کالم

وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز اور لاہور میں ترقیاتی کاموں کی بھرمار

تجزیاتی رپورٹ ( 94 نیوز نمائندہ لاہور، طارق محمود) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کرم نوازی اور مہربانیوں کی وجہ سے شہر لاہور میں ترقیاتی کاموں کیلئے ترقیاتی فنڈز کے منہ کھول دیئے گئے ھیں ۔ لاھور کے 14 قومی حلقوں اور 32 کے قریب صوبائی حلقوں میں ترقیاتی کام شروع ھو جائیں گے ۔ دیکھنا اب یہ ھے کہ کیا عام انتخابات کے دوران کئے گئے وعدوں کے مطابق این اے 127 اور پی پی 162 ٹاؤن شپ لاھور کے حلقہ میں ترقیاتی منصوبہ جات پر برق رفتاری سے آغاز ھوسکے گا ۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو کو شکت دینے کی صورت میں نومنتخب وزیر اعظم شہباز شریف نے عطا اللہ تارڑ کو بلینک چیک دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ ایم این اے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ اور نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی ملک شہباز کھوکھر کی ترقیاتی کمیٹی کے ارکان یوسی چیرمینز وائس چیئرمینز اپنی ذمے داریاں ، اپنا فریضہ خوش اسلوبی سے کیا انجام دے سکیں گے ۔ کیا ترقیاتی منصوبوں کا آغاز جلدی ھوسکے گا ۔ کیونکہ جولائی سے پہلے یہ ممکن نہیں ہے رکن صوبائی و قومی اسمبلی کا کام قانون سازی کرنا، ملک کو درپیش چیلنجرز اور ممکنہ معاشی لاحق خطرات سے نکالنا ھے ۔ گلیاں نالی بنانا نہیں ھے ۔شہریوں کو جدید بنیادی سہولیات کی فراہمی صوبائی سرکاری تعمیراتی محکمہ جات کی ذمےداری بنتی ہے ۔ ان صوبائی محکموں کو سالانہ اربوں روپے ترقیاتی فنڈز اور اعلیٰ افسران کو لاکھوں روپے ماھانہ تنخواہیں کس مقصد کے لیے دی جاتی ھیں ۔ سٹریٹ لائٹس کی مرمت ، سنیٹیشن ، گلی محلوں کی سڑکوں کی صفائی بلدیاتی اداروں، بلدیاتی نمائندوں کے فرائض اور ذمےداریوں میں شامل ہے ۔ نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کے حق میں کوئی بھی حکمران سیاسی جماعت سنجیدہ دیکھائی نہیں دیتی ۔ ارکان صوبائی اسمبلی کی من مانی، اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے گزشتہ دس برسوں کے دوران صوبہ پنجاب میں ابھی تک بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ھوسکا ھے ۔ آج کے دور میں ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اپنے ترقیاتی فنڈز کا مبینہ طور پر 40 فیصد کمیشن لیتے ہیں ۔ تعمیراتی کمپنیاں بھی فرضی ھوتی ھیں ۔ تعمیراتی کاموں کے ٹھیکہ جات منظور نظر لوگوں کو نوازے جاتے ہیں ۔

ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کی رسم 1985 میں ڈاکٹر محبوب الحق کے دور میں شروع ہوئی

ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کی رسم 1985 میں ڈاکٹر محبوب الحق کے دور میں شروع ہوئی تھی ۔ عمران خان ایک طویل عرصے تک اس سیاسی رشوت ستانی کی شدید مخالفت کرتے رہے ھیں ۔ لیکن انہوں نے بھی 2018 کو اقتدار میں آنے کے بعد ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کی دوڑ میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ گزشتہ سال اتحادی حکومت نے عام انتخابات کے لئے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی کو 28 ارب 65 کڑور روپیہ کے فنڈز جاری کیے تھے ۔ یہ ترقیاتی فنڈز 5 اگست 2023 میں جاری کیے گئے تھے ۔ اس سے قبل 2018 کے عام انتخابات میں ن لیگ کے امیدوار برائے قومی اسمبلی کو فی کس 53 کڑور روپیہ انتخابی مہم کے لیے دیئے گئے تھے ۔ آئی ایم ایف نے اب کہ اپنے معاہدات میں ایک نئی شرط رکھ دی ہے ۔اس شرط کے مطابق ارباب سیاست یا ارکان اسمبلی اب ترقیاتی کاموں کی براہِ راست نگرانی نہیں کرسکیں گے۔ اب یہ ذمے داری ایف بی آر کو سونپ دی گئی ہے ۔ ضلع کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز ترقیاتی کاموں کی منظوری اور نگرانی کریں گے ۔ آئی ایم ایف کی یہ نئی شرط ارکان اسمبلی کے شاہ پرستوں ، کارندوں اور ان کے چیلوں پر بجلی بن کر گرے گی ۔ لیکن ھمارے ارکان اسمبلی اور افسر شاہی بدعنوانیوں کے راستے نکالنے میں اپنی مثال آپ ہیں ۔

