پاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد کا نسیم صادق ٹو عظمت فردوس، فیصل آباد کی تاریخ سے اب تک، کس نے کیا کیا؟


کالم نگار۔ میاں ندیم احمد
فیصل آباد پاکستان کا مانچسٹر کہلاتا ہے کیونکہ یہ صنعتی شہر ہے، فیصل آباد آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ یہ ضلع، فیصل آباد، سمندری، جڑانوالہ، تاندلیانوالہ اور چک جھمرہ کی تحصیلوں پر مشتمل ہے۔
اس ضلع کے شمال میں حافظ آباد اور شیخوپورہ، مشرق میں ننکانہ اور ساہیوال، جنوب میں ساہیوال اوکاڑہ، مغرب میں جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے اضلاع واقع ہیں۔ ماضی میں یہاں بے آب و گیاہ تھا اور ہرسُو جنگل پھیلے ہوئے تھے۔
کہیں دیہاتی زندگی کے آثار تھے۔ جن کے باسیوں کو جانگلی کہا جاتا تھا اور اب بھی ایسے گاؤں ہیں جو جانگلیوں سے مشہور ہیں۔ اِسے ساندل بار کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ ساندل بار کی تہذیبی اور معاشرتی روایات اگرچہ اپنے پس منظر میں ہزاروں برس کی طویل تاریخ رکھتی ہیں لیکن ایک صدی پہلے تک اس ضلع کا شمار برصغیر پاک و ہند کے پسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا تھا۔ ساندل بار کی وجہ تسمیہ کے متعلق تین مختلف روایتیں ہیں۔ ایک یہ کہ دُلاّ بھٹی کے دادا کا نام بجلی خان عرف ساندل تھا، دوسری شاہکوٹ کی پہاڑیوں کے ڈاکو سردار کا نام بھی ساندل تھا اور تیسری یہ کہ جنگل کے چوہڑوں کے سردار کا نام چوہڑ خان عر ف ساندل تھا۔ ان تین میں سے کسی ایک کے نام پر یہ علاقہ ساندل بار مشہور ہوا۔
1885میں لیفٹیننٹ گورنر مسٹر جیمس لائل نے لاہور سے جھنگ شہر کی طرف سفر کرتے ہوئے تحصیل چنیوٹ میں شامل ساندل بار کے بے آباد مگر سرسبز و شاداب علاقے میں پکی ماڑی کے ایک گاؤں میں پڑاؤ کیا۔ ایک نوجوان انگریز انجینئر کیپٹن نیگ شھی اس کے ساتھ تھا۔ جیمس لائل نے پکی ماڑی میں چند روز کے قیام کے دوران گھوڑوں پر سوار ہو کر پکی ماڑی کے چاروں اطراف کئی کئی میل تک سفر کر کے اس علاقے کا جائزہ لیا۔ کنوؤں کے پانی کو چکھ کر دیکھا۔ کئی کئی میل کے فاصلے پر مقامی لوگوں نے کچے مکانوں پر مشتمل اپنے گھر تعمیر کر رکھے تھے۔ جیمس لائل نے ساندل بار کے اس علاقے کو زرخیزی کے باعث اس کو آباد کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس غرض سے پکی ماڑی سے جنوب مغرب کی طرف تھوڑے فاصلے پر نئے شہر کی تعمیر کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ شہر کی تعمیر سے پہلے نہر رکھ برانچ کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ دیہات بندی اور سڑکوں کی تعمیر شروع ہوئی۔ سانگلہ ہل سے شور کوٹ تک ریلوے لائن بچھانے کا اہتمام ہوا اور اس طرح دیہات بندی اور مختلف دیہات میں مشرقی پنجاب کے د یہات سے لوگوں کو زرعی رقبوں کی الاٹمنٹ کے منصوبے پر کام ہوتا رہا۔ سب سے پہلے 1890 میں جنگل کی کٹائی کرکے موجودہ گھنٹہ گھر کی جگہ کنواں بنایا گیا اور شہر کی بنیاد رکھی گئی 1892 میں نہر لوئر چناب کی تکمیل کے بعد بندوبست کا آغاز ہوا۔ 1895 میں ریلوے کا آغاز ہوا۔ 1899 میں ٹوبہ ٹیگ سنگھ اور 1900 میں خانیوال تک اسے ملا دیا گیا۔ جب شہر کی کچھ آبادیاں بھی معرضِ وجود میں آ چکی تھیں اور دفاتر بھی بن چکے تھے تو پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر سرجیمز بی لائل نے چک 212 کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس کی چار ایکڑ زمین کو لائل پور کا نام دیا گیا۔ لائل پور کے کالونائزیشن آفیسر سر کیپٹن پونام ینگ نے یونین جیک کی طرز پر سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کا نقشہ لائلپور کے لیے بنایا۔
1897ءمیں قیصری دروازے کی تعمیر ہوئی۔ یہ دروازہ لالہ موہن لعل خلف بہاری لعل نے ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی تقریبات کے موقع پر تعمیر کروایا تھا۔ قیصری گیٹ سے تقریباً ایک سو پچاس فٹ کے فاصلے پر گمٹی تعمیر کی گئی۔قیامِ پاکستان کے بعد کئی سالوں تک یہ گمٹی مسافر خانے کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ اس کے اطراف میں ’’برکت دریائے چنا ںدی‘‘ کے الفاظ درج ہیں۔ لائلپور کے آٹھ بازار اور ان آٹھ بازاروں کے دامن میں رہائشی مکانات 1898ء تک تعمیر کے مراحل میں تھے۔ ان بازاروں کے عین وسط میں گھنٹہ گھر تعمیر ہوا۔ اس کا افتتاح 14 نومبر 1903ء کو سر چارلس رواز گورنر پنجاب نے کیا۔ گھنٹہ گھر کی تعمیر کے لیے حکومت نے زمینداروں پر دو ٹکے کے حساب سے ٹیکس عائد کردیا تھا۔ اس پر کل چالیس ہزار روپے خرچ ہوا تھا۔ گھنٹہ گھر کی تعمیر انگریزی فن تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہے۔ اس کے چاروں طرف ریل بازار، جھنگ بازار، کچہری بازار، چنیوٹ بازار، بھوانہ بازار، امین پور بازار، منٹگمری بازار اور کارخانہ بازار تعمیر ہوئے۔ ان آٹھ بازاروں میں سے چار کُشادہ اور چار ذرا تنگ ہیں۔ اسکو برطانیہ کے پرچم سے بھی تشبیہ دی جاتی ہے۔ گھنٹہ گھر کی تعمیر تاج محل آگرہ بنانے والے معماروں کے خاندان کے ایک شخص گلاب خان کی نگرانی میں ہوئی۔ گھڑیال بمبئی کے ایک گھڑی ساز نے فراہم کیا تھا۔ شہر کا ڈیزائن ڈسمنڈ ینگ نے بنایا مگر ڈیزائن کو اصل صورت سر گنگا رام نے دی۔ پہلی بستی ڈگلس پورہ تھی ۔ لائلپور کو 1899ء میں درجہ دوم کی میونسپلٹی کا درجہ دیا گیا تھا۔ 1904ء میں اس کو میونسپل کمیٹی بنا دیا گیا تھا۔
کمیٹی کی حدود ۱۹۱۶۰ ایکڑ اراضی، شہر کی آبادی 9 ہزار اور ایک اینگلو ورنیکلر سکول تھا۔ اس وقت لائلپور تحصیل کی حیثیت سے ضلع جھنگ میں شامل تھا۔ 1902ء میں اسے ضلع کا درجہ دے کر سمندری ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور لائلپور کی تحصیلیں شامل کی گئیں جبکہ جڑانوالہ کو سب تحصیل کا درجہ دیا گیا۔ بعد ازاں جڑانوالہ کو بھی تحصیل کا درجہ حاصل ہو گیا۔ قیام پاکستان کے بعد ٹوبہ ٹیک سنگھ 1979ء میں ضلع بنا دیا گیا تو ضلع لائلپور کی حدود کم ہو گئی۔
