قومی

دینی مدارس امن و رواداری کے مراکز اور اسلام کے قلعے ہیں، علامہ ساجد میر

فیصل آباد (94 نیوز، میاں حمزہ سے) دینی مدارس امن و روا داری کے مراکز اور اسلام کے قلعے ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت لاکھوں نوجوانوں کی دینی و دنیاوی تعلیم کا اہتمام کر رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سربراہ وصدر وفاق المدارس السلفیہ پاکستان پروفیسر سینیٹر علامہ ساجد میر اور ناظم اعلیٰ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان پروفیسر چوہدری محمد یسین ظفر نے مرکزی جمعیت اہلحدیث پنجاب کے نائب ناظم نشر واشاعت خالد محمود اعظم آبادی سے گفتگو کے دوران کیا ۔انہوں نے کہا ڈی جی آئی ایس پی آر کی مدارس بارے لا علمی حیران و پریشاں کن ہے کہ پاکستان کے 50 فیصد مدارس کا نہ تو انہیں کوئی علم ہے اور نہ ہی ان مدارسِ کا کوئی مہتمم اور انتظامیہ ہے ۔پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ خفیہ اداروں کو علم نہ ہو کہ پچاس فیصد مدارس کون چلا رہا ہے ۔ سینیٹر پروفسر ساجد میر اور ڈاکٹر حافظ عبد الکریم نے سپریم کورٹ کی جانب سے قادیانی مبارک احمد ثانی کیس میں فیصلہ پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ قرآن وحدیث اور آئین پاکستان سے کھلم کھلا انحراف ہے سپریم کورٹ نے ایک حساس مسئلہ کو جان بوجھ کر چھڑا ہے جس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں کیونکہ قادیانی نہ صرف اسلام بلکہ پاکستان کے بھی دشمن ہیں انہیں کسی طرح بھی اپنے غلیظ ترین عقائد کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔لہذا عدالت عالیہ فی الفور اپنے فیصلے کو واپس لیں انہوں نے فلسطین کے عظیم مجاہد حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کی ایران کے دارالحکومت تہران میں سیکورٹی گارڈ سمیت شہادت پر گہرے زنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں شہادت لمحہ فکریہ ہے ان کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی ۔انہوں نے مزید کہا کہ دینی مدارس پاکستان کے وہ واحد ادارے ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت معاشرے کے بہترین افراد تیار کر رہے ہیں جبکہ حکومتی ادارے اربوں روپے کے فنڈز حاصل کرنے کے باوجود کچھ نہیں کر سکے ۔ دینی مدارس بھی دیگر اداروں کی طرح حکومت کے رجسٹرڈ ادارے ہیں انہیں دہشتگردی میں ملوث کرنا یا ان پر الزام لگانا سرا سر بے بنیاد اور غلط فہمی کا نتیجہ ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام دینی جماعتوں کے قائدین نے ہمیشہ حکومت اور سیکورٹی فورسز کے سربراہان کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خلاف کام کیا ہے اور ملکی استحکام ومذہبی منافرت کے خاتمے کے لئے مشترکہ نصاب تیار کیا ہے اور آج تک اس کی پاسداری کر رہے ہیں ۔ سابقہ ادوار میں بھی تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام و قائدین نے پیغام پاکستان کے نام سے مشترکہ نصاب تیار کیا تھا اس پر عمل درآمد تو حکومتی ذمہ داری ہے جبکہ اس کے برعکس ملک میں سینکڑوں سکول و کالجز کاغذوں میں تو موجود ہیں مگر پاکستان کی سر زمین میں ان کا وجود نہیں اگر ہے تو پھر ان میں پڑھنے اور پڑھانے والا کوئی نہیں ان کے بارہ میں تو انہیں کوئی علم نہیں جبکہ دینی مدارس کے بارہ من گھڑت بیان دیئے جا رہے ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button