صدا کاری، اداکاری کا ایک اور باب ختم، نامور سینئر اداکار طلعت حسین طویل علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے


94 نیوز۔ کڑوا کھرا سچ کالم
طارق محمود جہانگیری کامریڈ
پاکستان ٹیلیویژن کے معروف اداکار، ریڈیو پاکستان کے بہترین صدا کار اور ہدایت کار طلعت حسین طویل علالت کے بعد 26 مئی 2024 کو انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 86 سال کے لگ بھگ تھی ۔ نامور اداکارطلعت حسین کے انتقال کی افسوسناک خبر اُن کی صاحبزادی تزین حسین نے اپنے آفیشل انسٹاگرام ہینڈل کی پوسٹ کے ذریعے دی۔ تزین حسین کا اپنی پوسٹ میں کہنا تھا کہ میں گہرے رنج و غم کے ساتھ یہ اعلان کررہی ہوں کہ میرے پیارے والد طلعت حسین صاحب خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اداکار طلعت حسین کی میت سرد خانے منتقل کردی گئی ہے۔ تادم تحریر ان کی نماز جنازہ کی ادائیگی کا اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا۔ یاد رہے کہ اداکار طلعت حسین صحت کی خرابی کے باعث کافی عرصے سے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ مرحوم فنکار کی بیٹی تزین حسین نے گزشتہ دن پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف سینیئر اداکار طلعت حسین کی طبعیت ناسازی کے بارے میں اطلاع دی تھی۔ حسیں وجمیل دوشیزہ تزین حسین کی جانب سے والد کیلئے مداحوں سے دُعا کی درخواست بھی کی گئی تھی۔ ایک نجی ٹی وی شو میں اپنے والد کے اسکرین پر نہ آنے کی وجہ بتلاتے ھوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد طلعت حسین ان دنوں شدید علیل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد کو اب یادداشت میں دشواری کا سامنا ہے۔ وہ اب ان لوگوں کو بھی یاد نہیں رکھ سکتے جن سے وہ مل رہے ھوتے ھیں ۔پاکستان ٹیلیویژن نے چند بہترین اداکار پیدا کیے ہیں۔ پاکستان میں پی ٹی وی کا دور اپنے بے مثال ٹیلنٹ کی وجہ سے سنہری دور کے طور پر جانا مانا جاتا ہے۔ طلعت حسین کا شمار بھی پی ٹی وی کے ایسے اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی اداکاری سے دنیا بھر میں اعلیٰ مقام بنایا ہے۔ مرحوم تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک فلاسفر اور فن کی دنیا کے دانشور بھی تھے۔ طلعت حسین اداکاری کے شعبے میں اکادمی کا درجہ رکھتے تھے۔ نیشنل اکادمی آف پرفارمنگ آرٹ میں ان کی خدمات قابل تعریف ، قابلِ ذکر ہیں۔ مرحوم طلعت حسین نے اپنی جاندار اداکاری سے فن کی دنیا اور شائقین کے دلوں میں جگہ بنائی ۔ پی ٹی وی، تھیٹر، فلم اور ریڈیو کیلئے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ شاید ھی کبھی پُر ہو سکے۔ پاکستان ٹیلی وژن اور ریڈیو پاکستان کی ڈراما انڈسٹری کے معروف شخصیت تھے۔ ان کی وجہ شہرت فنِ صداکاری ہے۔ انھوں نے ریڈیو ڈراموں میں صداکاری کی اور بے شمار کمرشل اشتہارات میں بھی صداکاری کی ۔ انکی اردو بہت ھی اچھی تھی ۔ اُردو زبان بڑی عمدگی سے بولتے تھے ۔ کیونکہ وہ بنیادی طور پیدائشی اھل زبان تھے ۔ اسی لیے ان کے لب و لہجہ میں شرینی ، شائستگی پائی جاتی تھی۔ تلفظ کی ادائیگی بہت ھی عمدہ تھی ۔ ان کا انداز گفتگو ، انداز بیاں ٹی وی کے مشہور زمانہ کمپیئر طارق عزیز سے بہت ھی ملتا جلتا تھا ۔ وہ ایک اعلی پائے کے صداکار تھے ۔ ان کی آواز میں بڑی کشش اور جادو پایا جاتا تھا ۔ جدید آڈیو ٹیکنالوجی اور حساس مائیک متعارف ھونے کی وجہ سے ان کی آواز، ان کی صداکاری میں اور بھی نکھار پیدا ھو گیا تھا ۔ ان کی خوبصورت پرکشش آواز سامعین کے کانوں میں رس گھولتی تھی ۔ محروم طلعت حسین پاکستان ٹیلی ویژن کے پہلے اور واحد آرٹسٹ تھے۔ جہنوں نے لندن اکیڈمی آف میوزک اینڈ ڈرامیٹک آرٹ اکیڈمی سے اداکاری کا فن سیکھا تھا اور باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی ۔ لندن میں اداکاری کی اعلیٖ تعلیم کے دوران انھوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ ملازمت بھی کی۔ ان کو بی بی سی اردو سروس میں تھوڑا بہت کام کرنے کا موقع تو مل گیا تھا مگر یہ ان کے گذر بسر کے لائق نہ تھا۔انہوں نے کچھ عرصے ویٹر کا کام بھی کیا جوکہ انہیں مجبوری کی حالت میں کرنا پڑا۔ یہ کوئیں اتنی بری بات نہیں ہے ۔ مغرب میں قریباً سبھی پاکستانی یہی کام کیا کرتے ھیں ۔ یورپ ، انگلستان اور امریکا میں ویٹر کے کام کو برا یا حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔ مشہور و معروف صداکار ، پی ٹی وی اداکار طلعت حسین بھارت کے شہر دہلی میں 16 ستمبر 1940 میں پیدا ہوئے تھے۔ طلعت حسین کا تعلق پڑھے لکھے اور روشن خیال گھرانے سے تھا۔ان کے والد تقسیمِ ہندسے پہلے سرکاری ملازم تھے۔ اور والدہ ریڈیو پر شوقیہ پروگرام کیا کرتی تھیں۔ طلعت حسین کے علاوہ ان کا ایک اور بھائی بھی تھا یہ لوگ دہلی سے ہجرت کر کے 1951 میں پاکستان آئے تھے ۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر انھوں نے کام کا آغاز 1967ء سے کیا۔ انھوں نے پاکستان کے باہر بھی کئی چینلز پر اداکاری کی۔ 1971ء کی جنگ کے دوران ریڈیو پر ایک پروگرام کیا تھا۔ اس پروگرام کا نام’’کیا کرتے ہو مہاراج‘‘ تھا۔ جو کہ 1965 کی جنگ ختم ہونے تک جاری رہا۔