ضلع کی بیس لاکھ ایکڑ اراضی بحساب کسان ایک مربع کاشتکار چار پانچ مربع اور زمیندار چھ سے بیس مربع تک تقسیم کی گئی۔ شہری اراضی ایک روپیہ فی مرلہ تک فروخت کی گئی۔ شہر میں زرعی تعلیم اور تحقیق کے فروغ کیلئے 1902ء میں زرعی کالج کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ کالج کی عمارت 1909ء میں مکمل ہوئی جس کو پنجاب ایگریکلچرل کالج اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا نام دیا گیا اور بعد میں اسے مغربی پاکستان زرعی یونیورسٹی اور ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ کے قیام کی صورت میں زرعی تعلیم اور تحقیق کے فروغ کے لیے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ 1910ء میں یہاں پرائمری سکول قائم ہوا جو آج کل ایم سی ہائر سیکنڈری سکول علامہ اقبال ٹاؤن ہے۔
1911ء میں لائلپور کی آبادی ۱۱ ہزار نفوس پر مشتمل تھی اور یہاں 11 جننگ فیکٹریاں تھیں۔ ۱۹۱۲ء میں کارونیشن لائبریری کا قیام ہوا جو موجودہ علامہ اقبال لائبریری ہے۔1934ء میں طلباء و طالبات کے کالجز وجود میں آئے۔ ۱۹۳۳ء میں لڑکوں کے کالج اور ۱۹۳۸ء میں لڑکیوں کے کالج کو ڈگری کا درجہ حاصل ہوا۔ اب لڑکوں کا کالج یونیورسٹی کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہاں جتنے سکھ اور ہندو آباد تھے، یہ سب نقل مکانی کرکے بھارت چلے گئے اور ان کی جگہ جالندھر، ہوشیار پور اور امرتسر وغیرہ کے علاقوں سے مسلمان آ کر آباد ہوئے۔ یوں شہر اور علاقے کی تہذیب و ثقافت نے ایک نیا رنگ اختیار کر لیا۔
قیامِ پاکستان سے پہلے جناح کالونی کی جگہ میلہ منڈی مویشیاں کے لیے مخصوص تھی۔ اسے 1950ء کے عشرے میں سمندری روڈ پر موجودہ علاقہ اقبال کالونی والی جگہ پر منتقل کیا گیا اور 1970ء کے عشرے میں اس سے آگے موجودہ بائی پاس کے پہلو میں منتقل کر دیا گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد غلہ مندی کو کارخانہ بازار اور ریل بازار کے درمیان سے ڈجکوٹ روڈ پر منتقل کر دیا گیا۔ قیامِ پاکستان کے وقت شہر کی آبادی آٹھ بازاروں سے باہر سنت پورہ، پرتاب نگر، ہرچرن پورہ، گورونانک پورہ، ماڈل ٹاؤن اور پکی ماڑی کے عقب میں طارق آباد کی کالونیوں تک پھیل چکی تھی۔
قیامِ پاکستان کے فوراً بعد نہر رکھ برانچ کے دوسری طرف پیپلز کالونی اور دیگر رہائشی علاقے تعمیر ہونا شروع ہو گئے۔ غلام محمد آباد، سمن آباد، ڈی ٹائپ کالونی، رضا آباد، افغان آباد، ایوب کالونی اور ناظم آباد کے رہائشی منصوبے 1950ء اور ۱۹۶۰ء کے عشروں میں تعمیر ہوئے۔ بعدازاں مدینہ ٹاؤن اور پیپلز کالونی کی رہائشی کالونیاں تعمیر ہوئیں۔ گلستان کالونی، گلفشاں کالونی، ملت ٹاؤن وغیرہ کی تعمیر سے شہر کا دامن چاروں اطراف میں کئی کئی میل تک پھیلا۔ تاج کالونی، منصورہ آباد، گلشن کالونی، سِدھوپورہ، خالد آباد، جناح کالونی، شاداب کالونی، راجہ کالونی، ماڈل ٹائون، علامہ اقبال کالونی، عبداللہ پور، واپڈا سٹی، طارق آباد، اسلام نگر، گل بہار، گلبرگ، شالیمار پارک، رچناٹائون وغیرہ اس کی اہم رہائشی بستیاں ہیں۔
