National

FDA has successfully transferred the public corridor of FDA City from Konajiz Hijran group

Faisalabad(94 news) ایف ڈی اے نے کامیاب آپریشن کرکے ایف ڈی اے سٹی کی عوامی گزرگاہ سے تمام رکاوٹوں کو ہٹا کر ناجائز قبضہ واگزار کرا لیا، ایف ڈی اے سٹی کے مین گیٹ کے قریب 200 فٹ لمبائی سے زائد دورویہ تھری لین سٹرک کی ہنگامی بنیادو ں پر کارپٹ تعمیر کردی ہے جس سے یہاں کے رہائشیوں کا دیرینہ مسئلہ حل ہوگیا۔

اس آپریشن کی کامیابی میں ڈویژنل کمشنر سلوت سعید، آرپی او ڈاکٹر عابد، ڈپٹی کمشنر علی عنان قمر اور سی پی او عثمان اکرم گوندل کی بھرپور انتظامی و قانونی معاونت حاصل رہی۔ شرپسند عناصر کی طرف سے کسی بھی مزاحمت کی روک تھام کیلئے ایلیٹ فورس اور متعلقہ تھانہ کی پولیس کا دستہ حفاظتی اقدامات کیلئے موقع پر مامور رہا۔

ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری نے ایمرجنسی حالات میں کارپٹ سٹرک کے تعمیراتی عمل کی مسلسل مانیٹرنگ کی جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل عابد حسین بھٹی نے ہنگامی بنیادوں پر سٹرک کے تعمیراتی عمل کی براہ راست نگرانی کی۔ چیف انجینئر مہر ایوب گجر، ڈائریکٹر اسٹیٹ مینجمنٹ جنید حسن منج،پراجیکٹ ڈائریکٹر سانول ملک،ڈپٹی ڈائریکٹر انجینئرنگ طلحہ تبسم،اسٹیٹ آفیسر امتیاز علی گورایہ اور دیگر افسران اس موقع پر موجود رہے۔

بعض عناصرنے اس عوامی گزرگاہ کی جگہ کے ناجائز دعویدار بن کر مختلف عدالتوں میں بے بنیاد دعوٰی جات دائر کر رکھے تھے جس کے خلاف ایف ڈی اے نے معزز عدالت کے روبرو اپنا موقف پیش کیا تو فاضل جج نے عوامی گزرگاہ کا حق تسلیم کرتے ہوئے حکم امتناعی خارج کردیا جس کے بعد ایف ڈی اے کی طرف سے ہنگامی بنیادوں پر اضافی مشینری اور افرادی قوت لگا کر سٹرک کی کارپٹ تعمیر شروع کی گئی جو 24گھنٹوں کے اندر مکمل کرلی گئی۔ مین بلیووارڈ کی سٹرک کے اس حصے کی اکھاڑ بچھاڑ کے باعث نہ صرف ایف ڈی اے سٹی کے میگا ہاؤسنگ پراجیکٹ کی ترقی متاثر ہورہی تھی بلکہ یہاں کے رہائشیوں کو بھی آمدروفت میں مشکلات کا سامنا تھا، ایف ڈی اے سٹی کے رہائشیوں نے سٹرک کی کارپٹ تعمیر پر بے حد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر، ڈپٹی کمشنر، آرپی او، سی پی او، ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے اوردیگر افسران کا دل کی گہرایوں سے شکریہ ادا کیاہے اور کہا ہے کہ یہ دیرینہ مسئلہ ہنگامی بنیادوں پر حل کرکے ان کی سماجی زندگیوں کو سکون فراہم کیاگیاہے اور اب ایف ڈی اے سٹی کی ترقی کی راہیں صاف ہو گئی ہیں۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button