سیکرٹری داخلہ پنجاب نورالامین مینگل کی دوسری اہلیہ اور بیمار بیٹی انصاف کیلئے عدالت پہنچ گئیں


لاہور (94 نیوز) سیکرٹری داخلہ پنجاب نور الامین مینگل کی دوسری اہلیہ اور بیمار بیٹی خرچے کے حصول کی خاطر انصاف کیلئے عدالت پہنچ گئیں۔
تفصیلات کےمطابق پنجاب کے سیکرٹری داخلہ نورالامین مینگل کے خلاف لاہور کی فیملی کورٹ میں دائر مقدمے کی سماعت ہوئی، خاتون عنبرین سردار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نورالامین مینگل نے 2018 میں عنبرین سردار کے ساتھ دوسری شادی کی ، نومبر 2019 میں بیٹی ایلیہا نورالامین پیدا ہوئی جس کے کچھ ماہ بعد نورالامین نے گالیاں دیکر بیوی اور بیٹی کو گھر سے نکال دیا اور خرچہ دینا بھی بند کردیا، کئی کئی ماہ منتوں ترلوں کے بعد کچھ خرچ بھجواتا تھا۔
خاتون کے دعوے میں کہا گیا کہ بیٹی علیہا دو برس کی عمر میں آٹزم میں مبتلا ہو گئی جس کا علاج جاری ہے اور ماہانہ خرچہ 3 لاکھ سے زائد ہو گیا۔ شوہر نورالامین نے بچی کی پیدائش پر زچگی کا خرچہ بھی نہیں دیا جبکہ ان کے پہلی بیوی سے تین بیٹے ایچی سن کالج میں زیر تعلیم ہیں، عدالت نورالامین کو خرچہ ادا کرنے کا حکم دے۔ فیملی کورٹ نے سیکرٹری داخلہ پنجاب نورالامین کو 26 مارچ کا نوٹس جاری کر دیا۔