1977ء میں سعودی عرب کے شاہ فیصل شہید کئے گئے تو حکومت پاکستان نے اظہار یکجہتی کیلئے شہر کا نام لائلپور سے تبدیل کرکے فیصل آباد رکھ دیا۔ 1981ء میں اسے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بنا دیا گیا اور اس میں فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور جھنگ کے اضلاع شامل کئے گئے۔ 2000 ء میں نئے ضلعی نظام کے قیام کے ساتھ ہی ڈویژنز ختم کر دی گئیں۔ 2008ء میں ایک بار پھر ڈویژنوں کو بحال کر دیا گیا تو فیصل آباد ڈویژن بھی دوبارہ قائم ہو گئی۔ 1959ء میںیہاں ٹیکسٹائل کالج اور اقبال اسٹیڈیم تعمیر ہوئے۔ پھر ملت کالج اور ایئرپورٹ بنے۔
1973ء میں پنجاب میڈیکل کالج کا قیام عمل میں آیا۔ 1974ء میں چیمبر آف کامرس اور پنجاب بیوریج کمپنی، 1975ء میں زرعی ترقیاتی کارپوریشن بینک اور 1976ء ایف ڈی اے اور واسا کا قیام عمل میں آیا۔ 1980ء میں پاکستان ٹیلی ویژن ری براڈ کاسٹنگ کا آغاز ہوا۔ 1983ء میں شہر کی آبادی ۱۵ لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ آج یہ ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ زرعی یونیورسٹی ، نیاب ، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ، بنجی اور فاریسٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ گٹ والا کی وجہ سے اسے سائنس سٹی بھی کہا جاتا ہے۔
یہ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کی یارن مارکیٹ ایشیاء کی سب سے بڑی یارن مارکیٹ ہے۔ضلع بھر میں تقریبا 400 سے زائد بڑے صنعتی کارخانے کام کر رہے۔ جن میں زیادہ تر سوتی کپڑے کے کارخانے ہیں۔ صنعت و تجارت کے لحاظ سے بھی فیصل آباد ملک میں تیسرے نمبر پر ہے۔ قیام پاکستان کے وقت یہاں دو درجن کے قریب چھوٹے بڑے کارخانے تھے۔ اب صنعتی یونٹوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہے۔کپڑے کی صنعت کے علاوہ آٹے، پٹ سن، بناسپتی گھی، خوردنی تیل، مشروبات، شکر، پلائی ووڈ، چپ بورڈ، مصنوعی کھاد، ہوزری، نشاستہ، گلو کوز، آرٹ سلک، ٹیکسٹائل مشینری، زرعی آلات اور کلاک تیار کرنے کے بہت سے کارخانے ہیں۔
صابن سازی کی صنعت بھی خاصی عروج پر ہے۔فیصل آباد کو قائد اعظم محمد علی جناح کی میزبانی کا شرف بھی حاصل ہے۔ قائد اعظم 1943ء میں تحریکِ پاکستان کے دوران یہاں تشریف لائے تھے اور دھوبی گھاٹ کے میدان میں ہزاروںمسلمانوں کے اجتماع سے خطاب فرمایا تھا۔
