قومی

کم عمرشادی بل کو مذہب سے متصادم قرار دینا بچوں کے حقوق کی نفی ہے، انسانی حقوق کمیشن

اسلام آباد (94 نیوز) انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے کم عمر شادی کے منظور کئے گئے بل سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کے اعتراض پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے کہا ہے کہ بچپن کی شادی کے خلاف بل بچوں کے تحفظ کےلئے ناگزیر ہے، پارلیمنٹ سے منظوربل کو مذہب سے متصادم قرار دینا بچوں کے حقوق کی نفی ہے۔
ایچ آر سی پی کے مطابق بچیوں کے استحصال کی روک تھام کےلئے قانون پر فوری عملدرآمد ضروری ہے لہٰذا بچوں کے تحفظ کو مذہبی تنازع نہ بنایا جائے اور کم عمری کی شادیوں کی روک تھام اور بچوں کے تحفظ کےلئے ریاست آئینی و بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کا کہنا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے بل میں رکاوٹ ڈالنے پر شدید تحفظات ہیں، یکطرفہ مذہبی تشریحات قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ایچ آر سی پی کا مزید کہنا ہے کہ بچپن کی شادی کا خاتمہ قانونی اور اخلاقی تقاضا ہے،بچوں کے تحفظ کا وعدہ پورا کیا جائے۔
واضح رہے کہ رواں ماہ سینیٹ نے اسلام آباد میں کم عمر بچوں کی شادی کی ممانعت کا بل منظور کیا تھا تاہم اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے کم سنی کی شادی کے امتناع کا بل مسترد کردیا گیاہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے اعلامیے کے مطابق 18 سال سے کم عمری کی شادی کو زیادتی قرار دے کر سزائیں مقرر کرنے سمیت دیگر شقیں بھی غیر اسلامی قرار دے دی گئیں۔ 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button