کالم

28 مئی یوم تکبیر، ایٹمی دھماکے، اصل حقائق، ذوالفقارعلی بھٹو، جنرل ضیا الحق اور نواز شریف کا ایٹمی پروگرام میں کردار

جنرل پرویز مشرف اور عمران خان کا حقیقی آزادی بیانیہ کی ایک جھلک، محسن پاکستان سائنسدان ڈاکٹرعبد القدیر خان کے قومی ھیرو سے قومی مجرم تک درد بھرے سفر کی المناک داستان

94 نیوز: کڑوا کھرا سچ
کالم نگار طارق محمود جہانگیری کامریڈ

وزیر اعظم شہبازشریف کی جانب سے 28 مئی یوم تکبیر کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے دن 28 مئی یوم تکبیر کو سرکاری چھٹی قرار دیا گیا ۔ 28 مئی یوم تکبیر پر ملک بھرکے تمام سرکاری اور نجی ادارے بند رہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یوم تکبیر پاکستانی قوم کے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے اتحاد کی یاد دلاتا ہے۔ آج کے دن ملک کی سالمیت کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ملکی دفاع پر کسی قسم کا بیرونی دباؤ قبول کرکے سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم کے مطابق یوم تکبیر سیاسی اور دفاعی قوتوں کے اس ملک کے دفاع کو مضبوط تر بنانے کے لیے ایک جھنڈے، سبز ہلالی پرچم تلے متحد ہونے کی یاد دلاتا ہے۔ یوم تکبیر بیرونی دشمنوں کے ساتھ ساتھ ایسے بیرونی و اندرونی دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ہمیشہ ناکام بنانے کے عہد کی تجدید کا دن ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ھے کہ 28 مئی کا دن پاکستان کے مضبوط دفاع کی علامت کا دن ہے۔ یہ دن پاکستان کے جوہری تجربات کی تاریخی کامیابی کی یاد دلاتا ہے۔یوم تکبیر پاکستانی ملک وقوم کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے اتحاد کی یاد دلاتا ہے۔ لیکن 28 مئی یوم تکبیر کے ساتھ کچھ تلخ حقیقتیں بھی جڑی ھوئی ھیں ۔ بہت سے سانحات ، اور افسوسناک واقعات بھی جڑے ہوئے ہیں ۔ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری ، ایٹمی جوھری توانائی حاصل کرنے کا تمام تر سہرا سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے سر آتا ہے ۔ اس میں شک کی گنجائش نہیں ھے کہ ایٹمی طاقت کے خالق ذولفقار علی بھٹو ھیں ۔ ان کی درخواست اور ان کے پرزور اسرار مطالبہ پر سائنس دان ڈاکٹر عبد القدیر خان بیلجیم سے پاکستان آئے اور اٹیمی پروگرام پر راضی ھوئے ۔ لیکن ان دونوں محب الوطن پاکستانیوں کا انجام کیا ہوا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کو ٹیلی فون کی ایک گواھی پر پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیا گیا ۔ ان کا عدالتی قتل کیا گیا ۔ انصاف و قانون کی تاریخ میں اس جیسی ایک بھی مثال نہیں ملتی ھے ۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان جیسے قوی ھیرو کو پاکستان ٹیلی ویژن پر قومی مجرم بنا کر پیش کیا گیا ۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کا اس کی صفائی میں کہنا تھا اگر ھم ایسا نہ کرتے تو امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک ڈاکٹر قدیر خان کو پکڑ کر اپنے ساتھ لے جاتے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ 1998 سے لیکر 2021 تک ڈاکٹر عبد القدیر خان کو پکڑ کر کیوں نہیں لے گیا ؟ یاد رہے کہ یوم تکبیر پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم ترین دن کی اھمیت رکھتا ہے ۔ کیونکہ اس دن بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو پاکستان نے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے مقام پر پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کیے۔ اس لیے اس دن کو یوم تکبیر کے نام سے موسوم کیا گیا۔ یہ دھماکے پاکستانی سٹینڈرڈ وقت کے مطابق 3 بج کر 16 منٹ پر یہ ایٹمی دھماکے کیے گئے ۔ ان دھماکوں کی لرزش لاھور کے مختلف علاقوں میں بھی 3 بج کر 29 منٹ پر محسوس کی گئی ۔ اگرچہ لرزش کی شدت معمولی نوعیت کی تھی ۔ دنیا کی تیسری بڑی زمینی فوج، چوتھی بڑی فضائیہ اور پانچویں بڑی بحریہ رکھنے والا ملک بھارت 1974 میں ایٹمی تجربہ کر کے خطّے میں ایٹمی اسلحہ کی دوڑ شروع کر چکا تھا۔ پاکستان کو مجبوراً اس دوڑ میں اپنے دفاع کے لیے شامل ہونا پڑا۔ بھارت کا ایٹمی قوت بن جانے کے بعد خطہ میں طاقت کا توازن بری طرح سے بگڑ گیا تھا۔ اس لیے بھارتی ایٹمی تجربات کے بعد پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالم اسلام کی ایٹمی قوت بنانے کا فیصلہ کیا۔ بھارت نے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے عہد میں مئی 1998 میں ایک بار پھر ایٹمی دھماکے کیے۔ ان دنوں مسلہ کشمیر پر دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی اور سفارتی تعلقات کافی بگڑ چکے تھے ۔ بھارت نے ہر سطح پر پاکستان کے لیے دھمکی آمیز لہجے کا استعمال شروع کر دیا تھا ۔ پاکستان اس وقت تک ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکا تھا۔ واضح رہے کہ سابق صدر جنرل ضیاء الحق مارشل لاء دور کے دوران پاکستان 1984 میں ھی اٹیمی صلاحیت حاصل کر چکا تھا ۔لیکن اس کا واضع طور پر اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ 1984 میں کرکٹ ڈپلومیسی کے تحت جنرل ضیاء الحق جب بھارت کے دورے پر گئے تو انہوں نے احمد آباد اسٹیڈیم میں کرکٹ ٹیسٹ میچ کے دوران سابق بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو ایٹمی قوت بننے کی خوشخبری ان کے کان میں سنا دی تھی ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے تمام تر بین الاقوامی دباؤ کے باوجود پاکستان کو ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت منوانے کا سنہری موقع ضائع نہیں ہونے دیا اور 28 مئی کو چاغی میں 5 دھماکے کرکے بھارتی سیاست دانوں کا منہ بند کروا دیا تھا ۔ 27مئی1998ء کی دوپہر ڈاکٹر عبد القدیر نے اپنے مخصوص جلالی انداز میں غصے کی حالت میں ھمارے ایک صحافی بھائی سے کہا کہ کل شام پاکستان ایٹمی دھماکے کر رہا ہے لیکن ایٹمی توانائی کمیشن میں بیٹھے کچھ لوگ مجھ سے ایٹم بم بنانے کا کریڈٹ چھیننےکیلئے مجھے چاغی کے پہاڑ سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ مجھے چاغی تک پہنچنے کیلئے ہوائی جہاز فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ھے کہ اسی اثناء میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کے فون کی گھنٹی بجی کسی اعلیٰ افسر نے ان کو خوشخبری سنائی کہ ان کیلئے خصوصی جہاز کا انتظام کر لیا گیا ہے۔ جو ان کو 28 مئی 1998 کی صبح کوئٹہ سےچاغی پہنچائے گا۔ ڈاکٹرخان کا چہرہ خوشی سے گلاب کی طرح کھل اٹھا۔ یہ مصدقہ تفصیلات ھیں کہ اگلے روز جب ایٹمی دھماکوں سے کچھ دیر قبل چاغی کے پہاڑ پر ہیلی کاپٹر نے لینڈ کیا تواس میں سے ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبد القدیر خان کو اترتا دیکھ کر ان کے ہم پیشہ جوھری پروگرام کے ساتھی کچھ لیبارٹری ٹیکنیشن اور کئی سائنسدانوں کے چہرے مرجھا گئے ۔ جب 28 مئی کی سہ پہرساڑھے تین بجے پاکستان نے بھارت کے 5 ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں 6 ایٹمی دھماکےکر کے بھارت کا غرور خاک میں ملایا تو ڈاکٹر خان اور دیگر سائنسدانوں کے ’’ اللہ اکبر‘‘ کے نعروں سے چاغی پہاڑ گونج اٹھا۔ نواز شریف حکومت نے قوم کے ذہنوں میں ایٹمی قوت کے تصور کو اجاگر کرنے کیلئےاسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں چاغی پہاڑ کے ماڈل نصب کئے ،اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر نصب چاغی پہاڑ کا ماڈل اسلام آباد ایکسپریس کی کشادگی سڑک کی نذر ہو گیا۔ پاکستان کا یہ ایٹمی پروگرام ماڈل کئی ممالک کی نظروں میں یہ چبھتا تھا۔ جس طرح 22 فروری 1974 کو لاھور کی صوبائی اسمبلی ھال میں منعقد ہونے والی عظیم الشان شاندار یادگار دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کی رکھی ھوئی یادگاریں چھبتی تھیں ۔ جنرل ضیاء الحق نے بھٹو دشمنی میں ان یادگاروں ، ان تمام ماڈل کو مٹا دیا تھا ۔حکومت کو چاغی ماڈل فاطمہ جناح پارک میں منتقل کرنے کا بہانہ مل گیا۔ لیکن 9 مئی2023ء کو پی ٹی آئی کے کارکنوں اور عمران خان کی شخصیت پرستی میں مبتلا پیروکاروں نے جہاں دیگر فوجی تنصیبات کو اپنی نفرت کا نشانہ بنایا وہاں انہوں نے پشاور میں پاکستان کی ایٹمی قوت کی علامت کو بھی تباہ کردیا ۔ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی زندگی سیکورٹی کے نام پر قید میں گذاری ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1976میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا عزم عالیشان لے کر ہالینڈ سے اسلام آباد آئے تھے۔انہوں نے چند ہزار روپے نوکری کی پیشکش قبول کی تھی۔ انہوں نے انہتائی مختصر عرصے میں پاکستان کو دنیا کی ساتویں’’ایٹمی قوت‘‘ بنا دیا تھا۔ 1984 میں ’کولڈ ٹیسٹ کے ذریعے پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کی تصدیق ہو گئی تھی ۔چاغی کے پہاڑوں میں اٹیمی دھماکہ کے لیے سرنگ بھی تیار کرلی گئی تھی۔ لیکن عالمی دباؤ کے آگے جنرل ضیاالحق نے اپنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ھو گئے تھے ۔ بیرونی دباؤ اور کچھ سیاسی مصلحتوں کے تحت وہ ایٹمی دھماکہ نہ کر سکے۔ اس کے بعد 1985 سے لیکر 1997 تک کئی حکمران اور وزرا اعظم پاکستان آئے لیکن کسی حکمراں کو ایٹمی قوت بننے کا اعلان کرنے کی جرات نہ ھوسکی۔ جب بھارت نے مئی 1998 میں 5 ایٹمی دھماکے کرکے پوری دنیا سے ایٹمی قوت خود کو تسلیم کروا لیا۔ اس وقت کے وزیراعظم محمد نواز شریف پر افواج پاکستان کے اعلیٰ عسکری قیادت اور افواجِ پاکستان کی جانب سے اٹیمی دھماکہ کا دباؤ بڑھا۔ امریکی صدر بل کلنٹن کی 5 ٹیلی فون کالز میاں نواز شریف کو آئیں ۔نواز شریف کے لیے یہ ایک سخت وقت اور مشکل کی گھڑی تھی۔ بالاآخر وزیراعظم نواز شریف نے بھارت کے 5 ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں 6 دھماکے کر کے پاکستان نے ایٹمی قوت بننے کا اعلان کر دیا۔ پورے پاکستان اور مسلم ممالک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔۔ڈاکٹر عبد القدیر خان کا اپنے ایک انٹرویو کے دوران کہنا تھا کہ پاکستان نے 28 مئی1998 کو بھارت کی جانب سے ممکنہ جارحیت کے خدشے کے پیش نظر ایٹمی میزائلوں سے لیس میزائل پاکستان کی سرحدوں پر نصب کرنے کی خبر دی گئی ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ وہ لوگ بھی حاصل کرتے ہیں جو دھماکے کے روز پاکستان سے راہ فرار اختیار کر کے دبئی جا پہنچے تھے ۔ ن لیگ کے حمایتی ارکان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سمیت کئی مسلم لیگی لیڈروں نے ایٹمی دھماکوں سے پیدا ہونے والی سنگین صورت حال سے نواز شریف کو ڈرایا لیکن جب محمد نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کر لیا تو کوئی بین الاقوامی دباؤ قبول نہ کیا۔جس طرح تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو کو ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے کے کریڈٹ سے محروم نہیں کیا جاسکتا اسی طرح ایٹمی قوت بننے کیلئےدھماکے کرنے کا اعزاز محمد نواز شریف سے نہیں چھینا جا سکتا ہے۔ محسن پاکستان ڈاکٹر خان نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اپنا اھم کلیدی کردار ادا کیا۔ 96 فیصدی یورینیم فرانسس سے لائے۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں جہاں ذوالفقار علی بھٹو ، جنرل ضیا الحق اور محمد نوازشریف کاکردار ہے وہاں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ڈاکٹر ثمر مبارک کا بھی نمایاں کردار ہے۔ یو م تکبیر مناتے وقت حکمرانوں اور پوری قوم کو اٹیمی پروگرام پلان کے تمام کرداروں کی عظیم الشان گرانقدر خدمات کو یاد رکھنا چاہئے۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر اس وقت فانی جہاں میں موجود نہیں ہیں ۔ بےوفائئ ناانصافیوں، محسن کشی کے ھزراوں داغ اور صدمات اپنے سینے میں لے کر خالق حقیقی سے جا ملے ہیں ۔ڈاکٹر عبد القدیر خان کے پیغام کے بغیر یوم تکبیر مکمل نہیں ہے۔ 28 مئی2021 کے لئے ھمارے ایک ساتھی میڈیا پرسن نے یوم تکبیر کا ایک پیکیج تیار کیا۔ رات آٹھ بجے کے قریب اس خاتون صحافی کو آفس سے ایک فون آیا جس میں کہا گیا کہ میڈم سرکاری آرڈر کے تحت یوم تکبیر کے موقع پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کوئی تحریری یا وڈیو پیغام شائع اور نشر کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ یہ تبدیلی سرکار کا دور تھا ۔ غلامی اور حقیقی آزادی بیانیہ کے دعوے دار عمران خان وزیراعظم پاکستان تھے۔ اس میڈیا پیکیج سے محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کا نام اورپیغام نکال دیا گیا ہے۔ 28 مئی یوم تکبیر کو ایک نجی نیوز چینل سے یہ خصوصی پیکیج ان ائیر کیا گیا۔ اس میڈیا پیکج میں ڈاکٹر عبدالقدیر کا وڈیو پیغام تو دور کی بات ہے ان کا کہیں ذکر تک نہیں تھا۔ "ھم کوئی غلام ھیں” کا نعرہ لگانے والے قیدی نمبر 804 سے یہ سوال پوچھنا بھی ضروری ہے ۔ 28مئی2021 کو تحریک انصاف اور اس وقت کے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے یہ حکمنامہ میڈیا کو کیوں دیا تھا۔ یہ ایک اھم سوال ھے ۔ محسن پاکستان نے اپنی رسوائی اور توھین آمیز ھتک سے چند عرصہ قبل اپنے ایک ٹی وی چینل انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ 1974 میں بھارت نے جب پہلا ایٹمی دھماکہ کیا میں اس وقت یونیورسٹی آف لیون بلجیم سے فزیکل میٹرلجی میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ میں نے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھا کہ پاکستان کو بھی فوری طور پر ایٹمی دھماکہ کرنا چاہئے اور اگر میری اس تجویز پر عمل نہیں کیا گیا تو پاکستان کا وجود ختم ہو جائے گا۔ اور آئندہ دس سال میں مغربی پاکستان بھی باقی نہیں رہے گا۔ اور ہندوستان اس کا تیہ پانچا کر دے گا۔ ڈاکٹر عبد القدیر کا مزید کہنا تھا کہ اس خط کے جواب میں سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے مجھے پاکستان آکر اس پروجیکٹ پر کام کرنے کی دعوت دی۔ ان کی دعوت پر میں نے یہاں آ کر اٹامک انرجی کمیشن کے لوگوں کو ایٹم بم کے پروجیکٹ پر کام کرنے کی تفصیلات بتائیں اور پھر واپس چلا گیا۔ 1975 میں پاکستان آیا تو ایٹم بم پروجیکٹ پر کچھ بھی کام نہیں ہوا تھا۔ میں نے ذوالفقار علی بھٹو کو بتایا تو انہوں نے درخواست کی کہ آپ واپس نہ جائیں اور یہیں رہ کر یہ کام کریں۔ میں اور اہلیہ صرف چند کپڑے اور کتابیں لے کر آئے تھے۔ میں نے ذوالفقار علی بھٹو سے کہا کہ میں دو تین ماہ کے بعد واپس آ جاؤں گا لیکن انہوں نے جانے سے منع کر دیا۔ میں نے اپنی بیگم سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اگر آپ پاکستان کی بھلائی کے لئے کوئی کام کر سکتے ہیں تو ہم رک جاتے ہیں اس طرح ہم یہاں رک گئے۔ اندھی تقلید اندھے اعتقاد یقین اعتماد میں مبتلا بےخبر قوم کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے دن رات پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں صرف کر دیئے ۔ وہ پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر اور مضبوط بنانا چاہتے تھے۔پاکستان کے لئے بیلجیم سے اپنا سب کچھ چھوڑ آئے تھے ۔ 28 مئی 1998کو بلوچستان میں ضلع چاغی میں پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے محسن پاکستان فخر پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر اور ان کے ساتھی سائنس دانوں کی محنت لگن کے نتیجے میں پاکستان نے پہلی اسلامی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ذولفقار علی بھٹو اور عمران خان کا آپس میں موزانہ کرنے والے دیوانوں کو حق وباطل , جھوٹ سچ میں تمیز کرنے کی سوچ اور ظرف پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس بات کو بھی یاد کرنا چاہیے کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔ ان کی قدر کرتی ہیں۔ ان کے کارناموں کو اسکولوں کے نصاب کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

ہماری صحافی برداری کے ایک نامور سینٹر صحافی سہیل وڑائچ کو انٹرویو دیتے ہوئے محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے جو باتیں کی وہ ھمارے سماج ھمارے معاشرے ، ھمارے نظام کے منہ پر ایک طمانچہ ہے ۔ ایک آئینہ ہے ۔ ایک نصیحت آموز سبق ھے ۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام نے مجھے بہت پیار اور محبت دی ہے۔ لیکن یہاں کے حکمران لٹیرے، ڈاکو، چور، بے ایمان اور مغرب کے غلام ہیں۔ انہیں یہ فکر نہیں ہے کہ قدیر خان ہیرو ہے اس نے قوم کو کچھ بنا کر دیا ہے۔ انہیں صرف یہ فکر ہے کہ اگر ہم ڈاکٹر صاحب سے بات کریں گے تو امریکہ ناراض ہو جائے گا۔ انہیں امریکہ کی حمایت زیادہ عزیز ہے۔ میں نے دن رات کام کر کے پاکستان کو ایٹمی قوت بنا دیا۔ جب پاکستان آیا تو چھ ماہ کے بعد صرف تین ہزار روپے تنخواہ ملی اور بتیس سال کے بعد ملک کو ایٹمی اور میزائل قوت بنا کر ریٹائر ہوا تو صرف چار ہزار چار سو چھیاسٹھ روپے پینشن ملی تھی۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان زندگی کی آخری سانسوں تک سیکورٹی کے حصار میں رہے۔ انہوں نے آزاد شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے لئے عدالت سے درخواست بھی کی۔ ڈاکٹر عبد القدیر کا کہنا تھا کہ عدالت والوں کے کان میں کہہ دیا جاتا ہے کہ عبدالقدیر خان کو امریکہ اٹھا کر لے جائے گا لیکن حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ جب ہم بم بنا رہے تھے۔ جب بنا چکے اور ایٹمی دھماکے کئے تو مجھے امریکہ نہیں لے گیا۔ میں تو اب بھی سیکورٹی کے بغیر رہنا اور نقل و حرکت کرنا چاہتا ہوں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر جیسے محسن صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اپنی ایک سیاسی جماعت بھی بنائی لیکن 2013 کے انتخابات کے فورا بعد یہ جماعت بھی جنرل اسلم بیگ جماعت کی طرح صفحہ ھستی سے مٹ گئی ۔ ڈاکٹر خان جماعت کے ترجمان الفت رسول سے فون پر سیاسی امور پر اکثر بات چیت ہوتی رھتی تھی ۔ اسی طرح ڈاکٹر کیو سے بھی خیریت و عافیت حال و حوال اور ان کے کینسر ھسپتال کی تعمیر کے سلسلے میں بھی رابط رھتا تھا ۔ کسی دور میں حساس ادارے کے عنصر نامی ڈاکٹر خان کی سکیورٹی کے فرائض انجام دیتے رہے ھیں ۔ لاھور کے مناواں علاقے میں آنٹی ٹیررازم سکواڈ سنٹر کی تعمیر کے دوران عنصر سے اکثر راز و نیاز کی باتیں ھوتی رھتی تھیں۔ ڈاکٹر خان کے بارے میں بہت سی باتوں کے بارے معلومات حاصل ھوئیں۔ عنصر جی ان دنوں ایلیٹ فورس سنٹر میں انسٹرکٹر کے فرائض انجام دے رہے تھے ۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ریاستی مجرم سے ریاستی جنازے تک اور قومی مجرم بننے کی داستان بڑی دردناک افسوسناک ہے ۔ جس کو الفاظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ ان کی روداد سننیں اور سننانے کے لیے بڑے حوصلے اور ھمت کی ضرورت ہے ۔ دل و جگر بڑا ھونا چاھئے ۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ڈاکٹر خان کو جوہری دھماکے کے لیے ہونے والی تیاری و انتظامات سے الگ کر دیا گیا تھا۔ پاکستان کی طرف سے جاری ان تیاریوں کی نگرانی اٹامک انرجی کمیشن اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند کر رہے تھے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک کی قومی میڈیا میں شہرت ڈاکٹر خان کی مقبولیت کے مد مقابل آ گئی تھی۔1990 کے وسط میں اٹیم بم کے کمپیوٹر پر تجربات ھو چکے تھے۔ وائبریشن ٹیسٹ پہلے ہی ہو چکے تھے۔ پڑوسی ملک یہ بات پہلے ہی جانتا تھا ۔ وزیراعظم نوازشریف خدشے کے پیش نظر پہلے ہی غوری میزائل نصب کرنے کا حکم دے چکے تھے۔ ان کو یہ دھڑکا تھا کہ دشمن مہم جوئی کی کوشش کر سکتا ہے۔ پاک فضائیہ بھی ہائی الرٹ تھی۔ اس قوم کے زی شعور افراد جن کی تعداد اب بہت ھی کم رھے گئی ہے ۔ کیونکہ ملت کے بہت سے افراد اندھی تقلید اندھے اعتقاد یقین میں اپنی بصیرت بنیائی کھو چکے ہیں ۔ان کو شاید یاد ھوگا کہ سابق صدر جنرل مشرف کی حکومت نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر غیرقانونی جوہری سرگرمیوں کا الزام لگایا تھا۔ جنرل مشرف کی حکومت کو ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو جوہری صلاحیت کی منتقلی میں ڈاکٹر خان کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی خبریں شائع کرانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل خالد قدوائی نے منتخب کردہ چند صحافیوں کے ایک گروپ کو بلایا اور پھر انھیں ڈاکٹر خان کی غیرقانونی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ نیوز چینلز کے ڈائریکٹر نیوز کسی اعلیٰ حکومتی عہدیدار کی جانب سے ڈاکٹر خان کی گرفتاری کی تصدیق کے بغیر بریکنگ نیوز چلانے پر آمادہ نہیں تھے۔ واضح رہے کہ دیگر ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے الزام میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کو 31 جنوری 2004 میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ چار فروری کو پاکستان ٹیلی ویڑن پر ڈاکٹر خان سے ایک اعترافی بیان دلوایا گیا۔ جس میں فخر پاکستان نے ان کارروائیوں کی تمام ذمہ داری قبول کر لی تھی جبکہ فوج اور حکومت کو بری الزمہ قرار دے دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ وہ دعویٰ تھا جو بہت سارے جوہری ماہرین تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے۔ اگلے دن صدر جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر خان کو معافی دے دی لیکن 2009 تک انھیں ان کے گھر میں نظربند رکھا گیا۔ مغربی ناقدین نے حکومتی نرم رویہ پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ۔ محب الوطن پاکستانیوں کی نگاہ میں ڈاکٹر خان قومی عزت و وقار کی علامت تھے۔ ہیرو اور محسن تسلیم کیا جاتا تھا۔ کیونکہ ڈاکٹر خان نے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی قومی سلامتی کو مضبوط اور ناقابل تسخیر بنایا تھا۔ جبکہ مغربی ماہرین کی رائے بالکل مختلف تھی۔ ان کی رائے تھی کہ ڈاکٹر خان نے اپنی زندگی کا سفر جوہری پھیلاؤ کے طور پر شروع کیا تھا ۔ آخر کار ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا اختتام بھی ان کی مبینہ جوہری پھیلاؤ کی سرگرمیوں پر ہی ہوا۔ یاد رہے کہ اگست 2009 میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے بتایا تھا کہ میں نے 17 ستمبر 1974 میں بھٹو کو خط لکھا کہ میرے پاس مطلوبہ مہارت ہے۔ بھٹو کا جواب بہت حوصلہ افزا تھا۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی دھمکی نے 1987 میں پاکستان بھارت جنگ ٹالی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کی ٹیکنالوجی پاکستان سے بہت بہتر ہے۔ مئی 1981 میں اٹیمی پروگرام لیبارٹری کا نام خان ریسرچ لیبارٹری ( کے آر ایل) رکھ دیا گیا۔ مسلم لیگ ن 28 مئی کو یومِ تکبیر کا دن قرار دیتی ہے ۔ اٹیمی دھماکوں کو میاں نواز شریف کا عظیم کارنامہ تصور کیا جاتا ہے ۔ اس کارنامہ پر میاں خاندان آج بھی ناز و فخر محسوس کرتا ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ھمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ مئی 1998 کے جوہری دھماکے کرنے کے حق کو حاصل کرنے کے لیے ڈاکٹر خان نے اسلام آباد کی بیوروکریسی کے پورے نظام کے اندر جنگ لڑی تھی۔ اور ان کے مدمقابل پاکستان اٹامک انرجی کمشن کا ادارہ تھا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے مئی 1998 کے دوسرے ہفتے میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے سامنے اپنا موقف اور مقدمہ بھی پیش کیا تھا۔ انھوں نے زور دیا تھا کہ خان لیبارٹری پوری طرح سے تیار ہے اور اگر ڈی سی سی یعنی کابینہ کی دفاعی کمیٹی حکم دے تو دس دن کے اندر جوہری دھماکے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جوہری شعبے میں کے آر ایل مکمل طورپر خودمختار تھا۔ ڈاکٹر خان نے کہا تھا کہ جوہری شعبے میں پہلی رسائی خان لیبارٹری کی وجہ سے ہوئی لہذا پاکستان کے پہلے جوہری دھماکوں کو انجام دینے کا اعزاز بھی اسے ہی ملنا چاہیے۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو یہ ادارہ مایوسی اور بددلی محسوس کرے گا۔
