سنگاپور کارپوریشن پروگرام کے زیر اہتمام پائیدار و مربوط "ٹرانسپورٹ پلاننگ اینڈ مینجمنٹ” کے موضوع پر پانچ روزہ ورکشاپ سنگاپور میں اختتام پذیر ہوگئ


فیصل آباد(94 نیوز سٹی رپورٹر) سنگاپور کارپوریشن پروگرام کے زیر اہتمام پائیدار و مربوط "ٹرانسپورٹ پلاننگ اینڈ مینجمنٹ” کے موضوع پر پانچ روزہ ورکشاپ سنگاپور میں اختتام پذیر ہوگئ ہے جس میں پاکستان سے چیف انجینئر ایف ڈی اے مہر ایوب نے شرکت کی جبکہ ورکشاپ میں 25 سے زائد ایشیائی ممالک کے نمائندے شریک تھے۔ ورکشاپ کے دوران بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور بدلتے ہوئے اقتصادی منظرنامے کے پیش نظر، جدید اور مستحکم شہری نقل و حمل کے نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے جو بین الاقوامی معیار پر پورا اترے۔ ماہرین اور شہری منصوبہ سازوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ شہروں میں پائیدار، مؤثر اور قابل رسائی ٹرانسپورٹ کے نظام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے ٹرانسپورٹ پلاننگ اور اربن ڈویلپمنٹ کے ماہرین نے کہا کہ دنیا بھر میں کامیاب شہروں نے مربوط ٹرانسپورٹ کی منصوبہ بندی اور انتظام کے ذریعے شہریوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنایا ہے اس میں پبلک ٹرانسپورٹ کے جدید نظام، پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے لیے محفوظ اور آسان راستوں کی فراہمی، اور ماحول دوست ذرائع نقل و حمل کو ترجیح دینا شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے بڑے شہروں کو ٹریفک جام، آلودگی اور ناقص پبلک ٹرانسپورٹ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، ان مسائل پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم بین الاقوامی بہترین طریقوں سے سیکھیں اور اپنے شہری نقل و حمل کے ڈھانچے کو جدید بنائیں جس کے تحت جامع ٹرانسپورٹ کا ایک ایسا مربوط نیٹ ورک تیار کرنا جو بسوں، ٹرینوں، اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے طریقوں کو یکجا کرے، تاکہ شہری آسانی سے سفر کر سکیں۔ ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے لئے الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے پائیدار ٹرانسپورٹ کے طریقوں کو فروغ دینا ہے سمارٹ ٹیکنالوجی کو ٹریفک کے انتظامات، روٹ کی منصوبہ بندی، اور مسافروں کو حقیقی وقت کی معلومات فراہم کرنے کے لیے بروئے کار لانا ہے جبکہ پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ فٹ پاتھ اور سائیکل لینز کی تعمیر کو یقینی بنانا بھی پائیدار اور مربوط اربن ٹرانسپورٹ پلاننگ اینڈ مینجمنٹ کو حصہ ہے تاکہ شہروں میں صحت مند اور ماحول دوست سفر کو فروغ دیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام سے بھی اربن ٹرانسپورٹ کے منصوبوں میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور مہارت سے فائدہ اٹھایا جا جاسکتا ہے۔ ماہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ شہری نقل و حمل کی منصوبہ بندی اور انتظامات کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں اور اس مقصد کے لیے طویل المدتی حکمت عملی تیار کریں۔ بین الاقوامی معیار پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم اپنے شہروں کو رہنے کے لیے مزید بہتر اور پائیدار بنا سکتے ہیں۔ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے چیف انجینئر ایف ڈی اے مہر ایوب نے اربن ٹرانسپورٹ سسٹم کو عالمی معیار کے مطابق جدید بنانے کے منصوبوں کی ترویج کے لئے حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا اور بتایا کہ پنجاب کے بڑے شہروں میں بتدریج میٹرو بس سروس، ٹرین سروس، الیکٹرک بسوں کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے حال ہی میں فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں بس ریپڈ ٹرانزٹ( بی آر ٹی) کے تحت میٹرو بس سروس کی فراہمی کا اعلان کیا ہے جبکہ ایف ڈی اے اور ایشیائی ترقیاتی بنک کے اشتراک سے فیصل آباد کے لئے اس منصوبے کی ابتدائی پلاننگ مکمل ہو چکی ہے۔ انہوں نے اربن ٹرانسپورٹ پلاننگ اینڈ مینجمنٹ کے حوالے سے ورکشاپ میں شرکت کے لئے مدعو کرنے پر سنگاپور کارپوریشن پروگرام کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ورکشاپ کے دوران اربن ٹرانسپورٹ سسٹم کے بارے جدید تقاضوں سمیت متعدد تکنیکی ،انتظامی و فنی امور سے آگاہی حاصل ہوئی ہے۔