فیصل آباد گو کہ ایک صدی پرانا شہر ہے اور اس کی تہذیبی جڑیں زیادہ گہری اور قدیم نہیں ہیں۔ سائنس کے شعبے میں بین الاقوامی شہرت اختیار کرنے والے سائنسدان ڈاکٹر سعید اختر دُرّانی فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ سائنسی خدمات کے صِلے میں ستارئہ امتیاز سے نوازا گیا۔ یہاں کے ایک اور سائنسدان ڈاکٹر ایم اے عظیم ہیں۔آرٹسٹ ضیاء محی الدین، گلوکار مرحوم نصرت فتح علی خاں، راحت فتح علی خاں اور فلمی اداکارہ ریشم کا تعلق بھی فیصل آباد سے ہے۔ مرحوم نصرت فتح علی خاں نے قوالی اور مخصوص گائیگی میں منفرد مقام حاصل کیا اور بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔
فیصل آباد کی ترقی میں سیاستدانوں، بیوروکریسی، سول سوسائٹی، تاجروں، صنعتکاروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ پاکستان کی مختلف سیاسی پارٹیوں نے اپنی کئی تحریکوں کا آغاز بھی فیصل آباد سے کیا۔ فیصل آباد میں کئی کمشنر، ڈپٹی کمشنر تعینات رہے ہر کسی نے اپنے اپنے انداز میں اسکی خوبصورتی بڑھانے میں بھی کردار ادا کیا۔ فیصل آباد میں تعینات ہونے والے ڈی سی نسیم صادق جن کی ملازمت کا زیادہ عرصہ فیصل آباد میں ہی گزرا۔ انہوں نے اپنے کام اور کارکردگی کی بنیاد پر لوگوں کے دلوں میں گھر کرلیا تھا۔ نسیم صادق کے نام سے فیصل آباد کا بچہ بچہ واقف تھا۔ انہوں نے پیشہ ور بھکاریوں سے فیصل آباد کو پاک کیا۔ عبداللہ پور سے ٹرانسپورٹ کے اڈوں کا خاتمہ، جھال پل کے نیچے صفائی، اسٹیشن کے قریب ورکشاپس کا خاتمہ، جھمرہ چوک سے تجاوزات کے خاتمہ و دیگر منصوبے شامل تھے۔ انکے بارے میں مشہور تھا کہ وہ لوگوں سے کام لینا بھی جانتے اور لوگوں کے کام کرنا بھی جانتے اور حکومت کی رٹ کو بھی قائم کرنا جانتے تھے۔ وہ علی الصبح بازاروں کا دورہ کرتے دیگر افسران اپنے گھروں میں ہوتے وہ سڑکوں پر موجود ہوتے تھے۔ وہ جہاں بھی گئے اپنے نقش چھوڑ آئے۔ اسکے بعد کہا جا رہا ہے کہ ایک اور نسیم صادق فیصل آباد میں آگیا ہے۔ اب جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پورے پنجاب کو تجاوزات سے پاک کرنے کی ٹھان لی ہے تو فیصل آباد جو کاروبار کا مرکز ہے جہاں دوسرے شہروں سے بھی بیوپاری خریداری کرنے آتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر ہے۔ اسکے بازاروں سے بھی گزرنا محال تھا۔ دکانداروں نے اپنی دکان کے آگے والی سڑک ریڑھی، چھابڑی یا پھٹے لگانے والوں کو کرائے پر دے رکھی تھی۔ اور ہزاروں روپے ماہانہ کرائے کی مد میں اکٹھا کرتے تھے۔ اور سنا یہ جاتا تھا کہ کارپوریشن کا عملہ بھی اپنا پورا حصہ وصول کرتا تھا۔ دکاندرا اپنی دکان کے آگے کسی کو موٹر سائیکل، گاڑی پارک کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتے تھے۔
آٹھ بازاروں کیساتھ شہر کے دیگر علاقوں کو بھی تجاوزات سے پاک کرنے کا ٹارگٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور میوسنپل کارپوریشن کو سونپا گیا۔ کمشنر سلوت سعید نے بھی بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کی لیکن شاید فیصل آباد کے ن لیگی ٹکٹ ہولڈرز کے معیار پر پورا نہیں اتریں۔ اور وہ فیصل آباد سے رخصت ہو گئیں۔

