پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا سرکاری اقدام، حکومت پنجاب نے افرادِ باہم معذوری کیلئے جدید بایونک مصنوعی اعضاء کی فراہمی کا آغاز کر دیا


لاہور( 94 نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر "معذوری سے پاک پنجاب” پروگرام کے تحت افرادِ باہم معذوری کے لیے جدید مایو الیکٹرک بایونک مصنوعی اعضاء کی فراہمی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ منصوبہ سوشل ویلفیئر کے زیر اہتمام شروع کیا گیا ہے، جو پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا سرکاری اقدام ہے۔ بایونک مصنوعی اعضاء کی تقریبِ تقسیم میں صوبائی وزیر برائے سوشل ویلفیئر و بیت المال سہیل شوکت بٹ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں سیکرٹری سوشل ویلفیئر جاوید اختر محمود، ڈی جی سوشل ویلفیئر طارق قریشی اور ڈائریکٹر مزمل یار محکمہ کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔
تقریب کے دوران میڈیا کی موجودگی میں جدید بایونک مصنوعی اعضاء کی عملی تنصیب کا مظاہرہ کیا گیا۔ یہ مصنوعی اعضاء پٹھوں سے پیدا ہونے والے برقی سگنلز کے ذریعے حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور آرٹیفشل انٹیلی جنس پر مبنی ہیں۔ ان اعضا ءسے منسلک موبائل ایپ کے ذریعے افرادِ باہم معذوری کی پیش رفت کو مسلسل مانیٹر کیا جائے گا۔
پہلے مرحلے میں 173 افرادِ باہم معذوری کا انتخاب کیا گیا ہے، جن میں سے 32 افراد کو فوری طور پر مصنوعی اعضاء فراہم کیے جا رہے ہیں۔ قصور، فیصل آباد، گجرات، گوجرانوالہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع سے افرادِ باہم معذوری نے تقریب میں شرکت کی، جہاں انہیں مصنوعی بازو، ٹانگیں اور دیگر معاون آلات فراہم کیے گئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ نے کہا کہ آج کا دن وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن کی تکمیل کا دن ہے۔ محکمہ سوشل ویلفیئر کو وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن نے نئی روح بخشی ہے۔ معاون آلات، ہمت کارڈ اور مصنوعی اعضا کی فراہمی کے اہداف مقررہ وقت سے پہلے مکمل ہو چکے ہیں۔یہ منصوبہ افرادِ باہم معذوری کو باوقار، خود مختار اور فعال زندگی کی جانب لے جانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔



