیاسی جماعت نے عدم اعتماد پر کورکمانڈر ہاؤس، جی ایچ کیو، میانوالی ائیر فیلڈ پر حملہ کیا گیا۔ نظریاتی، سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن اس جماعت نے یہ منصوبہ پہلے بنایا اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف بہت بڑی سازش کی ھے ۔ خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ فوج میں بغاوت کرانے کی کوشش کی گئی جس کی جرات ملکی تاریخ میں کسی نے نہیں کی اور اب یہ لوگ کہتے ہیں کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ مذاکرات کریں گے 9مئی کے افسوسناک سانحہ سے لے کر آج کے دن تک اس جماعت کا کردار دیکھیں تو نظر آئے گا کہ اتنا تضاد کسی اور سیاسی جماعت میں نہیں جتنا تحریک انصاف میں پایا جاتا ھے ۔وفاقی وزیر کا یہ بھی کہنا تھا چند دن پہلے تحریک انصاف نے کہا کہ مذاکرات کے دروازے کھلے رہتے ہیں مگر ایک بھی مثال ایسی نہیں ہے کہ جس کے حوالے سے اسمبلی میں اس کا اظہار کیا جا سکے۔ پی ٹی آئی کو اب پتا چلا ہے کہ سیاست میں مذاکرات بھی ھوتے ھیں۔ خواجہ محمد آصف نے عمران خان کی سیاست پر الزام لگاتے ھوئے کہا کہ تحریک انصاف نے سودے بازی میں حکومت میں توسیع کیلئے جنرل باجوہ کو توسیع کی پیشکش کی تھی ۔امریکا کو گالیاں دیتے تھے کہ غلامی نامنظور ھے اور اب امریکی لابی ہائر کرکے امریکہ کے ترلے کر رہےہیں۔ تحریک انصاف کو پارٹی وکلا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ عمران خان رجیم چینج کے بعد اپنے جلسوں کی تقاریر میں مسلسل نیوٹرل کو جانور ، اعلیٰ عسکری سپہ سالاروں کو میر جعفر ، میر صادق کے القابات سے پکارتے رہے ۔ ایک اعلیٰ عسکری قیادت کو ھیری ڈرٹی کے نام سے مخاطب کرتے رہے ۔لیکن یہ کتنی حیرانگی اور سوچنے کی بات ہے کہ ان کی اگلی صفوں میں سے زیادہ غدار نکلے ۔ ان کے فلمی انداز میں بڑھکنے لگانے والے سپاہی میر جعفر، میر صادق نکلے ۔ عمران خان اپنے دیوانوں کی خوب برین واشنگ کرچکے ھیں ۔ ان کو میر جعفر، میر صادق ھونے کا پختہ یقین اعتماد دلا چکے ہیں ۔ اس میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ عمران خان کے اسٹبلشمنٹ مخالف بیانیہ کو خوب عوامی حمایت اور پزیرائی ملی ۔ تحریک انصاف کا ھر ووٹر ، ھر سپوٹر اور ھر کارکن کے دماغ میں نفرت کا زھر پھیل چکا ہے ۔ عمران خان کا اسٹبلشمنٹ سے مذاکرات کرنے کی خواہش اور کوششوں سے پی ٹی آئی کے ووٹر پر کیا گزرے گی ۔ عمران خان دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کس منہ سے ، کس زبان سے اعلیٰ عسکری قیادت کی تعریف کرسکیں گے ۔ کیسے کہہ سکیں گے کہ تحریک انصاف کی حکومت اور افواجِ پاکستان ایک پیج پر ھے ۔ اسی طرح امریکہ سے دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کی بات کیسے کر سکیں گے۔ ملڑی اسٹبلشمنٹ اور تحریک انصاف یا عمران خان کا ایک پیج پر بظاھر تو بالکل ناممکن اور دیوانہ کا ایک خواب لگتا ھے ۔ کیونکہ سمندر کے دو کناروں کا آپس میں ملنا کسی صورت میں ممکن نہیں ہے ۔ یہ بلکل ناممکن لگتا ہے۔

نوٹ۔ ادارہ کا کالم نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ کالم نگار کی اپنی تحریر ہے

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button