یکم مئی، عالمی یوم مزدور، پاکستان میں کسان ومزدور کی حالت زار اور حکومتی دعوے

نیند آئے گی بھلا کیسے اسے شام کے بعد روٹیاں بھی میسر نہ ہوں جسے کام کے بعد

94 نیوز، طارق محمود جہانگیری کامریڈ۔ یکم مئی یوم مزدور پر پاکستان میں بھی عام تعطیل ہوتی ہے۔ لیکن ھمارے ھاں اس دن صرف چھٹی ھوتی ھے۔ لیکن عملاً مزدور دن نہیں منایا جاتا ہے۔ اس عالمی دن کے موقع پر فیکٹریوں اور ملوں میں صنعتی مزدور آپ کو کام کرتے نظر آئیں گے ۔ اسی طرح اجرتی مزدور آپ کو بلند و بالا عمارتوں پر، کھلی سڑکوں، گلیوں اور اڈوں پر مزدور مزدوری کے لیے کھڑے نظر آئیں گے ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسان زمین پر خدا کا نائب ھے ۔ ھمارا حکمران طبقہ، ملکی اشرافیہ ، ملک کے امراء اور رؤسا کی شان و شوکت، ٹھاٹھ باٹھ کسان کی محنت کے طفیل زندہ و تابندہ ھے ۔ کسان خوشحال تو پاکستان خوشحال ھے ۔لیکن آج ھمارے ملک میں کسان گندم کی فروخت کے لیے سڑکوں پر سراپا احتجاج ھے خوشحال ھونے کی بجائے پریشان حال ہے ۔ باردانہ کے حصول کے لیے محکمہ زراعت دفاتر کے چکر کھاتا پھر رہا ہے ۔ حکومتی وعدوں کے باوجود کسانوں سے 3900 روپیہ کے عوض گندم نہیں خریدی جا رھی۔ اپنے حقوق کے لیے کلمہ حق بلند کرنے والے کسانوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں ۔ ان کو گھروں سے اٹھایا جارہا ہے ۔ انہیں گرفتار کیا جارہا ھے ۔ احتجاج کرنے والے مظلوم محنت کش کسان طبقہ پر لاٹھیاں برسائی جا رھی ھیں ۔ اجرتی اور صنعتی مزدور تہذیب و تمدن کا پروردگار ھوتا ھے ۔ لیکن ھمارے ملک میں صعنتی مزدور کو کسی قسم کی مراعات حاصل نہیں ھیں ۔ صنعتی مزدور کو اس کی محنت کا صحیح معاوضہ ادا نہیں کیا جا رہا ہے۔ جائز اجرت نہیں دی جا رہی ہے ۔ کسی مسخرے سیاسی اداکار راہنما کے مداری پن سے قوم میں شعور پیدا نہیں ھوتا ھے صنعتی انقلاب سے شعور پیدا ھوتا ھے ۔ ہمارے معاشرے میں ھمارے ملک میں مزدور طبقہ کو بےشمار مسائل کا سامنا ہے۔ اجرتی مزدور کو طبعی سہولیات میسر نہیں ہیں ۔

