درباری ملاء وحیدالدین خاں اور لشکری قصہ گو ڈاکٹر مبارک علی کا حکیم الامت ڈاکٹر علامہ اقبال کے بارے منفی خیالات، متعصبانہ سوچ


کالم نگار۔ طارق محمود جہانگیری کامریڈ
ھندوستان کی سر زمین پر اپنے دور کی دو نامور شخصیات پیدا ھوئی ھیں۔ جن کی علمی و فکری فنکاریوں اور دانشمندی کی بازی گری ، عقل و دانش فروشی اور ان کی فنکارانہ صلاحیتوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ان نامور شخصیات میں ایک نام ھمارے پروفیسر ڈاکٹر مبارک علی کا ہے ۔ اور دوسری شخصیت مولانا وحید الدین خاں کی ھے ۔ ان دونوں نقادوں ، مبصروں اور خود ساختہ مورخین میں بہت سی آرا میں اتفاق رائے پائی جاتی ھے ۔ ان دونوں صاحب فن میں ایک مشترکہ خوبی پائی جاتی ہے ۔ وہ خوبی یہ ہے کہ دانش کے ان دونوں سوداگروں نے شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال کے نظریات وعقائد اور افکار کو اپنی تنقید کا خوب نشانہ بنایا ھے ۔ علامہ اقبال کی ذات، انکے فلسفہ خودی اور فلسفہ اسرارِ خودی پر خوب تیر و نشتر چلائے ۔ دراصل علمی بونوں ، اور نقال دانشوروں کی یہ فطرت اور نفسیاتی بیماری ھوتی ھے کہ وہ اپنی قد و قامت بڑھانے ، علمی سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے قد آور علمی شخصیات پر بےجا تنقید و طنز کے وار کرتے رھتے ھیں ۔ یہ دونوں فنکار شاید بلکہ یقینی طور پر اس حقیقت سے آشنا نہیں ھیں کہ برصغیر سے جتنے بھی لوگ مغربی تعلیم و تدریس اور علوم و فنون حاصل کرنے کے لیے مغرب گئے وہ سب تہزیب فرنگ کا شکار ہو کر آئے ہیں ۔ مغربی رنگ میں رنگے گئے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ ان کے رنگ ڈھنگ میں رنگے جانے کی بجائے الٹا اھل مغرب میں اپنے علم و عرفان کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔ مولانا وحید الدین خاں اور ڈاکٹر مبارک علی کے آباؤ اجداد سلاطین ھند کا درباری ٹولہ تھا ۔ ڈاکٹر ھندوستان کے شہنشاہوں بالخصوص مغلوں کے بڑے گرویدہ نظر آتے ہیں ۔ لیکن افسوس کہ ڈاکٹر مبارک علی اور مولانا وحید الدین خاں نے فرنگیوں اور فرنگی راج ، قرطاس کے بارے میں قلم کو ذرا سی بھی جنبش دینے کی تکلیف گوارہ نہیں کی ۔ پروفیسر ڈاکٹر مبارک علی 1978 سے 1989 تک سندھ یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر اور چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ سہ ماہی جریدے تاریخ کے ایڈیٹر بھی رہے ہیں۔ انہوں نے تاریخ کے مختلف موضوعات پر 100 سے زائد کتب لکھی ہیں۔ ان کی بیشتر کتابیں مغربی دانشوروں ، مبصروں ، فلاسفروں کی تصنیفات کا ترجمہ و تفسیر معلوم ھوتی ھیں ۔ ڈاکٹر مبارک علی کے کالموں ، اور انکی تحریروں میں جرمنی ، برطانوی ، امریکی اور روسی دانشور مصنفوں کی فکر و نظر اور سوچ کی واضح چھاپ نظر آتی ہے ۔ جس کی ایک چھوٹی سی مثال دی جا سکتی ہے جس سے اس دعوے کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ ڈاکٹر مبارک علی مذہبی انتہا پسندی اور معاشرے پر اس کے اثرات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انتہا پسندی کسی بھی شکل میں ہو یہ لوگوں کے ذہن کو نئی فکر اور سوچ سے روکتی ہے ۔ یہ تھیوری کوئی نئی یا انوکھی نہیں ھے ۔ مغربی مفکرین کئی صدیوں پہلے اس موضوع پر بہت کچھ تفصیل سے لکھ چکے ہیں ۔ مولانا وحیدالدین خاں کا انداز فکر بھی ڈاکٹر مبارک علی سے کچھ مختلف نہیں ۔ڈاکٹر مبارک علی کو متنازعہ شخصیت قرار دیا جاتا ہے ۔ اسی طرح مولانا وحید الدین خاں بھی شاذ نظریات کی حامل شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ اہلِ علم کی اجماعی رائےاور اجماعی عقائد سے ہٹ کر اپنی رائے و عقیدہ رکھتے ہیں۔ وحید الدین خان کے بہت سے عقائد ونظریات قرآنی دین اسلام ، قرآنی تعلیمات کے خلاف دیکھائی دیتے ہیں ۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر اگر کوئی شتم کرے تو مولانا وحید الدین کے نزدیک وہ قتل نہیں کیا جائے گا۔ فقہائے کرام پر بے جا تنقید وتعریض کرنا، قرآن کریم کی من پسند تشریحات کرنا اور جہاد والی آیات واحادیث کی غلط تاویلیں کرنا ان کا مشغلہ تھا۔ نیز حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کے آسمان پر زندہ اٹھائے جانے اور قیامت کے قریب دنیا میں دوبارہ تشریف لانے کے متعلق قرآن کریم اور احادیثِ شریفہ میں واضح نصوص موجود ہیں۔ اسی طرح دجال اور یاجوج ماجوج کے متعلق بھی ایسی بے غبار تفصیلات موجود ہیں۔ وحید الدین خان کا عیسی علیہ السلام کے رفع ونزول کا انکار، علاماتِ قیامت کے بارے میں بے بنیاد شکوک وشبہات کا اظہار کرنا بلاشبہ زیغ وضلال اور کھلی ہوئی گم راہی قرار دیا جاتا ہے ۔ مولانا وحید الدین خاں اور غلام احمد قادیانی کے عقائد اور افکار و نظریات میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے ۔ مولانا وحید الدین خاں کے منافی شریعت عقائد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ غلام احمد قادیانی اور مولانا وحید الدین خاں کا رنگ و نسل ، زبان ایک تھی ۔ ان دونوں کے آباؤ اجداد سلاطین ھند کے قصیدہ گو درباری تھے ۔ ان دونوں کی تعلیم و تربیت سامراجی سلاطین کے مکتب و میخانہ میں ھوئی تھی ۔ فرنگی راج قائم ھونے کے بعد مغلیہ خاندان سے اپنی وفاداریاں تبدیل کر کے سلطنت برطانیہ کے خیر خواہ بن گئے ۔ سوال یہ پیدا ھے کہ مولانا وحیدالدین خاں کیا عربی زبان بولنا اور لکھنا جانتے تھے ؟ قرآن مجید تمام علوم کا منبع اور ہدایت کا سرچشمہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا نزول عربی زبان میں ہوا۔ قرآن کریم کے متعدد ترجمے موجود ہیں جن کی 52 تک بتائی جاتی ہے ۔ ھندوستان کے اھل سنت کے جید علماء کرام کا فرمانا ھے کہ سید اشرف جہانگیر سمنانی کا تحریر کردہ فارسی ترجمہ کا نسخہ مدینہ منورہ میں حرم شریف کے قریب کسی مکان میں موجود تھا۔ جب حرم شریف کی توسیع ہوئی تو یہ قرآن شریف معہ فارسی ترجمہ محمد علی مہاجر مدنی سے ڈاکٹر سید مظاہر اشرف اشرفی جیلانی کو ملا۔ بہت سے ھندوستانی علماء کرام کا دعویٰ ہے کہ فارسی زبان میں سب سے پہلا ترجمہ حضرت شاہ ولی 1176 ھجری مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی نے 808 ھجری میں کیا۔ قرآن مجید کا فارسی ترجمہ جناب شاہ ولی سے بھی پہلے کا ہے۔ ھمارے بعض دینی مدارس کی تفصیلات کے مطابق ان دونوں تراجم میں اختلافِ زمانہ کے سبب زبان ایک ہونے کے باوجود لب و لہجہ اور الفاظ میں نمایاں فرق موجود ہے۔ مولانا وحید الدین اگر صحیح معنوں میں عالم دین یا مفکر اسلام تھے تو انہوں نے قرآن مجید کا فارسی میں ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل کیوں نہیں کی ؟ احادیث نبوی جس کی اشاعت 1926 میں کی گئی ، ان احادیث کا ترجمہ کیوں نہیں کیا گیا ؟ مولانا وحید الدین خان اور ڈاکٹر مبارک علی کے کچھ گرویدہ ، کتابی کیڑے ، رٹا لگانے والے طوطے قارئین ان دونوں شخصیات کے دانشور ھونے کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں ۔ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ دانشور معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر وہ اپنی دانش کو لوگوں میں شعور پیدا کرنے کے لیے استعمال کریں تو معاشرہ ذہنی ترقی کرتا ہے۔ لیکن اگر اسے وہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کریں تو اس سے معاشرہ گمراہ ہوتا ہے۔ امریکی اور روسی دانشور اس کی روشن مثال ھیں ۔ 1979 کو ایران میں جو فکری و نظریاتی ، شعوری انقلاب برپا ہوا ۔ وہ بھی اس کی دلیل پیش کرتی ہے۔ مصنوعی افلاطون دانشور حکمران طبقے اور اشرافیہ کو ہیروز اور ان کو مقدس بنا کر پیش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی مصنوعی ذہانت کے ربڑی ارسطو ، اور یوٹیوب کے مسخرے ویلاگرز گزشتہ دس سالوں سے پاکستان میں اس قسم کی مداری پن کا کھیل کھیل رہے ھیں ۔ یہ مداری اپنے ہیرو کی افسانے تراش رھے ھیں سوشل میڈیا پر جھوٹی فرضی کہانیاں پیش کرکے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو مسخ کررھے ھیں۔ جاھلانہ سیاسی نظریات کو نیا رُخ دینے کی کوشش کررھے ھیں ہیں۔ جھوٹی اور فرضی خبریں بنا کر عوام کو اصلیت سے بے خبر رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ دانشوروں کی ایک اور قسم بھی ھے جو عوام کے شوق، تفریح اور وقت گزاری کے لیے کتابیں لکھتے ہیں۔ جھوٹے واقعات پر مبنی تاریخی ناول لکھتے ہیں۔ جن کا تعلق اصل حالات و واقعات سے نہیں ھوتا ھے ۔ ناولوں کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ایسے ناول ، کالموں، مضامین یا یوٹیوب ویلاگ کا بنیادی مقصد ریاستی اور مافیائی گروہوں کے درمیان تنازعات پیدا کرنا ھوتا ھے ۔ معاشرے کے عام لوگ گمراہ کن بیانیہ اور جھوٹے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر مخالفانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ بدقسمتی سے مولانا وحید الدین خاں اور ڈاکٹر مبارک علی کا تعلق بھی اسی دانشور ٹولہ سے ھے۔ بالخصوص ڈاکٹر مبارک علی کو تاریخ اور مورخین کی پیداوار ، اصل حقیقت کے بارے میں وضاحت کرنی چاہیے یہ بھی بتانا چاہیے کہ جہنوں نے اپنے دیس سے راہ فرار اختیار کرکے منتشر اور اندرونی انتشار بھارت پر یہ بھگوڑے کیسے قابض ہوگئے ۔ ان سلاطین ھند کی تاریخ لکھنے والے مورخین کون لوگ تھے ۔ انکا پیشہ ، کاروبار ، ذریعہ معاش کیا تھا، مسکن کہاں تھا ۔ انکا شجرہ نسب ، رنگ و نسل کیا تھی ؟ آباؤ اجداد کون تھے ؟ کہاں سے آئے تھے ؟ سچ تو یہ ہے کہ ھند کے مورخین نے شہنشاہوں کے محلات کی کنیزوں ، لونڈیوں کی کھوکھ سے جنم لیا ۔ ان کی پرورش و تربیت محلات کے بالا خانوں میں ھوئی ۔ ھندوستان کے مورخین درباری قصہ گو الف لیلہ ، ھزار داستان ، اب حیات ، گل بکاؤلی جیسی کہانیاں ، تصوراتی فسانے اور اوٹ پٹانگ رومانوی شاعری کرنے والے میراثی مزاج کے مسخرے تھے ۔ انہوں نے سلاطین ھند کی بہادری ، شجاعت ، سخاوت ، امامت کی جھوٹی فرضی کہانیاں لکھ کر درباروں میں انعام و اکرام حاصل کیا کرتے تھے ۔ جنگ و جدل کے جھوٹے قصے بیان کرنے کے علاؤہ اور کچھ بھی نہیں کیا ۔ فرنگیوں کا راج قائم ھونے کے بعد جب برطانوی مورخین نے انڈیا کے تاریخی پہلو کو اجاگر کیا تو سلاطین ھند کے شعبدہ باز مداری مورخین کے کچی مٹی سے بنے ہوئے جھوٹ کے سارے بت پاش ہوگئے ۔ مورخین ھند کو پورے خطے میں اپنا منہ چھپانے کی جگہ بھی نہیں ملی ۔ چھلاوا کی طرح اچانک کہیں غائب ہوگئے ۔ حیرت ھے ڈاکٹر مبارک علی کو فرنگی راج کی اچھائیوں برائیوں کے بارے میں تبصرے ، تجزیے کرنے کی توفیق و ھمت تک نہ ھوئی ۔ اطالوی تاریخ دان Giambattista Vico یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر تھے۔ ان کی کتاب "The New Science” میں تاریخ کے فلسفے کو نئے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ فرانس کے مورخ Michelet نے ان کے فلسفہ تاریخ کو یورپ میں روشناس کرایا۔ جرمنی کے فلسفی آرتھر شوپن ہائر کی کتابوں کو لوگ بھول گئے۔ تاریخ ہند کی سب سے بڑی اور پہلی سلطنت موریا تھی۔ جس کا بانی چندر گپت موریا تھا۔ عام روایات کے مطابق وہ پنجاب کی طرف بھاگ گیا تھا۔ اس نے اپنے وزیر چانکیا یا کوٹلیا Chaknia or Koutlia کی مدد سے یونانی بالادستی کے خلاف بغاوت کردی۔ یونانی حکومت کے اثر و نفوز کو مٹا کر ایک نئے شاہی خاندان کی بنیاد اپنی ماں موریہ کے نام سے رکھی ۔ بدھ روایتیں کے مطابق جب شاکیا موریا مگدھ سے بچ نکلا تو ایک پہاڑی علاقہ میں چلا گیا ۔ مغربی مورخین فاؤچر، جان مارشل اور گرن ویڈل موریہ کے بارے میں بہت کچھ لکھ چکے ہیں ۔ بی ایس ڈاہیا کا کہنا ہے کہ یہ تمام روایات بے بنیاد اور فرضی داستانیں ہیں۔ ان میں زرہ پھر سچائی نہیں ہے۔ موریا خاندان کا مور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اشوک کی خوراک میں مور شامل تھے۔ چندر گپت ٹیکسلا کی عظیم درس گاہ میں تعلیم پاتا تھا۔ لیکن یونانی تواریخ میں میں کہیں بھی اس کی نشان دہی نہیں ہوتی ہے۔ چانکیہ اس کے بارے میں اپنی تصنیف ارتھ شاستر میں ایک لفظ تک نہیں لکھا ہے۔ سنسکرت کے ڈراما وشنو پران کہتا ہے کہ موریا کو شودر کہا گیا ہے۔ مارکنڈیا پران میں انھیں ہے اسور کہا گیا۔ ترکستان اور دیگر علاقوں کے علاوہ کشمیر کے بھی حکمران موریا تھے۔ سلطنتِ موریہ 185 قبل مسیح سے 322 قبل مسیح تک ھے ۔ برصغیر پاک و ہند کے ممتاز متنازعہ دانشور ، نقاد پروفیسر ڈاکٹر مبارک علی جس کو مؤرخ نہیں کہا جاسکتا ھے ۔ ڈاکٹر مبارک علی کی بہت ساری کتابیں پڑھنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر مبارک علی کی تحریروں میں تشنگی کا احساس اور ابہام بھی محسوس کیا گیا ھے۔ ڈاکٹر مبارک علی تمام تر انتھک کاوشوں کے باوجود تاریخ اور تاریخ نویسی سے متعلق اپنے مضامین میں طویل عرصہ تک کوئی بنیادی اصول یا نظریہ پیش نہیں کر سکے ھیں ۔ سوشلزم کے معاشی نظریہ اور کارل مارکس کے فلسفہ انسانی فطرت کے متعلق ایسے نقال نقاد اور خیالاتی تصوراتی دانشور کو کیا تنقید کا حق حاصل ھوسکتا ھے۔ ڈاکٹر مبارک علی اگر کارل مارکس کی طرح تاریخ فہمی سے متعلق کوئی منفرد اصول یا نظریہ پیش کرنے میں کامیاب ہوتے تو مسلم ممالک پر لگنے والے الزامات ختم ہو سکتے تھے ۔ ڈاکٹر مبارک علی کی تمام تحریریں مخصوص خطے کے کچھ خاص ادوار پر مشتمل ہیں۔ جبکہ آج کے زمانے کا کوئی تذکرہ ان کی تحریروں میں نہیں ملتا۔ ڈاکٹر مبارک علی کی زیادہ تر تحریریں برصغیر کے حکمرانوں اور حکمران خاندانوں سے متعلق ہیں۔ وہ زمینی حقائق اور معروضی حالات سے قطعی الگ تھلگ اور کٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مغل حکمرانوں کے قصے کہانیوں، درباری سرگرمیوں، کنیزوں اور غلاموں کی داستانوں سے ان کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ لیکن سلاطین ھند بالخصوص مغل شہنشاہوں دور کے عوامی ہیروز ، دلا بھٹی ، منگل پانڈے ، نظام لوھار ،جھانسہ کی رانی ، رائے کھرل ، شنواری ، بھگت سنگھ شہید جیسے حریت پسندوں کو یکسر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ جنھوں نے فرنگیوں اور مغلیہ حکمرانوں کے ظلم و جبر کے خلاف نمایاں قربانیاں دی ہیں۔ مغلیہ حکمرانوں کے ظلم اور قبضہ گیری کے خلاف اٹھنے والی پشتونخوا تحریک جو تین نسلوں تک مسلسل وزیرستان سے لیکر ننگرهار تک مغل حکمرانوں اور جنگی سالاروں کے خلاف بھرپور مزاحمت کرتی رہی۔ ایمل خان مومند، دریا خان آفریدی، خوشحال خان خٹک وغیرہ کے جوش و ولوے ، مغل اور فرنگیوں کے جبر و استحصال کے خلاف اٹھنے والی دیگر قوموں کی تحریکوں سے بھی وہ بےنیاز نظر آتے ہیں۔ اس سے ڈاکٹر مبارک علی کی درباری ذھنیت ، پختونوں سے تنگ نظری اور تعصب پرستی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بلوچستان، سندھ، پنجاب اور بنگال کی قومی تحریکوں کا بھی کوئی ذکر ڈاکٹر مبارک علی کی تحریروں میں نہیں ملتا ہے۔ تحریک آزادی کے ہیرو صنوبر حسین مومند، مارکسی دانشور ایڈووکیٹ افضل خان بنگش اور شیرعلی باچا تک درجنوں سیاسی تحریکیں چلیں لیکِن تحریکیں ڈاکٹر مبارک علی کی نظروں سے اُوجھل رھی ھیں۔ ڈاکٹر مبارک علی نے اپنی ننانوے کتابوں میں بلوچستان اور پختونخوا تحریکوں کا کہیں پر بھی ذکر نہیں کیا۔ ڈاکٹر مبارک علی اور ان کے ہم فکر مادری مکمّل طور پر خاموش ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر مبارک علی نسلاً کیا ھیں ؟ کیا وہ خالصتاً پنجابی ھیں ؟ سندھی ھیں ، بلوچی ، پختون ، کشمیری یا پھر بلبستانی ھیں ۔ مولانا وحید الدین خاں کی طرح ڈاکٹر مبارک علی بھی درباری لشکری مفکر اور دانشور ھیں ۔ ڈاکٹر مبارک علی ،مغل بادشاہ اکبر سے کئی بار اپنی عقیدت کا اظہار تحریری اور زبانی طور پر کر چکے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی اپنے دوسرے ھم خیال، ھم عصر اسلامی مفکرین ، اور دانشوروں کی طرح سلاطین ھند کے درباریوں میں سے ایک ھیں ۔ برصغیر پاک و ہند میں طویل عرصے تک حکمران رہنے والے پشتون افغان ، پشتون دور کا تذکرہ کرنے سے ڈاکٹر مبارک علی نے گریز کیا ہے۔ افغانیہ دور روایتی تاریخ میں نہیں ہے۔ متنازعہ نقاد ڈاکٹر مبارک علی نے اپنی کتابوں میں نیشنل ازم کا انتہائی منفی تاثر قائم کیا۔ انقلاب فرانس، بالشویک انقلاب، چائنیز انقلاب، افغان سور انقلاب برپا کرنے میں ترقی پسند فرانسیسی، رشین، چائنیز، افغان کی قوم پرستی کا کلیدی کردار رہا ہے۔ مارکسی نقطہ نظر سے مظلوم طبقات اور مزدور کسان کے حقوق واختیارات کی جنگ کو اپنی جنگ قرار دے کر فکر و قلم کا فریضہ سمجھنا چاہیے تھا ۔ سوشلسٹ موڈ آف پروڈکشن، زرعی انقلاب، صنعتی انقلاب اور انفارمیشن ٹیکنالوجی انقلاب کا جدید دور میں دیگر دانشوروں کی طرح ڈاکٹر مبارک علی بھی نئی ٹیکنالوجی اور نئے معاشی و سیاسی نظریات سے بےبہرہ نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر مبارک علی کی بعض کتابیں مثلاً “تاریخ اور عورت” ، “تاريخ اور مذہبی تحریکیں” ، “علماء اور سیاست” اور “یورپ جیسی کتابوں میں ڈاکٹر مبارک علی نے غیرمعمولی جرآت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑے گا ۔ ہندوستان کے مولانا وحید الدین خان کا نام بالخصوص چند درباری علماء میں معروف ہے۔ دین کے حوالے سے ان کا مخصوص نقطہ نظر ہے جو اسلام کے انقلابی تصور یا دین کی سیاسی تعبیر کی صورت میں وجود میں آیا ہے۔ مولانا وحید الدین خان عام طور پر مسلم دنیا کی بڑی بڑی شخصیات بشمول سیاسی اسلام اور ماضی سے متعلق پر اعتراض مختلف جگہوں پر قلم بند کرتے ہیں کہ انھوں نے مسلمانوں کو بے فائدہ ٹکراؤ پر لگایا اور اس طرح جہاد کی تعبیر کو وہ Persecution Religious کی علت کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں کہ یہ ماضی کا جبر تھا جس کے استیصال کے لیے جہاد مشروع ہوا ۔ جہاد کے بارے میں غلام احمد قادیانی کا بھی بالکل ایسا ھی نظریہ اور اس طرح کی فلاسفی تھی ۔ مولانا کی فکر میں پائے جانے والے کئی تصورات درست نہیں ھیں ۔ انکے افکار و نظریات سے تاریخ اسلام کی ایک عجیب تصویر سامنے آتی ہے۔ ڈاکٹر علامہ اقبال نے ’’اسرارِ خودی‘‘ کے پہلے ایڈیشن میں حافظِ شیراز کی شاعری پر تنقید کی تھی جس پر اخبارات میں ایک شور برپا کر دیاگیا تھا۔ علامہ اقبال کا نکتہ نظر صرف اتنا تھا کہ زوال دور کے کتب علوم نے مسلمانوں کے قوات عملیہ کو جس طرح سرد کیا ہے۔ حافظ کا پیغام اس حوالے سے ایک افیون کی حیثیت رکھتا ہے۔ مولانا وحید الدین خان کی طرح ڈاکٹر مبارک علی بھی علامہ اقبال کی فکری شاعری اور ان کی فلاسفی کے سخت مخالف نظر آتے ہیں ۔ ان دونوں دانشوروں کو ایک مخصوص طبقہ کے چند افراد ھی جانتے ھیں ۔ جبکہ علامہ اقبال کو پورا برصغیر ھی کا بچہ بچہ ھی نہیں بلکہ اھل مغرب کے دانشور اور فلاسفر بھی خوب جانتے ہیں۔ مختلف کالجزز اور یونیورسٹیزز میں اقبالیات کے بارے میں پڑھایا اور سمجھایا جاتا ہے ۔ ایرانی اسلامی سکالرز اور مفکرین کا دعویٰ ہے کہ انقلاب ایران علامہ اقبال کے فلسفہ خودی اور اقبالیات کے نتیجے میں برپا ھوا ۔ ایران کے بےمثال لیڈر ، اسلامی مفکر ، عالم دین امام آیت اللہ خمینی اقبالیات اور علامہ اقبال کے فلسفہ سے بےحد متاثر تھے ۔ ڈاکٹر اسرار احمد مفسر قرآن مجید ھی نہیں تھے بلکہ ایک اعلیٰ پائے کے عالم دین بھی تھے ۔ وہ علم سیاسیات ، علم شہریت ، تاریخ ، فلسفہ اور سائنسی علوم پر بھی عبور رکھتے تھے ۔ مولانا وحید الدین خاں کی علمی و فکری حثیت ڈاکٹر اسرار احمد کے سامنے رائی دانے کے برابر بھی نہیں ۔ بلکہ چمکتے ہوئے سورج کو دیا سلائی کی ایک چنگاری دیکھانے کے مترادف ہے ۔ اسی طرح غلام محمد پرویز احمد کے جدید اسلامی نقطہ نظر نے بہت سے ذی شعور اعلی تعلیم یافتہ حضرات کو متاثر کیا ۔ یہ دونوں مفکرین ، مفسرین علامہ اقبال کی فکری شاعری سے بےحد متاثر دیکھائی دیتے ہیں ۔ مولانا وحید الدین کے نام سے دینی مدارس کے بیشتر طلبہ اور علماء کرام ناواقف ہیں ۔ آج کی نئی نسل کے تعلیم یافتہ نوجوان انکی نسبت مولانا ابوالکلام آزاد کو زیادہ جانتے ہیں ۔ مولانا وحید الدین علامہ اقبال پر کافی سخت تنقید کرتے ہیں کہ اقبال مسلمانوں کو ٹکراؤ اور شدت پسندی کی راہ دکھانے والے آدمی ہیں۔ اس وقت مسلمانوں میں جو جگہ جگہ عسکری کارروائیاں جاری ہیں، اس کے پیچھے فکر اقبال کا بڑا ہاتھ ہے۔ مولانا وحید الدین کے پورے خطبات ایک طرف اور علامہ اقبال کی شاعری کے صرف دو مصرعے "ھر لحظہ مومن کی نئی شان نئی آن ، کردار میں گفتار میں اللہ کی برہان ۔۔۔” قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ھے قرآن” ۔۔ ایک طرف ھے ۔ علامہ اقبال نے جس خوبصورتی سے شان رسالت بیان فرمائی ھے مولانا وحید الدین اپنی ساری کتب میں بھی بیان نہیں فرما سکے ھیں ۔ علامہ اقبال نے کیا خوب ارشاد فرمایا ھے ، "قلم بھی تو لوح بھی تو ، تیرا وجود الکتاب ھے ” مولانا وحید الدین کی طرح ڈاکٹر مبارک علی بھی اسی قسم کے کچھ اعتراضات دہراتے ہیں۔ پروفیسر اے آر نکلسن نے 1919 میں ’’اسرارِ خودی‘‘ 1915 کو انگریزی میں ڈھالا اور اس پر مقدمہ بھی تحریر کیا۔ جو اقبال کے انگریزی دنیا اور یورپ میں تعارف کا سبب بنا۔ اس کے بعد سارے یورپ کے علمی حلقوں میں بحث ونظر کا بازار گرم ھوگیا۔ مغرب کے نقادوں نے مغربی ماحول اور مغربی ذہن کو اقبال کے فلسفہ خودی کو احیائے اسلام کی ایک سعی قرار دیتے ہوئے یورپ کو آنے والے خطرے سے ڈرایا۔ جو اسرارِ خودی کی حکمت سے پیدا ہو سکتا ہے۔ مترجم پروفیسر کلسن ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ اقبال مذہب کے بارے میں بہت پرجوش ہے۔وہ ایک نئے حرم کی تعمیر میں مصروف ہے۔اس نئی بستی سے مراد ایک عالم گیر مذہبی ریاست ہے جس میں دنیا بھر کے مسلمان نسل و وطن کی قید سے بے نیاز ایک ہو جائیں گے۔وہ جس ریاست کی بات کرتا ہے اس میں دین کی بادشاہت ہو گی۔میکیاولی کی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مولانا وحید الدین کے نظریہ اور ڈاکٹر مبارک علی کی دانشوری کے بارے میں کیا مغربی مفکرین نے اس قسم کے تحفظات یا خدشات کا اظہار کیا ہے ۔ علامہ اقبال کے حوالے سے خوشامدی درباری ملاء وحیدالدین خاں اور مغل شہنشاہوں کا ثنا خواں نقاد پروفیسر ڈاکٹر مبارک علی کو علامہ اقبال کے کچھ منفی رویوں پر سخت اعتراضات ھیں ۔ اسکی بنیادی وجہ ان دونوں لشکری رنگ و نسل کی نسلی عصیبت اور متعصب پرستی ھے۔ کیونکہ علامہ اقبال ایک خالص کشمیری مسلمان تھے۔ سارے مخالفین بھی اس حقیقت کا اقرار کرتے ہیں کہ حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایسے لوگوں میں شامل ہیں۔ جنہوں نے دنیا کو اپنے سحر میں گرفتار کیا۔ امت مسلمہ کو قلبی تسکین مہیا کی۔ ان کے پیغام تنوع نے انہیں عالمگیر قبولیت بخشی۔ علامہ اقبال کے کلام نظم ونثر میں بنیادی حیثیت فلسفہ کی جان اور تحقیق کا دستِ راست ہے۔ حقیقت کبریٰ تک رسائی اور ساری تحقیق وجستجو کا مدعا ہے۔ مولانا وحید الدین خاں اور ڈاکٹر مبارک علی کو علامہ اقبال کی طرح فکری ،فنی ،ادبی اور نجی سطح پر کبھی زیر بحث نہیں لایا گیا۔ علامہ اقبال کی نظم ’’شکوہ‘‘ اور ’’جواب شکوہ‘‘ کو قلبی واردات اور خوف کی علامت قرار دیا جاتا ہے ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کا کلام دراصل مشاہیر کے کلام کی منظوم ترجمہ، مغربی و دیگر کلاسیک شعرا وفلاسفہ کے نظریات وخیالات سے ماخوذ ہے۔ علامہ اقبال کے ہاں مذہب کا تصور، خدا کا تصور اور دیگر کئی ایک تصورات رائج تصورات سے مختلف ہیں۔ یہ ایسے تصورات ہیں جن پر قرآنی اسلام و تعلیمات پر یقین رکھنے والے مسلمانوں کے اعتقادات اور یقین وایمان کی بلندوبالا عمارت استادہ ہے۔ جبکہ مولانا وحید الدین خاں اور ڈاکٹر مبارک علی ان اوصاف حمیدہ سے محروم نظر آتے ہیں ۔ مولانا وحید الدین خاں اور ڈاکٹر مبارک علی ڈاکٹر علامہ اقبال کو مذہب بیزاری اور جدت طرازی کی دوڑ میں شامل کرنے کے لیے انہیں سرسید احمد خان کے مکتب فکر سے زبردستی جوڑنے میں ھمہ تن مصروف عمل رھے ھیں ۔ علامہ اقبال کے کچھ رشتہ داروں کی قادیانی ہونے کے تناظر میں علامہ اقبال کے تانے بانے قادیانیت سے جوڑنے کی کوشش بھی کی جاتی رہی ہے۔ مولانا وحید الدین اور ڈاکٹر مبارک علی اس حقیقت سے شاید واقفِ کار نہیں ھیں کہ علامہ اقبال ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔ صوم و صلوٰۃ اور تلاوت قرآن ان کے محبوب معمولات میں شامل تھے۔ علامہ اقبال ایک بشر تھے ۔ بشری تقاضوں کے مطابق ان میں ذاتی حوالوں سے خامیاں اور کمزوریاں ہونا کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔ ماہنامہ نیاز لاہور میں مسلسل چھپنے والے مضمون ’’یادیں یاد گاریں‘‘میں مضمون نگار معروف شاعر سید نصیر شاہ اس کا انکشاف کر چکے ہیں کہ لفظ ’’پاکستان‘‘ کی تخلیق کے سلسلے میں اقبال اور چودھری رحمت علی میں اچھی خاصی نوک جھونک بالواسطہ اور بلاواسطہ ہوتی رہی ہے۔ جاوید اقبال لفظ ’’پاکستان ‘‘ کو اپنے والد محترم علامہ اقبال کی تخلیق قراردیتے ہیں۔ جبکہ یہ چودھری رحمت علی نے تجویز کیا تھا۔ علامہ اقبال کو بڑی شخصیت کے طور پر ماننے سے بھی کچھ لوگ گریزاں ہیں۔ معروف قلم فروش، ابن الوقت معروف کالم نگار حسن نثار نے اپنی ایک گفتگو میں علامہ کے بارے میں کہا تھا کہ وہ کوئی بڑی شخصیت نہیں تھا۔ بس اندھوں میں کانا راجہ جیسا تھا۔ ھمارے پشتون شعراء حضرات کا بھی کہنا ہے یہ جو شاہین کا تصور ہے۔ یہ انہوں نے معروف حریت پسند انقلابی پشتو شاعر خوشحال خان خٹک سے مستعار لیا ہے ۔ کچھ بھی کہہ لیں لیکِن یہ ایک مسلمہ حقیقت اور تلخ سچ ہے کہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایک عظیم مفکر تھے۔ جن کی فکر کسی مخصوص علاقے یا قوم تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے خودی کا جو پیغام دیاہے۔ وہ ایک ابدی اور عالمگیر پیغام ہے۔ ضرورت مثبت انداز میں سمجھنے کی ھے۔ لیکن یہ صلاحیت درباری ملاء وحیدالدین خان اور اور نمائشی دانشور ڈاکٹر مبارک علی کے ذھن اور برائے فروخت متضاد خیالات میں کہاں آئے گی ۔ حقیقت پسندانہ سوچ اور کشادہ نظری رکھنے والے شارحین خصوصاً کامریڈ سوشلسٹوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پوری دیانت داری کے ساتھ اصل حقائق کو مثبت انداز میں سامنے لائیں۔ تاکہ علامہ اقبال کا فلسفہ اور ان کی فکری شاعری کو مولانا وحیدالدین خاں جیسے درباری ملاء اور سلاطین ھند کے خوشامدی دانشور ڈاکٹر مبارک علی منفی انداز میں تنقید کانشانہ نہ بن سکیں ۔
اہم نوٹ: ادارے کا کالم نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ کالم نگار کی اپنی تحریر اور سوچ ہے۔


