سینئیر صحافی کا لرننگ لائسنس معمہ بن گیا، ٹریفک پولیس لائسنس بنانے سے انکاری، کروڑوں روپے لائسنس کی اجراء کی تشہیر پر ضائع کئے جا رہے، شوکت سلطان بٹ صحافی


فیصل آباد (94 نیوز) سرکاری محکمے کا کوئی افسر تبدیل ہوجائے تو کیا اسکے جاری کردہ احکامات منسوخ ہوجاتے ہیں؟ یہ بات جواب طلب ہے کہ اس امر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مقامی صحافی شوکت سلطان بٹ اپنا لرننگ ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کیلئے سی ٹی او آفس گئے،جن کو متعلقہ سٹاف نے ڈی ایس پی ٹریفک محترمہ زاہدہ پروین کے پاس بھیج دیا جنہوں نے درخواست دہندہ کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ( الائیڈ ٹو )سے رجوع کرکے میڈیکل بورڈ سے ڈرائیونگ فٹنس سرٹیفکیٹ لانے کیلئے لیٹر نمبر 1662جاری کردیا جس کے تحت فٹنس سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے مذکورہ صحافی متعدد بار ہسپتال گیا لیکن وہاں پر میڈیکل بورڈ ہی نہیں بنا ہوا تھا ایک عرصہ کے بعد جب میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تو وہاں سے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے میڈیکل سرٹیفکیٹ حاصل کرکے جب دوبارہ ٹریفک آفس ڈرائیونگ لائسنس کیلئے رجوع کیا تو انہوں نے دوبارہ ڈی ایس پی ٹریفک کے پاس جانے کو کہا جب مذکورہ صحافی ڈی ایس پی محمد خالد علیم کے ماتحت عملہ انسپکٹر ذیشان اور سب انسپکٹر عظیم سے رابطہ کیا تو انہوں نے ہسپتال سے جاری کردہ فٹنس سرٹیفکیٹ کو یہ کہہ کر تسلیم کر نے سے انکار کردیا کہ جس خاتون ڈی ایس پی کے احکامات پر یہ لیٹر جاری ہوا تھا وہ یہاں سے ٹرانسفر ہوچکی ہیں اس لیے اس کی اتھارٹی بھی ختم ہوگئی ہے،حالانکہ مروجہ قوانین کے تحت ان کو یہ فٹنس سرٹیفکیٹ تسلیم کرکے صحافی مذکورہ کو ڈرائیونگ لائسنس کا اجراء کردینا چاہیے تھا لیکن وہ بلا جواز حیل وحجت کرکے اصل قانون کی بجائے انہوں نے محکمہ کے قانون کو موم کی ناک بنادیا ہے وہ صرف اس طرح پریشان کرکے حق خدمت لینا چاہتے ہیں۔ شوکت سلطان بٹ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کیونکہ وہاں پر سارا دن رشوت کے عوض لائسنسوں کا اجراء ہورہاہے اسی لئے انہیں لائسنس جاری نہیں کیا جا رہا،صحافی نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، صوبائی وزیر قانون، آئی جی پنجاب، ایڈیشنل آئی جی ٹریفک سے اپیل کی ہے کہ ان کو بلا تاخیر لائسنس جاری کر نے کے احکامات جاری کئے جائیں اور بلاجواز لائسنس کے اجراء میں رخنہ اندازی کر نے کے ذمہ دار ڈی ایس پی کے ماتحت سٹاف انسپکٹر ذیشان اور سب انسپکٹر عظیم کیخلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔



