قومی

خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو نافذ کئے بغیرکوئی بھی آئینی ترمیم غیر قانونی ہوگی، بابا لطیف انصاری

فیصل آباد (94 نیوز) پتن تنظیم 250 سے زیادہ انجمنوں، مقامی تنظیموں، مزدور یونینوں اور دانشوروں پرمشتمل ایک نیٹ ورک ہے جو آئین میں درج بنیادی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لئے قائم کام کرتا ہے- پتن۔کولیشن38 سول سوسائٹی کے اعلامیہ جو کہ ہیومن رائٹس کمیشن (ایچ آر سی پی) کی طرف سے جاری کیا گیا ہے کا خیرمقدم کرتا ہے کہ مجوزہ آئینی ترامیم بنیادی حقوق اور عدلیہ کی آزادی کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔ تاہم ہم اس بات پر زور دینا چاہتے ہیں کہ موجودہ پارلیمنٹ کے پاس کسی قسم کی آئینی ترمیم کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ موجودہ حکومت چوری شدہ مینڈیٹ کے بل بوتے پر بنائی گئی ہے اورقومی وصوبائی اسمبلیاں اور سینٹ ابھی تک خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے نامکمل ہیں اور یاد رہے کہ اس حوالے سے الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے 12 جولائی 2024 کے حکم پر عمل درآمد کرنے میں تا حال ناکام رہا ہے۔ عوام کی نظروں میں وفاقی حکومت کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا کوئی اخلاقی و آئینی جواز نہیں ہے کیونکہ یہ فارم 47 کے ذریعے انتخابات کروا کر عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو چرانے کے بعد تشکیل دی گئی ہے، جس کی تصدیق پتن۔کولیشن38 کے عام انتخابات کے نتائج کے آڈٹ میں کی گئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ متنازع آئینی ترامیم کو جلد بازی اور رازداری میں آگے بڑھانے کے پیچھے ایک اہم مقصد پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ دھاندلی والے عام انتخابات کی عدالتی جانچ پڑتال اور احتساب کو روکنا ہے۔
ہمیں خدشہ ہے کہ سپریم کورٹ کے 12 جولائی 2024 کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی آئینی نمائندگی کے اصولوں کو پورا کیے بغیر آئین میں تبدیلی کا کوئی بھی سمجھوتہ جمہوری ساکھ اور خاص طور پر چھوٹے صوبوں کے عوام کے اعتماد کو مزید نقصان پہنچائے گا۔ ہم تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نامکمل اور داغدار پارلیمنٹ کے ذریعہ آئین میں ترمیم کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کریں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button