کالم

نئے صوبوں کی تقسیم ، انتظامی ڈھانچہ کی تبدیلی ضروری ھے

94 نیوز کالم نگار۔ طارق محمود جہانگیری کامریڈ لاھور
پاکستان میں فی الحال کوئی نیا صوبہ باضابطہ طور پر نہیں بنایا گیا۔ البتہ انتظامی بہتری اور بہتر گورننس کے لیے ملک میں نئے صوبے بنانے کے لیے پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو تقسیم کر کے 12 سے 18 یا اس سے زائد نئے صوبے بنانے کی بحث اور تجاویز زیرِ گردش ہیں۔ پاکستان کے اس وقت چار صوبے ، وفاقی دارالحکومت اور گلگت بلتستان و آزاد کشمیر نیم خودمختار اکائیاں ہیں۔ حالیہ مہینوں کے دوران سیاسی حلقوں کی طرف سے یہ تجاویز سامنے آئی ہیں کہ بڑے صوبوں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو انتظامی بنیادوں پر چھوٹے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ترقی ممکن ہو سکے۔ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش تجاویز اور نقشوں کے مطابق پنجاب کو 4 سے 6، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو 3 سے 4 جبکہ سندھ کو 3 یا اس سے زیادہ حصوں میں تقسیم کرنے کی آراء دی جا رہی ہیں۔ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا سیل، عمران خان کے ویلاگرز نے نئے صوبوں کے حوالے سے ایک شور شرابہ اور ھنگامہ برپا کر رکھا ہے ۔ واضح رہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت اور طویل سیاسی و عوامی مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ابھی تک حکومتی سطح پر عملاً ایسا کچھ بھی دیکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ البتہ اتنا ضرور ھے کہ چار صوبوں کو 24 کروڑ پاکستانی عوام کے لیے ناکافی سمجھا جارہا ھے۔ یاد رہے کہ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں 2012 میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور کو صوبہ بنانے کی قرارداد منظور ہوچکی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی مبنیہ اطلاعات 32 نئے صوبے اور 33 ہائی کورٹس بنانے کی تجاویز سنائی دے رہی ہیں ۔ گزشتہ چھ برسوں میں پاکستان کی آبادی میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ افراد کا اضافہ ہوا ھے ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ اضافہ 16 فیصد بنتا ہے۔ پاکستان اب بھی 8 انتظامی اکائیوں اور 64 اضلاع پر مشتمل ہے۔ 2023 میں ملک کی آبادی 24 کروڑ 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی. جبکہ آبادی کی اوسط کثافت تقریباً 260 افراد فی مربع کلومیٹر ہے۔ شماریاتی اداروں کے مطابق گزشتہ 6 برسوں میں پاکستان کی آبادی میں تقریباً ساڑھے 3 کروڑ افراد کا اضافہ ہوا ھے ۔ اس آبادی کا 61 فیصد دیہی علاقوں میں 39 فیصد اسلام آباد، لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں رہتا ہے۔ بلوچستان پاکستان کے کل رقبے کا 48 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ لیکن اس صوبے میں ملک کی صرف 11 سے 12فیصد آبادی آباد ہے۔ بلوچستان ملک کا سب سے کمزور انفراسٹرکچر رکھتا ہے۔ اس صوبے کے 60 فیصد علاقے صاف پانی سے محروم ہیں۔ اس صوبہ میں فنڈز کی کمی مسلہ نہیں بلکہ اسے چلانے کے لیے انتظامی صلاحیت کا فقدان ہے۔ بلوچستان گیس اور معدنی وسائل سے مالا مال ہے۔ جو وفاقی خزانے کو بھرنے میں اہم کردار ادا کرتا ھے۔ بلوچستان کی محرومیاں، سندھ کے مالیاتی تحفظات ، کراچی و لاہور پر بڑھتا ہوا بوجھ ایک ہی بحران کی مختلف شکلیں ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق طاقتور حلقوں کی جانب سے انتظامی بہتری، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے 32 نئے صوبے بنانے کا ایک تفصیلی خاکہ اور پریزنٹیشن تیار کر لی گئی ہے۔ اس تجویز کے مطابق ملک کو مجموعی طور پر 33 انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ جس میں اسلام آباد بطور وفاقی دارالحکومت برقرار رہے گا۔ جبکہ چاروں صوبوں کی ڈویژنز کو صوبوں کا درجہ دیا جائے گا۔ مجوزہ منصوبے کے تحت نئی تقسیم کے بعد ملک میں 33 ہائی کورٹس قائم ہوں گی۔ جن میں مجموعی طور پر 137ججز فرائض انجام دیں گے۔ حکومتی دستاویزات کے مطابق اس اہم انتظامی تبدیلی سے قومی خزانے کو سالانہ 318 ارب روپے کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ عدلیہ کا موجودہ 56 ارب روپے کا بجٹ کم ہو کر 24 ارب روپے رہ جائے گا۔ نئے نظام میں فنانس سمیت 40 سے زائد محکمے مکمل طور پر صوبوں کو منتقل ہو جائیں گے۔ قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان کی کل تعداد آبادی کے تناسب سے اپنی چھوٹی صوبائی اسمبلیوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ نئے وزرائے اعلیٰ بننے سے چند مخصوص سیاسی خاندانوں کی اجارہ داری ختم ہوگی۔ اور مقامی سطح پر نئی سیاسی قیادت ابھر کر سامنے آئے گی۔ چھوٹے انتظامی یونٹس بننے سے وسائل نچلی سطح تک پہنچیں گے۔ جس کے نتیجے میں طرزِ حکمرانی بہتر ہوگا۔ لیکن اس نئے ڈھانچے کی ساخت و تشکیل کے لیے آئین میں بھاری ترمیم درکار ہو گی۔ اس حوالے سے قومی سطح پر وسیع اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہو گا۔ واضح رہے کہ آئین کی شق 239 کی ذیلی شق (4) نئے صوبوں کے قیام سے متعلق مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ نئے صوبوں کے قیام ،موجودہ صوبے کی حدود میں تبدیلی کا معاملہ آئینِ پاکستان کے تحت ایک واضح اور سخت قانونی طریقۂ کار سے مشروط ہے۔کسی بھی صوبے کی تقسیم یا حدود میں رد و بدل کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور پارلیمان دونوں کی منظوری ناگزیر ہے۔ یہ منظوری سادہ اکثریت سے نہیں بلکہ اسمبلی کے کل ارکان کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے دی جائے گی۔ آئینی ترمیمی بل کو پارلیمان سے بھی منظور کرانا ضروری ہوتا ہے۔ چونکہ صوبے کی حدود میں تبدیلی آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔ آئینی ترمیم کے لیے درکار دو تہائی اکثریت حاصل کرنا لازم ہے۔ آئینی طریقۂ کار کا مقصد وفاقی اکائیوں کے حقوق کا تحفظ اور صوبائی خودمختاری کو یقینی بنانا ہے۔ واضح رہے کہ 2018 میں 25 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے قبائلی علاقوں (فاٹا) کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا۔ اس ترمیم کے لیے تمام آئینی و قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کا معاملہ نیا نہیں بلکہ ماضی میں بھی اس معاملے پر گفتگو ہوتی رہی ہے۔ وفاقی وزیر محسن نقوی کے بیان کے بعد یہ معاملہ ایک مرتبہ زبان زدِ عام ہے۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ ہم جس نظام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ ناکام ہو چکا ہے۔ جب تک یہ نظام برقرار رہے گا۔ ملک کے حالات میں بہتری نہیں آئے گی۔ بعض سیاسی حلقوں میں بھی یہ آراء پائی جاتی ہے کہ پاکستان کے ہر صوبے کو انتظامی بنیادوں پر تین، تین حصوں میں تقسیم کر دینا چاہیے۔ کیونکہ شہریوں کو سرکاری کاموں کے لیے سینکڑوں کلومیٹر دور صوبائی دارالحکومتوں تک جانا پڑتا ہے۔ اس نئے انتظامی یونٹس بننے سے عوام کے مسائل گھر کی دہلیز پر حل ہوسکتے ہیں۔ وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کا بھی یہ کہنا تھا کہ پنجاب کے 4 سے 5, سندھ کے3 سے 4، خیبر پختونخوا کے 3 اور بلوچستان جو رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے. اس میں بھی مزید صوبے بنائے جانے چاہئیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک نقشے میں چاروں صوبوں کو 18 مختلف انتظامی یونٹس، چھوٹے صوبوں میں تقسیم دکھایا جارہا ھے۔ تاھم اس نقشے کی کسی حکومتی عہدیدار نے تصدیق نہیں کی۔ مسلم لیگ ن سمیت چند دیگر سیاسی جماعتیں خیبر پختونخوا میں ہزارہ صوبے کی حمایت کرتی ہیں۔ لیکن عوامی نیشنل پارٹی اس تجویز کی سخت مخالف ہے۔ وفاقی وزیر خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اس کی بنیاد لسانیت پر نہیں بلکہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ھونی چاہیے۔کراچی اور گوادر کو بھی وفاق کے ماتحت کیا جانا چاہیے۔ یہ سوال بڑا اھم ھے کہ کیا اس نئے فارمولے سے نظام کی بنیادی برائیاں ٹھیک ہو جائیں گی۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما قاسم گیلانی کا کہنا تھا کہ ہم 21 ویں صدی میں ملک کو ایسے نظام کے ساتھ چلانے کی کوشش کر رہے ہیں جو 19ویں صدی میں تیار کیا گیا تھا۔ وسعت اللہ خان سمیت متعدد سینئر صحافیوں نے تجویز دی ھے کہ نئے صوبے بنانے کا سلسلہ جنوبی پنجاب صوبے سے شروع کیا جائے۔ مگر جنوبی پنجاب کے لوگ خود ایسا نہیں چاہتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صوبے پہلے ہی بحران کا شکار ہیں۔ ایسے وقت میں نئے صوبے بنانے سے عدم استحکام میں اضافہ ہوگا۔ یہ رائے بڑی قابل غور ہے کیونکہ اصل مسئلہ گڈ گورننس کا ھے۔اختیارات مقامی حکومتوں کو اگر منتقل ہو جائیں تو سب کچھ بہتر ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں کسی بھی ایک سیاسی جماعت کے پاس دو تہائی اکثریت موجود نہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر اس معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔ یہ سوال بڑی اھمیت کا حامل ہے کہ کیا پاکستان میں نئے صوبے بننے چاہئیں؟ ایک مرتبہ پھر نئے صوبوں کی بات زور پکڑ رہی ہے۔ مختلف علاقوں سے یہ مطالبات سامنے آتے رہے ہیں کہ چاروں صوبوں کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرکے نئے صوبے قائم کیے جائیں۔ یہاں پر بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نئے صوبے بننے سے عوام کے مسائل حل ہو جائیں گے؟ بہت سے حساس پاکستانی شہریوں کا یہ خیال ھے کہ اگر نئے صوبے میں بھی تمام اختیارات ایک ہی شہر تک محدود رھے۔ سرکاری ادارے اسی طرح سے کمزور رھیں گے ۔ مقامی حکومتوں کو اختیار نہ دئیے گئے۔ تو نئے صوبوں کے فوائد عام شہری تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ اس لیے نئے صوبوں کی بحث کو صرف نقشے کی تبدیلی تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے لیے موجودہ انتظامی نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ھے۔ نئے صوبے بنانے کا مسلہ سیاسی شوشہ یا محض ایک سیاسی وعدہ نہیں ھونا چاھیے۔ بلکہ آسکو ایک بہت بڑا انتظامی سنجیدہ مسلہ سمجھ کر دانشمند فیصلہ کرنا چاہیے۔ نئے صوبوں کے ساتھ ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام کی بھی ضرورت ہے۔ نئے صوبوں کی تشکیل کسی سیاسی جماعت یا مخصوص شخصیت کی خواہش پر نہیں۔ بلکہ ایک واضح قومی پالیسی کے تحت ھونی چاہیے۔ اس لیے نئے صوبوں کے معاملے میں یکساں اصول ضروری ہیں۔ تمام فیصلے شفاف طریقے سے ہونے چاہئیں۔ اس پورے عمل میں نفرت، تعصب اور لسانی سیاست کو جگہ نہیں دی جانی چاہیے۔ ہر مسئلے کا حل صرف نیا صوبہ نہیں ہے۔ انتظامی ڈھانچے میں عوامی ضروریات کے مطابق تبدیلی ہونی چاہیے۔ نئے صوبے بننے کے بعد وسائل کے معاملے پر تنازعات پیدا ہوگئے تو فائدے کے بجائے نئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس لیے صوبہ بنانے سے پہلے وسائل کی تقسیم کا واضح اور قابل قبول نظام بنانا ضروری ہے۔ نئے صوبوں کی تعداد زیادہ ہونا کسی ملک کی ترقی کی ضمانت نہیں۔ نئے صوبوں کی بحث کو بھی جذباتی انداز کے بجائے قومی مفاد کے تحت دیکھی جانی چاہیے ۔ نئے صوبوں کی بحث کو سیاسی نعرے کے بجائے عوامی ضرورت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان اسمبلی اپنی مراعات و سہولیات کی خاطر چند لمحوں کے اندر اکھٹے ھو ھوسکتے ھیں تو ملک و قوم کے وسیع تر قومی مفادات کے لیے سیم پیج پر اکھٹے کیوں نہیں ھوسکتے؟

نوٹ: ادارہ کا کالم نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button