تقریبات/سیمینارز

وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے خواتین کے لیے اٹھائے گئے اقدامات مثالی نوعیت کے ہیں، خواتین اب معاشی، تعلیمی اور سماجی شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں، سعدیہ تیمور فوکل پرسن وزیر اعلی پنجاب

دوسروں کی کامیابیوں کو سراہنا ان سے سیکھنا اور اپنے اندر مثبت توانائی کو فروغ دینا ہوگا تاکہ ہم ایک مضبوط، باوقار اور یکجہتی پر مبنی تعلیمی ماحول فراہم کر سکیں، پروفیسر ڈاکٹر کنول امین تمغہ امتیازوائس چانسلر گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی

فیصل آباد (94 نیوز سٹی رپورٹر) گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد میں ویمن ایمپاورمنٹ اینڈ مینٹورنگ پروگرام ( ڈبلیو ای ایم پی) کے پہلے سیشن کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی جس کی مہمان خصوصی ڈاکٹرنور آمنہ ملک مینجینگ ڈائریکٹر نیشنل اکیڈمی ٓاف ہائر ایجوکیشن ( این اے ایچ ای ) اسلام آباد اور ممبر پارلیمانی اسمبلی سعدیہ تیمور فوکل پرسن ٹو چیف منسٹر پنجاب ، پارلیمنٹری سیکرٹری فار ویمن ڈیولپمنٹ ڈیپاٹمنٹ تھیں۔ ویمن ایمپاورمنٹ اینڈ مینٹورنگ پروگرام کے پہلے سیشن میں مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی ستر اساتذہ نےچودہ مینٹور سے تربیت حاصل کی ۔ ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے خواتین کو تعلیمی اداروں میں درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے ان کے موثر حل کی ضرورت پر زور دیا ۔۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے ’’آؤٹ ریچ پروگرام‘‘ کے تحت خواتین اساتذہ اور طالبات کو نہ صرف تربیت دی بلکہ انہیں یہ شعور بھی دیا کہ وہ اپنے مسائل بلاجھجک بیان کریں تاکہ ان کا مؤثر حل نکالا جا سکے۔ اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک خواتین اپنی آواز بلند نہیں کریں گی، مسائل کا حل ممکن نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر نور آمنہ نے بتایا کہ پاکستان بھر کی 18 یونیورسٹیوں میں ویمن ایمپاورمنٹ اینڈ منٹورنگ کا کامیاب نفاذ ہو چکا ہے ۔ اُنہوں نے طالبات کو ہدایت کی کہ وہ قیادت کے لیے تیار ہوں اور اپنی مثبت صلاحیتوں کو اجا گر کریں اور خود کو درپیش مسائل سے نہ گھبرائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر کی اٹھارہ یونیورسٹیوں مین گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی پہلی یونیورسٹی ہے جہاں اس پروگرام کی تکمیل احسن انداز میں ہوئی اور آج اس کی اختتامی تقریب ہے ۔ممبر پنجاب اسمبلی سعدیہ تیمور فوکل پرسن ٹو چیف منسٹر پنجاب ، پارلیمنٹری سیکرٹری فار ویمن ڈیولپمنٹ ڈیپاٹمنٹ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے خواتین کے لیے اٹھائے گئے اقدامات مثالی نوعیت کے ہیں۔ خواتین اب معاشی، تعلیمی اور سماجی شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ ای-بائیکس، اسکالرشپ، لیپ ٹاپس، ورکنگ ویمن ہاسٹلز، ڈے کیئر سینٹرز اور وومن پروٹیکشن سینٹر جیسے منصوبے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے سنگِ میل ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو تعلیم اور ہنر کے ذریعے اگر آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ کسی بھی میدان میں مردوں سے پیچھے نہیں رہتیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو مثبت سوچ، مہارت اور خود اعتمادی کے ساتھ چلنا ہو گا ۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کنول امین نے اپنے خطاب میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ سیکھنے اور سکھانے کے عمل میں دلچسپی لی جائے تاکہ وہ محض ایک رسمی کارروائی بن کرنہ رہ جائے بلکہ ایک مثبت اور خوشگوار تجربہ بنے۔انہوں نے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر ظل ہما نازلی اور انچارچ ویمن ڈیولپمنٹ سنٹرڈاکٹر صدف نقوی کی کوششوں کو سراہا ۔ طاہر عباس زیدی کو اارڈنیٹر ویمن ایمپاورمنٹ اینڈ مینٹورنگ پروگرام نے اس پروگرام کی افادیت اور مختلف پہلووں پر بات کی ۔ اور ورلڈ بینک کی پاکستانی خواتین کے لئے کی جانے والی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا ۔تقریب کے اختتام پر تربیت حاصل کرنے والی اساتذہ میں سرٹیفیکٹ تقسیم کیے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button