بعد ازاں ڈاکٹر ثمرمبارک مند نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا تھا کہ ڈاکٹر خان کا بلوچستان میں جوہری دھماکوں کے مقام چاغی پر ہونے والے انتظامات سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ ڈاکٹر ثمرمبارک کا کہنا تھا کہ جب دھماکے کیے گئے تھے تو ہماری ٹیم 20 مئی کو وہاں پہنچی تھی اور 28 مئی کو علی الصبح جوہری دھماکوں کے لیے کھودی گئی سرنگوں کے منہ بند کر دیے گئے تھے۔ اور جوہری دھماکے کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ ڈاکٹر ثمر مبارک کا مزید کہنا تھا کہ وہ پاکستان اٹامک انرجی کمشن کے چیئرمین کی دعوت پر وہاں آئے تھے اور وہ جوہری دھماکوں سے پندرہ منٹ پہلے آئے تھے۔ قوم کا حق پرست وفاشعار طبقہ عبدالقدیر خان کو پاکستان کی سلامتی کی علامت سمجھتا ہے ۔ ھمارے کچھ سائنس دان حضرات ڈاکٹر عبد القدیر خان کا تعارف سائنسدان کے بجائے دھاتوں کے ماہر کے طور پر کراتے ہیں ۔ اسی لیے ڈاکٹر کیو خان کا کردار افزودہ مواد کی تیاری میں اجاگر کرنا شروع کر دیا گیا ۔ اگست 2016 میں امریکی کانگریس ریسرچ سروس نے ایک رپورٹ شائع کی۔ اس رپورٹ میں پاکستان کے سابق جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان یورینیم مواد کے حصول کا ذریعہ بنے اور نتیجتاً یورینیم افزودگی سے متعلق ڈیزائن اور مواد کی لیبیا، شمالی کوریا اور ایران کو فراہمی کے لیے اسی طرح کا نیٹ ورک استعمال کیا گیا ۔ پاکستانی اٹیمی دھماکوں کے وقت سے قبل یہ کہا جانے لگا کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کبھی بھی جوہری بم کے ڈیزائن سے منسلک نہیں رہے ھیں۔ بلکہ ان کی کاوشیں انتہائی اعلیٰ معیار کی افزودہ یورینیم کے مواد کی تیاری تک محدود تھیں۔ ڈاکٹر ثمر مبارک نے یہ دعویٰ کرنا شروع کیا کہ جوہری دھماکوں کے ڈیزائن کے کولڈ ٹیسٹ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے ان کی نگرانی میں 1980 کے وسط میں کیے تھے۔ پاکستان ڈیفنس جرنل کی رپورٹ 2000 کے مطابق پی اے ای سی کو دو اضافی امتیاز حاصل تھے۔ جو کے آر ایل کو نہیں تھے۔ پی اے ای سی نے چاغی میں پاکستان کے جوہری دھماکوں کے مقام کو تیار کیا تھا۔ یہ دراصل جوہری بیانیے پر ڈاکٹر عبد القدیر خان کی اجارہ داری کے اختتام کا آغاز تھا۔ ریاستی مشینری کے اندر سے بھی اس قسم کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے دو سال قبل 86 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ جنازہ سے پہلے موسلادھار بارش شروع ہوگئی تھی ۔ جنازہ میں پاکستان کے کسی بڑی سیاسی شخصیت یا بڑے رانما نے شرکت نہیں کی ۔ غلامی اور حقیقی آزادی کے دعوے دار وزیر اعظم عمران خان نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کی مزاج پرسی ، عیادت کرنے کی تکلیف گوارہ نہیں کی۔ نمازہ جنازہ میں شرکت کرنا تو بہت دور کی بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم محسن پاکستان ، فخر پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کی مغفرت و بخشش فرمائے ۔ اور ھماری قوم اور ھمارے معاشرے کو اپنے قومی ھیرو ، پیدائشی حقیقی انقلابی لیڈروں اور مداری مسخرے سیاسی اداکاروں میں تمیز کرنے ، سچا جھوٹا میں پہچان کرنے کی دانش اور عقل و شعور عطا فرمائے. آمین ثم آمین رب العالمین۔

نوٹ: کالم نگار کی اپنی تحریر ہے۔ ادارہ کا کالم نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button