اجرتی مزدور مٹھی بھر چاول اور آٹا کے لیے تڑپ رھا ھے ۔ یاد رہے کہ یکم مئی 1986ء کو شکاگو کے محنت کشوں نے اپنی جانوں کا نذارانہ دیکر غلاموں کی طرح سولہ سولہ گھنٹوں کام لینے کے خلاف جدوجہد کر کے آٹھ گھنٹے روزانہ اوقات کار منظور کرائے اور 19ویں صدی میں صنعتی ممالک میں محنت کشوں نے مسلسل جدوجہد اور قربانیوں سے بنیادی حق انجمن سازی حاصل کیا۔ اس سے قبل محنت کش طبقہ اپنے حق کیلئے آواز اٹھاتے تو انہیں بغاوت قرار دے کر پھانسیاں دی جاتی تھیں ۔ لیکن افسوس کہ کسانوں اور مزدوروں پر اس معاشی و اقتصادی مظالم آج بھی ڈھائے جارھے ھیں ۔ منحت کش مزدوروں کا آج بھی معاشی قتل عام ھورھا ھے ۔ پاکستان میں اشرافیہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے تو بے شمار قوانین بناتی ہے لیکن ھماری اشرافیہ ، ھمارے حکمران ٹولہ نے کسان و مزدور کی خوشحالی اور ترقی کے لیے قانون سازی کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی ہے ۔ اس میں شک کی قعطا کوئی گنجائش موجود نہیں ہے اور یہ سو فیصد سچی بات ھے کہ کارل مارکس دنیا کے واحد اول و آخر پیدائشی حقیقی انقلابی تبدیلی عظیم لیڈر ھیں۔ کارل مارکس جیسا مزدور کسان دوست کوئی اور حقیقی انقلابی لیڈر آج تک دنیا کی تاریخ میں پیدا ھی نہیں ہوا ھے ۔ ہمارے ہاں قرآن وحدیث دین اسلام کی بڑی بڑی باتیں کی جاتی ہیں ، دلیلیں ، تاویلیں دی جاتی ھیں ۔ تفسیریں بیاں کی جاتی ہیں لیکن عملاً کچھ بھی نہیں کیا جاتا ہے ۔ رحمت اللعالمینؐ صلی علیہ وآلہ وسلم نے محنت کو عبادت کا درجہ قرار دیا اور مسجد نبوی کی تعمیر میں خود محنت کر کے محنت کی عظمت کو سربلند کیا۔ آج کے سائنس وٹیکنالوجی اور اقتصادی دور میں پاکستان کی ریاست کا فرض بنتا ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئینی دیباچہ کے مطابق سماج میں استحصالی نظام کے خاتمہ اور آئین کے ضمانت شدہ حقوق بمطابق آرٹیکل نمبر11، سماج میں کمسن بچوں کی جبری محنت کے خاتمہ، آرٹیکل نمبر 14 کے تحت انسانی عظمت کا تحفظ، آرٹیکل نمبر9 کے تحت زندگی کیلئے بنیادی ضروریات کی فراہمی اور آرٹیکل نمبر37 اور 38 کے مطابق اپنی آئینی و قانونی ذمے داری ادا کی جائے۔ صعنتی کارکنوں کے لیے صحت مند حالات کار ، معقول اجرت ، سماجی تحفظ فراہم کرنا چاہیے ۔ سماج میں امیر و غریب کے مابین فرق دور کرنے کی خاطر اجرتی مزدوروں صنعتی کارکنوں کے بجوں کی تعلیم و تربیت اور ان کو روزگار فراہم کرنے لیے جامع مقصد کی تکمیل، دیر پا مستحکم منصوبہ بندی کا فوری بندوست کیا جانا چاہیے ۔ پاکستان میں عالمی ادارہ محنت اور اقوام متحدہ حقوق کے تحفظ و بہتری کیلئے اہم کنونشنز کی توثیق کی جانی چاہیے ۔ ملکی قوانین کو عملدرآمد کرنے کیلئے ہم آہنگ کرنے کی سخت ضرورت ھے ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ھمارے ملک پاکستان میں جاگیر دارانہ و سرمایہ دارانہ نظام کو دن بدن تقویت مل رہی ہے ۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کا سفاکانہ نظام پوری طرح سے رائج ھوچکا ھے ۔ چند افراد کے ہاتھوں میں دولت کی اجارہ داری ھے ۔ سماج میں تعلیم کاروبار کی حیثیت اختیار کرنے سے غریب کسان مزدور کے بچے تعلیم سے محروم ھیں۔ چند حکومتی گھرانے ، مراعات یافتہ بااثر خاندان ہاسنگ سوسائٹیوں کے وسیع کاروبار سے راتوں رات زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ اسکیموں کو قائم کرنے سے خود اربوں روپے کے مالک بن گئے ہیں۔ جبکہ بدحال کسان اور اجرتی و صنعتی مزدور طبقہ دو مرلہ کا مکان بھی تعمیر نہیں کر سکتا ہے ۔ ملک میں مروجہ مزدور قوانین پر موثر عمل نہ ہونےکی وجہ سے کسان و مزدور غیر محفوظ حالات کار اور قلیل اجرتوں، سماجی تحفظ سے محروم ھے ۔ ھمارا اندھا سماج اور مادیت پرست معاشرہ کمسن بچوں کی جبری محنت اور خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کی لعنتوں سے دوچار ھے۔ ھمارے حکمران طبقہ، اشرافیہ کی حکومتوں نے قوم کو غیر ملکی قرضوں سے آزاد کرانے کی بجائے اقتصادی طور پر آئی ایم ایف، ورلڈ بینک کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے۔ جس کی وجہ ٹیکس کا 70 فیصدی حصہ ان کے قرضوں کے سود میں متوسط طبقات ، کسانوں مزدوروں کو ادا کرنا پڑتا ھے ۔ اجرتی و صنعتی مزدور طبقہ کو معقول اجرتوں کی ادائیگی یقینی بنانے، انہیں بڑھاپے، بیماری، حادثہ میں محفوظ سماجی تحفظ فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ ھمارا مزدور طبقہ سماج میں محنت کی عزت و تکریم احترام کے لیے تشنہ طلب ھے۔ ملک میں 80 فیصد ٹیکس گزار تنخواہ دار ملازم ہیں جبکہ ملک کی اکثریت میں سرمایہ دار و جاگیردار، تاجر اور بعض سیاستدان برائے نام ٹیکس دیتے ہیں۔ وقت کا تقاضہ ہے ان سے ٹیکس وصول کر کے ملک میں بڑھتی ہوئی غربت، محنت کشوں کی فلاحی و بہبود، بچوں کی تعلیم، ھاری کسان و مزدور کے علاج معالجہ کیلئے سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ملک میں نہ صرف قانونی انصاف بلکہ سماجی و اقتصادی انصاف بھی محنت کشوں اور غریب عوام کو میسر ہونا چاہیے ۔