1972ء میں ان کی شادی پروفیسر رخشندہ سے ہوئی۔ ان کے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ مرحوم اداکار طلعت حسین کے یادگار شاندار مشہور ڈراموں میں طارق بن زیاد، بندش، دیس پردیس، فنون لطیفہ، ہوائیں ،اک نئے موڑ پہ، پرچھائیاں، انسان اور آدمی ،رابطہ، نائٹ کانسٹیبل ، درد کا شجر اور کشکول شامل ہیں۔ پی ٹی وی چینل کی مشہور و مقبول ڈراما سیریز "ھوائیں ” میں طلعت حسین نے لاجواب اداکاری کی ، اور اپنی بہترین فنی صلاحیتوں کا خوب مظاہرہ کیا ۔ پرچھائیاں ڈراما میں بھی اپنے فن اداکاری کے جوھر دیکھائے۔ پی ٹی وی کے دونوں ڈراموں میں بڑی خوبصورتی اور مہارت سے اپنے کردار ادا کئے ۔ مرحوم طلعت حسین نے ڈراموں کے ساتھ ساتھ فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ھیں ۔ اداکار طلعت حسین سے میری پہلی بالمشافہ ملاقات ایورنیو اسٹوڈیو لاھور کے فلور پر پرویز ملک کی فلم گمنام کے سیٹ پر ھوئی تھی ۔ اردو فلم حساب میں بھی انہوں نے کام کیا ۔ پرویز ملک ھماری فلم انڈسٹری کے سینئر ھدایات کار تھے ۔ انہوں نے بہت سی کامیاب سپرھٹ فلمیں بنائیں۔ جن میں ، سوغات ، پہچان ، قربانی اور ارمان فلموں کے نام قابل ذکر ہیں ۔ فلم سٹار وحید مراد ، موسیقار سہیل رانا، پرویز ملک نہ صرف ھم جماعت تھے بلکہ پچپن کے لنگوٹیا یار اور گہرے دوست بھی تھے ۔ مرحوم طلعت حسین کی فلموں میں چراغ جلتا رہا، گمنام،انسان اور آدمی،جناح ، قربانی ،سوتن کی بیٹی (انڈین)، اشارہ ،آشنا، بندگی، محبت مر نہیں سکتی شامل ہیں ۔ محبت مر نہیں سکتی میں انہوں ایک جزباتی کردار بڑی خوبصورتی سے نبھایا۔ طلعت حسین کو بہترین اداکاری کے اعتراف میں 1983 سے 1985تک تمغہ حسن کارکردگی برائے فنون سے بھی نوازاگیا۔ اداکار طلعت حسین بلا مبالغہ اپنی نوعیت کے سب سے منفرد اداکار تھے۔انہیں محض لیجنڈ کہہ دینا کافی نہ ہو گا کیونکہ وہ فن کی یونیورسٹی، سکول آف تھاٹ ، اور ایک آرٹ اکیڈمی تھے ۔نامور اداکار طلعت حسین نے آج سے کچھ عرصہ پہلے اپنے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ماضی کے ڈرامہ نگار معاشرے کے سلگتے مسائل پہ بات کرتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں ھو رھا ھے۔ واضح رہے ک طلعت حسین گلوکاری اور پینٹنگ میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ اداکاری شعبے کے علاؤہ کئی اہم دستاویزی فلموں اور کمرشلز میں پس پردہ آواز کا جادو بھی جگایا۔ طلعت حسین دو مرتبہ قرآن پاک کا ترجمہ ریکارڈ کرانے کا اعزاز بھی حاصل کرچکے ہیں۔ بہت کم فنکار ایسے ہیں جن کو تلفظ کی ادائیگی پر عبور حاصل ھے۔ طلعت حسین لفظوں کی ادائیگی میں بھر پور صوتی تاثرات کا خیال رکھتے ہیں۔ طلعت حسین نے ناظرین کے دلوں پہ اپنی اداکاری کے وہ نقش ثبت کئے کہ انہیں کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا ھے۔ ’’ارجمند‘‘ ڈراما ان کی فنی صلاحیتوں کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ آن کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ تھیٹر آرٹس پڑھنے کے ساتھ مجھے برطانیہ کے بڑے نشریاتی ادارے میں کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ یہ اس لحاظ سے یادگار ہے کہ میں نے نہایت ہی پروفیشنل ماحول میں کام کیا اور بہت کچھ سیکھا اور پھر اس کا فائدہ میں نے پاکستان میں آکر خوب اُٹھایا۔ میرا ٹارگٹ تھیٹر آرٹس میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس آنا تھا۔ اس لئے جونہی ہی تعلیم مکمل ہوئی میں وطن آگیا۔ بچپن کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ مجھے گلوکار بننے کا شوق تھا۔والد صاحب نے ہارمونیم بھی لا کر دیا لیکن والدہ کو یہ پسند نہیں تھا۔یوں مجھے یہ شوق ترک کرنا پڑا۔پھر میں پینٹنگ کی طرف راغب ہوگیا۔ اگر میں ایک مقابلے میں ہار نہ جاتا تو شاید آج پینٹر ہوتا۔والد صاحب کی یہ خواہش بھی تھی کی میں لٹریچر خوب پڑھوں۔وہ مجھے انگریزی ناول لا کر دیتے تھے بس یہیں سے پڑھنے کا شوق ہوا۔ ابتدائی زندگی کے بارے میں طلعت حسین کا مزید کہنا تھا کہ میرے والدکی پوسٹنگ راولپنڈی میں ہو گئی تھی۔اس وقت میری عمر دو یاتین سال تھی۔ہم نے بڑی مشکل سے اپنا سامان بچا کر پنڈی بھجوایا اورخود کراچی کے راستے پاکستان پہنچے تو پتہ چلا کہ والد صاحب کو کراچی میں تعینات کر دیا گیا تھا۔ ان کا سارا سازوسامان پنڈی میں لٹ چکا تھا۔والد صاحب کو اس نقصان سے بہت صدمہ پہنچا اور وہ بیمار رہنے لگے۔ بعد میں ان کو دمے کا مرض لاحق ہو گیا۔ انہی دنوں کراچی ریڈیو کا آغاز ہوا تو میری والدہ نے وہاں ملازمت کر لی اور آخر دم تک ریڈیو سے وابستہ رہیں۔طلعت حسین کا کہنا تھا ک میری والدہ اس شوبز کی دنیا میں آنے کے سخت خلاف تھیں۔ وہ بالکل نہیں چاہتی تھیں کہ میں یہ کام کروں بلکہ ان کی خواہش تھی کہ میں سول سروس میں جاوں ۔ پھر میرے ماموں اور والد نے سمجھایا کہ اگر یہ کام کرنا چاہتا ہے تو کرنے دیں تو وہ مجھے ریڈیو لے کر گئیں ۔میرا آڈیشن کرایا۔اس زمانے میں بچوں کے لئے ایک پروگرام ہوا کرتا تھا۔’’اسکول براڈ کاسٹ‘‘ جس میں تعلیمی نصاب پر مبنی ڈرامائی فیچر ہوا کرتے تھے۔ میں نے کام کرنا شروع کیا۔داد ملتی گئی اور لوگ پسند کرنے لگے۔پھر میں نے اسٹوڈیو 9 میں کام شروع کردیا۔ طلعت حسین کا قرآنِ پاک کاترجمہ کے بارے میں کہنا تھا کہ میں نے رمضان المبارک میں دو مرتبہ قرآنِ پاک کا ترجمہ ریکارڈ کرایا اور روزانہ ایک سپارہ تلاوت کیا کرتا تھا۔ طلعت حسین سے دو تین مرتبہ مخلتف ایف ایم ریڈیو یونٹ پر بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔ طلعت حسین اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اداکاری میراجنون ہے۔ پروفیشن نہیں ہے۔میرا ہمیشہ سے یہ اصول رہا ہے کہ میں نے کبھی ایسا ڈرامہ یا کردار نہیں کیا جو مجھے پسند نہ ہو۔جب بھی کام کیا اپنی پسند سے کیا ھے ۔