عظمت فردوس ڈپٹی سی ای او میونسپل کارپوریشن کو فیصل آباد کی دوسری نسیم صادق کہا جا رہا ہے۔ جو ایک دبنگ، دلیر اور محنتی افسر ہیں۔ میری ملاقات انکے ساتھ مختلف این جی اوز کے پروگراموں میں ہوتی رہی، انکی تقریروں میں سچائی اور کام کرنے کا جذبہ جھلکتا تھا۔ میں نے انکو اپنے ریڈیو پاکستان ایف ایم 93 کے حالات حاضرہ پر مبنی معروف پروگرام رابطہ کیلئے مدعو کیا تو انہوں نے حامی بھر لی۔ اور لائیو پروگرام میں شرکت کی۔ پروگرام کے دوران بھی وہ بہت انہماک کیساتھ، پراعتمادی اور ایک حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر گفتگو کررہی تھیں اور میرے سوالوں کے جوابات کیساتھ ساتھ عوام کے لائیو سوالوں کے جوابات بھی دے رہی تھیں۔ پروگرام کے بعد غیر رسمی گفتگو کے دوران بھی ان میں جو مجھے سب سے زیادہ چیز نظر آئی وہ دلیری اور ایمانداری کا عنصر تھا۔ انہوں نے اپنے بارے بتایا کہ وہ چنیوٹ کے علاقہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتی ہیں۔
اب جبکہ تجاوزات کے خاتمہ کا ٹارگٹ بھی انکو سونپا گیا ہے تو وہ اسی دلیری کیساتھ کام کررہی ہیں جو ان میں نظر آرہی تھی، ایسے کام کرنے والے افسران کی اکثر ٹرانسفر ہوتی رہتی ہے کیونکہ وہ سیاستدانوں کو نہیں بھانپتے اور انکی من مرضی کے مطابق کام نہیں کرتے۔ وہ گھنٹہ گھر چوک میں اور دیگر بازاروں میں خود جا کر وزٹ کررہی ہیں اور اپریشن کی مانیٹرنگ بھی کررہی ہیں۔ گو کہ تاجروں اور دکانداروں کو وہ اچھی نہیں لگ رہیں اور انکی اس کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انجمن تاجران کے سربراہان بھی ان کے ساتھ میٹنگز کررہے ہیں تاکہ اس معاملے کو کسی طرح سلجھایا جائے۔ لیکن انکا کہنا ہے کہ وہ انکی ٹرانسفر کروا سکتے ہیں تو کروا لیں لیکن کام میں پیچھے نہیں ہٹوں گی۔
اگر فیصل آباد والے اپنے شہر کو مزید خوبصورت دیکھنا چاہتے ہیں تو نسیم صادق ٹو یعنی کہ عظمت فردوس کو کام کرنے دینا ہوگا اسکے کام کو تنقید نہیں تعریف کرنا ہوگی۔ معاملات کو الجھانے کی بجائے سلجھانے کی طرف لیجانا ہوگا۔ تاجروں کو بھی چاہئیے کہ وہ اس معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے تجاوزات کے خاتمے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں اور اپنے کاروبار کو پروان چڑھائیں۔
اسکے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کو بھی عظمت فردوس کیساتھ کھڑا ہونا ہو گا۔ بصورت دیگر جو شہر اب کھلا نظر آرہا ہے۔ سارے بازار تجاوزات سے پاک ہوگئے ہیں۔ آپ گھنٹہ گھر کھڑۓ ہوکر کچہری بازار کی طرف رخ کریں تو آپکو ضلع کونسل کی عمارت نظر آئے گی۔وہ دوبارہ اسی طرح ہو جائیں گے، اسی طرح پھر کارپوریشن کا عملہ منتھلیاں بھی وصول کرنا شروع کردیگا۔ اسی طرح گزرنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔ اور صاف ستھرا شہر ایک خواب ہی بن کر رہ جائے گا۔



