سانحہ 9 مئی یوم سیاہ باب، تحریک انصاف کیلئے 11-9 ثابت ہورھا ھے


94 نیوز طارق محمود جہانگیری کامریڈ
8 فروری کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف اب پارلیمانی طور پر سنی اتحاد کونسل بن چکی ہے۔ 9 مئی کے افسوسناک حادثہ کے بعد تحریک انصاف کے کئی سرگرم سیاسی راہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں ۔ بیشتر نے سیاست سے کنارہ کشی اور علحیدگی اختیار کر لی ہے ۔ کچھ نے دوسری سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرلی۔ پی ٹی آئی 8 فروری کے عام انتخابات کو سانحہ فروری کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ پی ٹی آئی اور اس کے ووٹرز یہ دعوے کرتے ہیں ھیں کہ حالیہ ٹریکی انجنئیرڈ فارم 47 انتخابی نتائج کے باوجود پی ٹی آئی اب بھی ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے بیانات کو سنجیدگی کی نظروں سے نہیں دیکھا جارہا ہے ۔ پی ٹی آئی ووٹرز ان مذاکرات کے حق میں دیکھائی نہیں دیتے ہیں ۔ کیونکہ ان کے نزدیک 9 مئی کا حادثہ لندن پلان کے حصہ ھے۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ اور صدر پاکستان محمد آصف علی زرداری کی رائے ھے کہ 9 مئی کے واقعات سے ملک کا تاثر بُری طرح متاثر ہوا ہے ۔ چیرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے کہنے کے مطابق مہذب معاشروں میں 9 مئی قسم کے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں ھے ۔ ماضی قریب پر اگر ایک سرسری نظر ڈالیں تو یو یوں لگتا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک چیلنج بن چکی تھی۔ سانحہ 9 مئی 2023 سے قبل مارچ 2023 میں جب اسلام آباد پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے ان کی لاہور رہائش گاہ زمان پارک پہنچی تو اس کو ایک مشتعل ہجوم کا سامنا کرنا۔ اس تصادم کے نتیجے میں جانی اور مالی طور پر ایک بڑا نقصان ہوا۔ 18 مارچ 2023 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت احاطہ کو مشتعل مظاہرین نے گھیر لیا تھا ۔ یاد رہے کہ 9 مئی کو عمران خان جی 10 میں واقع اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت میں ضمانت کے حصول کے لیے آئے تو قومی احتساب بیورو نے پاکستان رینجرز کی مدد سے عمران خان کو گرفتار کر لیا۔ عمران خان اس وقت بائیو میٹرکس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ احاطے کے ایک دفتر میں موجود تھے جہاں سے رینجرز اہلکاروں نے کھڑکی کا شیشہ توڑ کر انہیں گرفتار کر لیا تھا۔ عمران خان کو القادر ٹرسٹ مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عمران خان اپنے مشتمل پیروکاروں کی اشتعال انگیزی کو فلمی متکبرانہ انداز میں دیکھتے رہے ۔ عمران خان سے یہاں پر ایک سنگین غلطی سرزد ہوئی ، انہیں اپنے جزباتی دیوانوں کو صبر کی تلقین اور ھدایت کرنی چاہیے تھی ۔ اگر وہ یہ عمل کرتے تو اس حادثہ کی کبھی نوبت نہ آتی ۔ عمران خان کی یہ کوتاہی ، یہ نظر اندازی 9 مئی کے سانحہ کا شاخسانہ بنی ۔ 9 مئی کے دن عمران خان کی گرفتاری پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے ملک بھر میں شدید ترین ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا۔ راولپنڈی میں جی ایچ کیو، حمزہ کیمپ، لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس، فیصل آباد میں آئی ایس آئی کا دفتر اور میانوالی میں پاکستان ایئرفورس کے بیس پر مشتعل مظاہرین کی جانب سے شدید ترین حملے کیے گئے۔ یہ سب کچھ کسی پلان یا پہلے سے طے شدہ حکمت عملی ، منصوبہ بندی کے بغیر اچانک اتنا شدید ردعمل ممکن نہیں ہے ۔ گھیراؤ جلاؤ کے علاؤہ پاکستان تحریک انصاف کے مشتعل نوجوانوں نے مرکزی شاہراوں پر ٹریفک کا نظام بھی روک دیا تھا جس سے پورا ملک کا نظام زندگی شدید ترین متاثر ہوا۔ یاد رہے کہ 2 دن کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے صورتحال کا نوٹس لیا اور عمران خان رہا ہو گئے۔ لیکن 9 مئی کے 2 دنوں کے اندر جو واقعات رونما ہوئے ھیں ان کی نوعیت شدید تھی اس کے آفٹر شاکس ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اگرچیکہ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت میں کافی کمی آچکی ھے ۔ سانحہ 9 مئی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے کئی کارکنان گرفتار کئے گئے، 104 کے قریب کارکنان ، رانماوں کو آرمی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا۔ نو مئی کے حادثہ نے پاکستان کے سیاسی منظر نامے کو یکسر تبدیل کر دیا۔ 6 میں محاز آرائی ، کشمکش ، ھنگامہ خیزی کے بعد 5 اگست 2023 کو بالآخر عمران خان کو ان کے زمان پارک گھر سے بآسانی گرفتار کر لیا گیا ۔ نہ کسی قسم کی کوئی مزاحمت ھوئی نہ تصادم ھوا۔ عمران خان کو پولیس کے چند آفیسرز اور اھل کاروں نے گرفتار کیا تھا ۔ عمران خان نے بھی کوئی حربہ استعمال کئے بیغر آپنی گرفتاری پیش کردی ۔ یہ عمل 9 مئی کو بھی انجام دیا جاسکتا تھا ۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہ ھوا ۔ یہ طے شدہ بات ہے کہ 9 مئی واقعات کے بعد پاکستان کی سیاست، صحافت اور عدالت پر دباؤ بڑھ گیا اور اس سے جمہوریت، سیاسی نظام کو بھی خاصا نقصان اٹھانا پڑا۔ان واقعات سے معاشرے، اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان بداعتمادی کی جو ناخوشگوار فضا پیدا ھوئی ھے اس سے سیاسی، قانونی اور عدالتی نظام بہت کمزور ہوا ہے۔ سانحہ 9 مئی کے بعد قوم میں تقسیم اور خلیج بنگال کی طرح خلیج فارس پیدا ھوئی ۔ قابل غور اور توجہ طلب بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ احکامات کے تحت عدالتیں 9 مئی مقدمات میں گرفتار ملزمان کے بارے میں حتمی فیصلے نہیں کر سکتیں۔ ایک سال سے تحریک انصاف کے کارکنان اور رانما جیلوں میں قید ہیں۔ پی ٹی آئی کے سپورٹرز اور ووٹرز کی نظروں میں یہ قیدی بےقصور و بےگناہ اور مظلوم ھیں۔ کیونکہ ان کو مقدمہ چلائے بغیر جیلوں کے اندر رکھا ھوا ھے ۔ سانحہ 9 مئی کے نتیجے میں تحریک انصاف کو بہت بڑا دھچکہ پہنچا ھے ۔ اس جماعت کو سیاسی عمل میں لیول پلیئنگ فیلڈ بھی نہیں مل سکی ھے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کے دماغ اور انکی سوچ میں فوج سے نفرت اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا زھر خوب بھر دیا گیا ہے۔پاکستانی سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کا دوھرا معیار ھے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت، کوئی بھی سیاستدان فوج کے سیاسی کردار کو مکمل طور پر ختم بھی نہیں کرناچاہتا بلکہ ھماری سیاسی جماعتیں ، ھمارے حکمران سیاسی راہنما فوج کو اپنی حمایت میں سرگرم دیکھنا چاہتے ہیں۔ جب کسی سیاسی جماعت کو اقتدار سے نکال باھر کیا جاتا ھے یا جب اس کی کی مدت اقتدار ختم ہو جاتی ہے تو پھر ان سیاسی جماعتوں کے راہنما مقبولیت کے لئے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اپناتے ہیں۔ کوئی ووٹ کو عزت دو، کوئی بار بار ایک ھی سوال کرتا کہ مجھے کیوں نکلا ، مجھے کیوں بلایا ، اور کوئی غلامی اور حقیقی آزادی کا نعرہ لگاتا رہا ہے ۔ لیکن دوبارہ اقتدار اور طاقت میں آنے کے بعد یہ رانما پھر سے فوج کے سیاسی کردار کے حامی نظر آتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف بھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت نہیں ہے کیونکہ عمران خود یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ دو بار جنرل باجوہ سے مل سکتے ہیں تو کسی سے بھی مل سکتے ہیں۔

اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملنا چاہتے ہیں۔ عمران خان خود بھی تو اسٹیبلشمنٹ ہی کا پراجیکٹ تھے۔ اگر عمران خان سلیکڈ وزیر اعظم تھے تو شہباز شریف کیا ھیں ؟ بلاول بھٹو زرداری کے منہ سے سلیکٹڈ وزیر اعظم کے الفاظ ایک بار پھر بہت جلد نکلیں گے ۔ 9 مئی واقعات کے پاکستانی سیاست پر اچھے یا مثبت اثرات نہیں پڑے ھیں۔ سب سے بڑا نقصان تو یہ ھوا کہ پاکستان کی سیاست تقسیم ہو گئی ھے۔ مانا کہ پہلے کنٹرولڈ جمہوریت ہوتی تھی لیکن اب 9 مئی کے بعد سیاستدانوں کے لیے جو تھوڑی بہت جگہ باقی رہ گئی تھی وہ بھی کافی حد تک کم ہوگئی ہے۔ ھیرو عمران خان کو یہ حقیقت یہ سچائی کی بات کون سمجھائے کہ پاکستان میں مقبولیت کے ساتھ ساتھ قبولیت بھی ہونا لازمی ہے۔ فی الحال تو تحریک انصاف اور عمران خان کی قبولیت ختم ھوتی نظر آرھی ھے ۔ کل کیا ھوگا اس کے بارے میں صرف ڈبل AA ھی بہتر جانتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا یہ کہنا ہے کہ 9 مئی واقعات کو نہیں بھلا سکتے ہیں۔ یہ بات بھی ںسچ اور درست ہے ۔ کیونکہ 9 مئی کے دن جو گھیراؤ جلاؤ ٹکراؤ ہوا ھے۔ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا ھے ۔ پی ٹی آئی کارکنان کیا واقعی ھی ملک میں کوئی انقلاب لانا چاہتے تھے۔ اگر انقلاب لانا چاہتے تھے تو پھر ان کا انقلاب ناکام ہو گیا ھے ۔ انقلاب اور بغاوت ایک ھی سکہ کے دو رخ ہیں انقلاب ناکام ھو جائے تو بغاوت کہلاتی ہے ۔ یہ بات حقیقت ھے کہ پی ٹی آئی کے جزباتی کارکن آئین کی حکمرانی یا قانون کی بالادستی کے لیے سڑکوں پر نہیں نکلے تھے بلکہ ایک شخص کو بچانے کے لیے مشتعل ھوئے تھے ۔ پاکستان کی ریاست اور تمام ریاستی ادارے گزشتہ دو سالوں سے ایک ھی شخص کی سیاست کے گرد گھوم رھے ھیں۔ سانحہ 9 مئی کے بعد بہت ساری باتیں تحریک انصاف کے سیاسی مفادات کے خلاف ہونا شروع ہو گئی ھیں۔ موجودہ حالات کے تناظر کیا تحریک انصاف یا عمران خان کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ کہا جا سکتے ھے ۔لیکن عمران خان تو جیل میں بیٹھ کر مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ جب تک اسٹیبلشمنٹ میری حمایت نہیں کرتی میں اس کے خلاف ہوں۔ اپنے تبدیلی دور حکومت میں عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی ساری باتیں مانتے رہے ہیں اس وقت ان کو کوئی مشکل نہیں تھی۔ جنرل باجوہ سے کوئئ شکایت یا شکوہ نہیں تھا ۔ یہ تھا کہ آج میں جو کچھ بھی ھوں آپ کی عنایت ہے ۔ ایک سوال بڑا اھم اور ضروری ہے کہ 9 مئی کے بعد کیا بیانیہ تبدیل ہونے جا رہا ہے۔ عام انتخابات کا وقت قریب آیا تو ملک کی ساری فضا بدل گئی یہ حقیقت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی دخل اندازی ، مداخلت کو ناپسند کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ھوسکتی ھے کہ 9 مئی واقعات میں ملوث چند ملزمان کو گرفتار کر کے "باپ "سو گئے ۔ 9 مئی کو پیش آنے والے واقعات دہشت گردی تھے۔ مقدمات جلدی دائر اور قائم ھونے چاھئیں تھے۔ تحقیقات جلدی سے مکمل جانی چاہیے تھی ، روزانہ کی بنیاد پر عدالتی کاروائی چلا کر دائر مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جانا چاہیے تھا ۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے لوگوں کے شک و شبہات ، گمان یقین میں بدلنے لگے ۔ عام پاکستانی ووٹر کا یقین اس بات پر پختہ ہو گیا کہ 9 مئی ایک سازش تھی۔ یہ سوچ ، یہ یقین حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی مشترکہ ناکامی نہیں ہے کیا۔ یہ ماننا پڑے گا کہ پی ٹی آئی کے انداز سیاست نے پاکستان کے سیاسی نظام پر منفرد اثرات مرتب کیے ہیں۔ مارچ 2022 سے پہلے کسی سیاسی جماعت کی طرف سے اسٹیبلشمنٹ اور ریاستی اداروں خاص طور عدلیہ پر براہ راست اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس طرح کا حملہ نہیں کیا گیا تھا۔ 9 مئی کے دن تحریک انصاف سے ہمدردی رکھنے والے بیرون ملک سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اہم ترین اہداف کی باضابطہ نشاندہی کی۔ جس کے نتیجے میں مشتعل عناصر نے راولپنڈی جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤس لاہور اور فیصل آباد میں واقع آئی ایس آئی کے دفتر پر حملہ کیا۔ اس سوشل میڈیا مہم میں بھارت نواز برھمن نسل کے لوگوں نے بڑی مہارت اور ھوشیاری سے اپنا شرمناک کردار ادا کیا بیرون ملک سوشل میڈیا اکاونٹس نے ان کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ ان کو انتظامی سپورٹ بہم پہنچانے والوں کا بھی بھرپور ساتھ دیا۔ عزیز آباد سے ھمدردی رکھنے والے یہ نفیس مزاج معصوم آج کہاں ھیں؟ پاکستان کی بقا و سلامتی اور سیاسی و معاشی استحکام کے ضروری ہے کہ عدلیہ آئین اور قانون کے مطابق شفاف انداز میں 9 مئی مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائے۔ تاکہ پاکستان کے سوشل کنٹریکٹ اور قانون کی عملداری کے ذریعے سے ریاستی اداروں کے بارے میں بین الاقوامی کا تاثر درست کیا جا سکے۔ کیونکہ 9 مئی کے واقعات نے پاکستان کی سیاست پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ بلکہ عالمی سطح پر قومی تشخص بری طرح سے مجروح ھوا ھے۔ ریاستی اداروں کے اندر پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں جو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اب وہ دور ھونی چایںں ۔ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو کم کیا جانا چاہیے۔ 9 مئی واقعات کے بعد ریاست اور ریاست مخالف گروہوں کے درمیان جو ریڈ لائن کھنچ گئی ہے اس لائن کو پار کرنے کے لیے دیانتدارانہ پرخلوص کوششوں اور مخلصانہ کاوشوں کی اشد ضرورت ھے ۔ سانحہ 9 مئی سے سانحہ 8 فروری تک سفر خیر و عافیت اور خوش اسلوبی سے اب طے ھونا چاھئے ۔
نوٹ: ادارہ کا کالم نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