طلعت حسین پہلے اور آج کے ڈرامے میں فرق کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ایک زمانہ تھا کہ انڈیا میں پونا اورد ہلی کی اکیڈمیز میں ہمارے ڈرامے دکھا کر اداکاری کی تربیت دی جاتی تھی۔ہمارا سکرپٹ اورموضوع بہت ھی مضبوط ہوا کرتا تھا۔ لیکن افسوس کہ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ہمارے لوگ انڈیا کے ڈراموں اور فلموں کی نقالی کرنے لگے۔ جس نے ڈرامے کی شکل ہی بگاڑ دیا ۔انڈیا کو کاپی کرنے کی وجہ سے ہمارے ڈرامے اور فلمیں فلاپ ہو گئیں۔ ہمارے یہاں اب بیسیوں چینل ہیں اور سب پر ڈرامے دکھائے جاتے ہیں۔ مگر ڈراما نگار بہت کم ہیں۔ طلعت حسین اکثر یہ شکوہ کیا کرتے تھے کہ ہم نے انڈیا کے گلیمر کو کاپی کرنے کے چکر میں ڈرامے کی شکل ہی بگاڑ دی ہے۔ ہمارا ڈرامہ کچھ بہتر ضرور ہوا ہے لیکن اپنے اصل کی طرف لوٹنے میں اِسے کافی وقت لگے گا۔ بہرحال اچھی بات یہ ہے کہ ہر طرح کے موضوع پر ڈرامہ بن رہا ہے۔ ویسے اچھا اور برا کام تو ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔طلعت حسین کہا کرتے کہ ہمارے زمانے میں رائٹرز کو کھلی آزادی تھی۔ رائٹرز اپنی مرضی سے کہانی لکھتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اتنے زیادہ چینلز اور24 گھنٹے کی ٹرانسمشن کا میں قائل ہی نہیں ہوں۔ زیادہ سے زیادہ 5 یا چھ چینل ہونے چاہئیں۔ پرانی خبریں بار بار دکھائی جاتی ہیں۔انٹرنیشنل نیوز تو یہ لوگ لیتے نہیں ہیں۔ قتل و غارت گری اور کرپشن پر مبنی خبریں سن سن کرلوگوں میں لا تعلقی بڑھتی جا رہی ہے۔لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ یہ برائیاں تو ہمارے معاشرے کا معمول ہیں۔ بڑے عرصے پہلے کی بات ہے پی ٹی وی کے فلور پر ایک ڈراما سیریز کی ریکارڈنگ کے دوران ایک فلسفی بات کی تھی ۔ ریڈیو ، ٹی وی کے موسٹ سینئر آرٹسٹ نذیر حسینی بھی اس وقت میرے ھمراہ تھے ۔ نذیر حسینی میرے بزرگ دوست اور رانما تھے ۔ 9 جون 2005 میں انتقال فرما گئے ۔ طلعت حسین نے کہا تھا کہ اداکاری کی صلاحیتیں پیدائشی ہوتی ہیں۔تربیت سے ان کو صرف پالش کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے با صلا حیت لوگ سامنے آجاتے ہیں۔ مجھے جو کچھ آتا ہے وہ سکھانے کی کوشش کر تا ہوں۔ہمارے ہاں ٹیلنٹ بہت ہے جس کے باعث بہت اچھے اداکار اور ہدایتکار سامنے آرہے ہیں۔پوری دنیا میں اداکاری کی تربیت کے لئے ڈرامیٹک اکیڈمیز موجود ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں تو صرف ایک نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس ہی ہے۔طلعت حسین نے ایک موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ویسے تو میرے کریئر میں کئی یادگار پراجیکٹس ہیں تاہم ’’انسان اور آدمی‘‘ ایک ایسا ڈرامہ ہے جس نے کامیابی کے ریکارڈ توڑ ڈالے تھے۔ اس کا حصہ بننا یقینا میرے لئے یادگار ہے۔ اس کہانی پر بعد میں فلم بھی بنائی گئی۔ طلعت حسین کا ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی ازدواجی زندگی و تعلقات کے بارے میں کہنا تھا کہ