آئی ایم ایف کے قرضہ جات ومراعات کا فائدہ کس کو ہوتا ہے؟

واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے قرضہ جات اور مراعات کا فائدہ اشرافیہ اٹھاتی ہے ۔ عوام الناس کو ان قرضوں سے کوئی ریلیف نہیں ملتا ہے ۔ قرضہ جات اور سود کی ادائیگیوں کا سارا بوجھ عوام الناس کے محروم طبقات کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ھمارا حکمران طبقہ اسی لیے تو آئی ایم ایف کے پاس بھاگے بھاگے جاتے ہیں ۔ اور ان کو معاہدات طے کرنے کی ھر لحمہ فکر پڑی رھتی ھے۔ آئی ایم ایف ادارہ نے ھمارے حکمران طبقہ کو غریب عوام الناس کے محروم طبقات پر جائز و ناجائز ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے لیے کبھی نہیں کہا ۔ ایک تازہ مصدقہ اطلاعات و تفصیلات کے مطابق چھ سال کے طویل عرصے کے بعد لاہور کے مکمل بحالی پلان کی تیاری کر لی گئی ھے ۔ حالانکہ اس قبل سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کے 13 ماہ دور حکومت کے دوران لاھور شہر میں بےشمار ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچے ھیں۔ مصدقہ خبر کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا 22 ارب روپے کی لاگت سے بحالی پلان اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا ھے ۔ لاھور کے قومی حلقوں کے لئے 10 ارب کے فنڈز پنجاب حکومت جاری کرے گی۔ 12 ارب کی لاگت سے صوبائی حلقوں میں ترقیاتی سکیموں کے پی سی ون تیار کئے جائیں گے ۔ ایڈمنسٹریٹر ایم سی ایل کو 3 ماہ میں اسکیمیں مکمل کرانے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے ۔ صوبائی حلقوں، پی پی 174 میں 6 ترقیاتی سکیموں کے پی سی ون تیار کئے جارہے ھیں۔ پی پی 145 میں 18 ترقیاتی سکیمیں رکھی گئی ھیں ۔ جبکہ پی پی 147 کے لئے 12 ترقیاتی سکیموں کے فنڈز رکھے گئے ہیں ۔ اسی طرح دیگر صوبائی حلقوں کے پی سی ون بھی تیار کئے جارہے ہیں۔ پی پی 162 ٹاؤن شپ کے نصیب میں دیکھیں کیا آتا ہے ۔ کیونکہ اس حلقہ کو برادری ازم کے معتصب پرست سیاسی تنگ نظری میں مبتلا عناصر نے شہد کی مکھیوں کی طرح اپنے چھتے بنا لیے ہیں ۔ ڈی سی لاہور تمام پی سی ون نیسپاک کو جانچ پڑتال کیلئے جمع کرائیں گے۔ یاد رہے کہ 3 اپریل 2024 میں پنجاب پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نے مالی سال 2023-24 کے صوبائی ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے 49 ویں اجلاس میں مختلف سیکٹرز کی 8 ترقیاتی سکیموں کے لیے مجموعی طور پر 8 ارب 73کروڑ 23لاکھ 80 ہزار روپے فنڈز کی منظوری دی تھی۔ جن سکیموں کی منظوری دی گئی تھی ان میں سرگودھا شاہ پور بھیرہ ملکوال روڈ کی کشادگی و بہتری (ترمیمی) کے لیے 51کروڑ 67لاکھ 61ہزار روپے، جی ٹی روڈ کی بہتری و بحالی(ترمیمی) کے لیے 1ارب 10کروڑ 71لاکھ 5ہزار روپے، دیپالپور میں حویلی لکھا روڈ براستہ بھومن شاہ موڑ بانساں والا روڈ کی بہتری و بحالی (ترمیمی) کے لیے 1ارب 11کروڑ 7لاکھ 8 ہزار روپے، اور پی اینڈ ڈی بورڈ کی ادارہ جاتی مضبوطی اور پبلک سیکٹر کے ملازمین کی استعداد کار میں اضافہ کے لیے (ترمیمی) 2ارب 54کروڑ 81لاکھ 35ہزار روپے بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ سب سے زیادہ غبن خوردبرد اور بدعنوانیاں ترقیاتی منصوبوں میں ھوتی ھیں ۔ لندن میں یہ جو میے فیر کے قیمتی فلیٹس ، متحدہ عرب امارات میں جو بلند و بالا عمارتیں ھیں ، یہ جو سرے محل ھے ۔ ریاست مدینہ کے دعوے دار امیر المومنین صادق و امین کی ناک کے نیچے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور فرح گوگی خان نے جو بیرون ملک میں بینک اکاؤنٹس ڈالرز سے بھرے ھیں ، پاکستان میں ان کے جو بڑے بڑے تجارتی مراکز قائم ہیں یہ سب کے سب آئی ایم ایف کے قرضہ جات کی رقوم کے بدولت ھیں ۔ عمران خان کرپشن کا جو نعرہ لگاتے رھے ھیں یہ سلوگن دراصل ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا ھے ۔ ھمارے جتنے بھی حکمران ھیں یا جتنی بھی حکمران سیاسی جماعتیں ہیں یہ سب آئی ایم ایف کی آلہ کار ، خیر خواہ اور تمام کے تمام راہنما کمیشن ایجنٹ ھیں ۔ ایک دوسرے پر بدعنوانیوں کے الزامات محض آئی ایم ایف سے اپنی وفاداریاں ثابت کرنے کے لیے عائد کئے جاتے ہیں ۔ اور ھماری سادہ لوح اندھی تقلید اندھے اعتقاد یقین میں مبتلا قوم یہ سمجھتی ہے کہ یہ صادق و امین راہنما ھمارے مسیحا اور نجات ھندہ ھیں جب کہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ھے ۔یہ محض خام خیالی اور فریب نظر ہے ۔ ایک سراب کے سوا اور کچھ بھی نہیں ھے ۔ جون 2021 کے دوران مالی سال 21-2020 میں لاہور کے لئے رکھے گئے ترقیاتی فنڈز میں سے 55 فیصد ضائع ہوگئے تھے ۔ صرف 45 فیصد ہی استعمال ہوسکے تھے ۔ یہ تمام فنڈز تحریک انصاف کے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں استعمال ہونے تھے۔ پی ٹی آئی کی تبدیلی حکومت نے اپنے ہر رکن قومی اسمبلی کے حلقے کیلئے 25 کروڑ اور ہر ایم پی اے کے حلقے کے لئے 10 کروڑ روپےکے ترقیاتی فنڈز مختص کئے تھے، لیکن 9 ارکان صوبائی اسمبلی اور 3 ارکان قومی اسمبلی کے ان حلقوں میں بجٹ کا صرف 45 فیصد ہی استعمال کیا جاسکا۔ضلعی حکومت اور ارکان اسمبلی ایک ارب 65 کروڑ میں سے صرف 74 کروڑ 25 لاکھ روپے کے فنڈز ہی بروئے کار لا سکے تھے ۔ذرائع کے مطابق مالی سال کے دوران 101 ترقیاتی اسکیموں میں سے تقریباً 25 فیصد ہی مکمل ہو سکیں تھیں۔ ڈی سی لاہور نے بجٹ مختص کرنے میں تاخیر کو اور کورونا وائرس کی بنیادی وجہ قرار دیا تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے لاہور میں قومی اسمبلی کے ٹکٹ ہولڈرز کو سات، سات کروڑ اور صوبائی اسمبلی کےٹکٹ ہولڈرز کو پانچ، پانچ کروڑ روپےکے ترقیاتی فنڈز دینے کا وعدہ کیا تھا مگر وہ انہیں ادا نہیں کئے گئے۔ ھماری نادان جزباتی قوم خواہ مخواہ امانت، خیانت اور امامت کے بےکار بےمقصد جھگڑے ، اور عدالت و وکالت کے بحث ومباحثہ میں ھر وقت الجھی رھتی ھے حقائق کی طرف دھیان دینے کی کوئی زحمت ھی گوارہ نہیں کرتا ھے ۔ سچی بات تو یہ ہے یہاں ھر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے ۔ انجام گلستاں کی قوم کو کوئی فکر ھی لاحق نہیں ہے ۔ گندے پانی کے اس حمام میں سب فرشتے ننگے ھیں ۔ سب سادھو رانماوں کا ایک ھی کام اور دین دھرم ھے۔ رام رام جھپنا پرایا مال اپنا ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button