عورت کو یکساں تعلیم، ہنر اور ملازمت کے مواقع فراہم کئے جائیں، پروین لطیف انصاری، ڈاکٹر انجم ملک


فیصل آباد(94 نیوز سٹی رپورٹر) خواتین کے عالمی دن کے موقعہ پر سوشل سکیورٹی ہسپتال مدینہ ٹاؤن میں تقریب منعقد کی گئی ڈاکٹر انجم ملک ایم ایس سوشل سکیورٹی ہسپتال مدینہ ٹاؤن ، پروین لطیف انصاری ویمن ورکرز الائنس، ڈاکٹر سنبل، شبنم جاوید ، فرحانہ کوثر، رناغفار، ملک شکیل، بابا لطیف انصاری چیئرمین پاکستان لیبر قومی موومنٹ صدر حقوق خلق پارٹی پنجاب نے شرکت کی۔ عالمی یوم خواتین نرسنگ سٹاف کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ سوشل سکیورٹی ہسپتال میں اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی کا قیام خوش آئند قدم ہے اس موقع پر عہد کرتے ہیں کہ خواتین کیلئے بنائے گئے قوانین پر جہدوجہد جاری رکھیں گے اس وقت فیصل آباد میں ہزاروں خواتین گارمنٹس فیکٹریوں اور صنعتی اداروں میں کام کرکے ملکی معیشت میں اہم رول ادا کررہی ہیں۔ پروین لطیف انصاری نے کہا عورتوں کے عالمی دن کا یہ مطلب نہیں کہ صرف عورت کی صنف نازک کی تعریف میں دو لفط بول دئیے جائیں تو عورت کا حق ادا ہو گیا عورتوں کے عالمی دن کا مطلب ہے کہ عورت کو اسکے سب بنیادی حقوق دئیے جائیں۔ عورت کو وراثت میں اس کا حق دو کسی بھی باپ بھائی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بیٹی یا بہن کو وراثت سے محروم رکھے۔ عورت کو یکساں تعلیم ہنر اور ملازمت کے مواقع فراہم کئے جائے عورت کو انسان سمجھا جائے۔ ملازم طبقہ عورت کو ہراساں کرنا بند کیا جائے چاہے وہ دفتر ہو تعلیمی ادارہ یاکسی کے گھر میں ملازم اسکو تحفظ دیا جائے ہر ملازم کو عزت دی جائے چاہے کوئی وزیراعظم ہے یا گھر دفتر سڑک کی صفائی کرنے والا عورت کو پسند کی شادی کا حق دیا جاے نہ کہ اسکو غلام بنا کر بیچا جائے عورت کو مالی طور پر مضبوط بنایا جائے عورت مرد کی غلام نہیں کہ وہ دن رات مرد کی خدمت کرے اسکے بچے پیدا کرے اور اسے سکون کے ساتھ دو وقت کی روٹی بھی نہ دی جائے گھر بچے مرد اور عورت دونوں کی ذمہ داری ہے صرف عورت کی نہیں دونوں مل کر اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کریں اور گھر کے کام کریں بیوی کسی مرد کی ماں نہیں ہوتی کہ وہ اسکی ہر خواہش پوری کرے گی اور بچے کی طرح اسکی دیکھ بھال کرے گی بلکہ ان دونوں نے مل کر ہر کام کرنا ہے اور ایک نئی نسل کو پروان چڑھانا ہوتا ہے اگر مرد کما کر لاتا ہے تو عورت گھر کی ہر طرح کی ذمہ داری پوری کرے لیکن اگر عورت مرد سے بہتر کما سکتی ہے تو مرد ساتھ گھر کو بھی سنبھالے جیسے عورت سنبھالتی ہے اگر ایک کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہے تو اسی طرح ہر کامیاب عورت کے پیچھے بھی مرد کا ہاتھ ہے بچوں کی تعلیم و تربیت اور گھر کی ذمہ داری صرف عورت کی نہیں بلکہ مرد اور عورت دونوں کی ہے عورت کو مضبوط بنائو عورت کمزور نہیں عورت کو کمزور اس لیئے بنایا گیا کیونکہ مرد نے ہمیشہ اسے ڈرا کر رکھا ہے تاکہ وہ اس پہ حکمرانی کر سکے لیکن مرد بھول گیا کہ اس دنیا میں اسے لانے والی عورت ہی ہے اور وہ اسی کا محتاج ہے ایک عورت کی بھی بحیثیت ماں ذمہ داری ہے کہ وہ بیٹوں کی تربیت کرے جو بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں کوئی ماں نہیں کرتی ماں بیٹے کو بتائے کہ کسی کی بیٹی پر تمہارا کوئی حق نہیں کہ تم راہ چلتی عورت کو ہاتھ بھی لگائو تمہاری بھی عزت ہے صرف عورت کی ہی عزت نہیں تم حلال حرام میں فرق کرو تم انسان ہو وحشی درندہ نہیں کہ تم جہاں عورت کو اکیلا پاو اسے کھاے کیلئے تیار ہو جاو جو کام ماں بیٹی کو کرنے سے منع کرتی ہے وہ بیٹے کو بھی منع کرے تب ہی معاشرے میں باعزت باکردار مرد جنم لیں گے ورنہ آپکو ہر گلی کوچے میں انسان کی شکل میں بھیڑیے نظر آئیں گے کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اسکی عورت مضبوط آزاد بہادراور خودمختار نہیں ہوگی ایک غلام عورت غلام نسل کو ہی جنم دے گی اگر آپ چاہتے ہو کہ آپ ایک آزد خودمختار باکردار اور ترقی یافتہ قوم ہوں تو سب ے پہلے اپنی عورت کو آزاد اور خودمختار بنائیں۔