میں یونیورسٹی میں پڑھتا تھا تو مجھے بیگم صاحبہ نظر آگئیں۔اس زمانے میں وہ سائیکا لوجی میں ماسٹرز کر رہی تھیں۔مجھے اچھی لگیں۔میں نے انہیں اپنی والدہ سے ملوایا۔انہیں پسند آگئیں پیغام بھجوایا اور یوں شادی طے ہوگئی۔اس زمانے میں ہم یونیورسٹی میں ملا کرتے تھے۔بہت پڑھی لکھی خاتون ہیں۔ماسٹرز کرنے کے بعد یونیورسٹی میں پڑھانے لگی۔ ہیڈ آف سائیکالوجی کی حیثیت سے ریٹائر ہوچکی ہیں۔ میں نے ھمیشہ کوشش کی کہ کبھی ایسا کوئی کام نہ کروں جس سے بیگم کی دل آزاری ہو۔طلعت حسین کی رائے میں اہمیت صرف کام کی ہوتی ہے۔کام میں پرفیکشن ھونا بہت ضروری ھوتا ھے۔جس کا کام اچھا ھوتا ھے وہی بڑا ایکٹر کہلاتا ہے ان کا کہنا تھا کہ دلیپ کمار، چندر موہن بہت اچھے ایکٹر تھے۔ یاد رہے کہ طلعت حسین کی بیٹی تزین حسین جوکہ خوبصورت اور پرکشش شخصیت کی مالک بھی ہیں ۔ انہوں نے بھی کچھ ماہ اداکاری کی لیکن اس کے بعد وہ بہت جلد ھی شوبزکی دنیا سے الگ ہوگئیں۔ کیونکہ ان کیلئے گھر ھی اسکی پہلی ترجیح تھی ۔اس لئے اس نے اداکاری چھوڑ دی۔طلعت حسین نے بہت سے ایوارڈ حاصل کئے ۔ پرائڈ آ ف پرفارمنس سمیت بہت سے اور بھی ایوارڈ شامل ہیں ۔ناروے کی ایک فلم ’’ایکسپورٹ‘‘ تھی یہ فلم نارویجن زبان میں تھی۔ طلعت حسین کو اس فلم کے لیے سکینڈی نیویا کا آسکر ایوارڈملا تھا۔ واضح رہے کہ طلعت حسین کی بیگم راولپنڈی کی رھنے والی ھیں کہا جاتا ہے کہ وہ رنگ و نسل کے لحاظ سے پنچابی ہیں۔ اسی طرح ان کے والد کے متعلق بھی یہی کہا جاتا ہے کہ وہ کشمیری پنجابی تھے۔ لیکن میری رائے میں یہ درست نہیں ھے ۔ طلعت حسین کے والد دہلی کے تھے ان کی مادری زبان اردو ھی تھی ۔ وہ نسلا کشمیری تھے نہ ھی ان کا تعلق امرتسر کے امبر سری کشمیریوں سے تھا ۔ میر تقی میر،غالب اور علامہ اقبال طلعت حسین کے پسندیدہ شاعر تھے ۔ پی ٹی وی چینل سے وابستہ یادوں کے بارے میں طلعت حسین کہا کرتے تھے کہ ہم نے جو وقت گزارا وہ صحیح معنوں میں سنہری دور تھا۔ہر کوئی اپنے کام میں مگن ہوتا تھا۔کسی کا کسی سے جھگڑا نہیں ہوتا تھا۔اس دور میں ہنر اور محنت ہی آرٹسٹ کی اصل کمائی ہوتی تھی ۔ ہمارے دور میں اصلاحی اور سبق آموز تھیٹر تھا۔ لیکن میں اُمید کرتا ہوں کہ تھیٹر کے حالات ایک مرتبہ پھر بہتر ہو جائیں گے اور یہاں سے ایک مرتبہ پھر منجھے ہوئے اداکار نکلیں گے ۔ آج کل کے اداکار بہت اچھا کام کررہے ہیں۔ ایک ہی وقت میں، ایک ہی دِن دو دو ، تین تین جگہوں پر شوٹنگ کرانا آسان نہیں ھے۔ البتہ آج کام کے تقاضے بدل گئے ہیں، اس لئے آرٹسٹ کو قصور وار ٹھہرانا مناسب نہیں ھے۔ اداکار طلعت حسین ایک ملنسار ، محبت و پیار کرنے والے ایک شفیق انسان بھی تھے ۔ ان میں اور بھی خوبیوں پائی جاتی تھیں وہ کبھی کسی بات سے تنگ نہیں ھوتے تھے ۔ شیڈول کے مطابق مقررہ کردہ وقت پر اسٹوڈیو اور فلور پر آتے تھے۔ پرفیشنل انداز میں کام کیا کرتے تھے۔ طلعت حسین کا آج کے ڈراما نگاروں، آج کے لکھاریوں سے درست شکوہ کرتے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ ماضی میں جو لوگ ڈرامہ لکھتے تھے اس میں معاشرے کے سلگتے ہوئے مسائل کو آجا کیا جاتا تھا۔ جبکہ آج کل ایسا نہیں ھورھا ھے۔ گزشتہ چند سال کے دوران جو لکھاری آئے ھیں اُنہوں نے صرف کمرشلزم کیلئے ڈرامے بنائے ھیں۔ ایک وقت تھا جب ریڈیو تہذیب کا ادارہ کہلاتا تھا۔ ریڈیو کے تجربہ کار صداکار ٹیلی ویژن ڈراموں میں اداکاری کے لیے آتے تھے ۔ اس لیے پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈراموں کا معیار بہترین اور اداکاروں کی اداکاری لاجواب یادگار شاندار ھوتی تھی ۔ ریڈیو ، پی ٹی وی چینل پر سیاسی باتوں کے علاوہ اور کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ اس بات کاخیال رکھا جاتا تھا کہ جو ڈرامہ بڑے عمر کے سامعین سن رہے ہیں۔ بچے بھی وھی سن رہے ہیں۔ اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کا خیال رکھا جاتا تھا۔ آج کے دور میں مارکیٹنگ پر چھائے ہوئے لوگ ڈرامہ انڈسٹری کو چلا رہے ہیں۔ اُنہیں تہذیب و تمدن یا ثقافت سے کوئی غرض نہیں ھے۔ انہیں صرف پیسہ کمانے سے مطلب ہے۔ وہ صرف اپنا ڈرامہ بیچ کر روپیہ کمانا چاہتے ہیں۔بھارت فلم انڈسٹری نے پوری دُنیا میں اپنی فلموں کا جال بچھایا ہوا ہے۔ اپنی فلموں کی مارکیٹ بنائی ھوئی ھے۔ بھارت پوری دُنیا کے سینما گھروں پرچھا گیا ہے۔ دُنیا بھارتی فلمیں دیکھنے کے بعد یہ رائے قائم کرنے پر مجبور ھو جاتی ھے کہ یہ تو بڑے اچھے لوگ ہیں ۔ آچھا لکھنا طلعت حسین کی خواہش اور دلی تمنا و حسرت رھی ھے ۔ آج ھر چینل کی خواہش ہوتی ہے کہ فلاں ہٹ سیریل جیسا ڈرامہ بنایا جائے
اس چکر میں پاکستان ڈراما انڈسٹری یکسانیت کا شکار ہوگئی ہے۔ معروف اداکارطلعت حسین کچھ عرصہ سے ذہنی بیماری ڈیمنشیا کا شکار تھے اور انہیں سینے میں بھی انفیکشن تھا۔ ڈیمنشیا کی وجہ سے ان کی یادداشت متاثر ہو گئی تھی کبھی کبھی اُنہیں لوگوں کو پہچاننے میں مشکل آتی تھی۔ طلعت حسین آج ھم میں نہیں رہے ہیں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ محروم طلعت حسین کی لغزشوں کو معاف فرمائے ۔ ان کی مغفرت و بخشش فرمائے ۔ مرحوم کے اھل خانہ اور سب سوگواران کو صبرِ جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین رب العالمین


