کالم

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات پھر ملتوی، سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات کے حق میں نہیں

لاھور (94 نیوز، خصوصی رپورٹ طارق محمود جہانگیری کامریڈ) ھماری حکمران سیاسی جماعتوں ،حکمران سیاسی راہنماوں، سیاسی قائدین کو اپنی اس غلطی، اس کوتاہی، اس سیاسی ناکامی کو کھلے دل سے تسلیم کرنا پڑے گا کہ گزشتہ 50 برسوں کے دوران ملک میں دیرپا مستحکم کارآمد بلدیاتی نظام نافذ کرنے میں بری طرح سے ناکام رھے ھیں۔ اتنے طویل عرصے کے دوران ضلعی حکومتوں کا کوئی مسودہ ، دستاویزات یا لوکل باڈیز ایکٹ تیار ھو سکا ھے، نہ ھی منتخب سیاسی حکومتیں سندھ اور صوبہ پنجاب کے اضلاع میں بروقت بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے میں کامیاب ھو پائی ھیں۔ غیر سیاسی ادوار میں بلدیاتی نظام قدرے فعال رھا ھے بلکہ فوجی حکمران بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں کامیاب و کامران بھی ٹھہرے ھیں ۔ بلدیاتی نظام، بلدیاتی ادارے جمہوریت کی بنیاد اور اساس ھوتے ھیں۔ صوبہ پنجاب میں 2005 کے بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والے بلدیاتی اداروں کو اپنی آئینی مدت بھی پوری نہیں کرنے دی گئی ۔ اکتوبر 2015 کے بلدیاتی انتخابات برائے نام تھے ۔ پنجاب لوکل ایکٹ 2013 اور 2015 میں ابہام و سقم بکثرت سے موجود تھا ۔ دعووں کے باوجود اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل نہیں کیا جا سکا ھے ۔ 2018 میں آنے والی نئی تبدیلی نے لولڑے لنگڑے بلدیاتی نظام اور صوبہ بھر کے بلدیاتی اداروں کو ملیامیٹ کر دیا ۔ صوبہ پنجاب میں 2015 سے لیکر تادم تحریر یعنی جون 2024 تک بلدیاتی انتخابات منعقد نہیں ھو سکے ھیں ۔ صوبہ پنجاب میں ایک مرتبہ پھر بلدیاتی انتخابات کا معاملہ کھٹائی میں پڑگیا ھے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن کے خط کا ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ھے۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2002 میں ترمیم کے متعلق 25 اپریل 2024 کو خط لکھا تھا۔ جسمیں صوبہ پنجاب کی حکومت کو بلدیاتی انتخابات کیلئے قانونی سازی کی ہدایت کی گئی تھی۔ اطلاعات ہیں کہ پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کرانے کی قانون سازی کررکھی ہے۔ جبکہ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ای وی ایم کے تحت بلدیاتی انتخابات کرانا ممکن نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے قانون سازی میں ترمیم کیلئے پنجاب حکومت کو متعدد بار کئی خطوط لکھے اس کے علاؤہ ترمیم سے متعلق پیشرفت سے آگاہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ اطلاعات و تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے اپنے خطوط میں لکھا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن 2019 سے 3 مرتبہ حلقہ بندیاں کرچکا ہے۔ الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 میں متعدد بار ترامیم کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد صوبہ میں نہیں ہوسکا ہے۔ بلدیاتی انتخابات نہ کرانا آئینی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ یہاں پر یہ سوال بھی پیدا ھوتا ھے کہ سپریم کورٹ اپنے حکم پر ابھی تک عملدرآمد کروانے میں کامیاب کیوں نہیں ھو سکی ھے ۔ جب سیاسی مقدمات کی سماعیتں روزانہ کی بنیادوں پر ھوسکتی ھیں تو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی سماعت کیوں نہیں ھو سکتی ھے ۔ یہ سوال انہتائی اھم اور فوری جواب طلب بھی ھے ۔آپ کو اچھی طرح سے یاد ھوگا کہ 28 مئی 2023 کو امیدوران برائے بلدیاتی انتخابات کو یہ نوید مسرت دی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں شروع کردی ھیں ۔ الیکشن کمیشن کے قوانین ، قوائد و ضوابط کے تحت سیاسی جماعت یا گروپ کے علاوہ کوئی فرد آزادانہ طور پر الیکشن میں حصہ لے نہیں کرسکتا تھا ۔ اس کے علاؤہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمشنر کی جانب سے انتخابی گروپوں، انتخابی پینلز کی رجسٹریشن کا شیڈول بھی جاری کیا گیا تھا ۔ لیکن اس کا نتیجہ صفر نکلا ۔ لاھور الیکشن کمیشن آفس سے لیکر اے۔سی دفتر تک غیر سنجیدگی ، بےخبری ، لاعلمی کا مظاہرہ دیکھا گیا ۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی گروپوں کی فہرست سازی کے لیے عہدیداروں کے تقرر کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا ۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کی تیاری پر کام شروع کر دیا ھے۔ حلقہ بندیوں کا عمل پرانی مردم شماری کے تحت کیا گیا ہے ۔ نئی مردم شماری کا نتیجہ ایک دو ہفتے میں سامنے آ جانے کے بلند و بانگ دعوے بھی کئے گئے تھے ۔ الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے آزاد امیدواروں سے کہا تھا کہ وہ انتخابی گروپس، 13 امیدوارن پر مشتمل اپنا انتخابی پینل بنالیں ۔ کیونکہ کسی بھی آزاد امیدوار کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ شیڈول کے مطابق رجسٹریشن فارم 5 جون کو مجاز حکام سے وصول کرکے 6 جون سے 12 جون تک الیکشن کمیشن میں جمع کروانے کا شیڈول دیا گیا۔ درخواستوں کی اسکروٹنی کی تاریخ 19جون مقررہ کی گئی تھی۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ 27 جون سے 3 جولائی تک مجاز حکام الیکٹورل گروپ انرولمنٹ کنفرمیشن فارم 3 جاری کریں گے۔ اعتراضات اور شکایات جمع کرانے کی تاریخ 4 سے 10 جولائی مقرر کی گئی۔ یہ بھی اعلان کیا گیا کہ اعتراضات پر فیصلہ 17 جولائی تک کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ پی آر یعنی متناسب نمائندگی کا نظام پہلی بار صوبے میں متعارف کروانے کا فیصلہ گیا تھا۔ جس سے زیادہ تر امیدوران برائے بلدیاتی انتخابات لاعلم تھے۔ انتخابی گروپوں انتخابی پینلز کی رجسٹریشن کے لیے الیکشن کمیشن نے سینیئر افسران بھی تعینات کر دئیے تھے۔بپنجاب میں بلدیاتی حکومت کی مدت یکم جنوری 2022 کو ختم ہو چکی تھی۔ قانون کے مطابق مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر اندر انتخابات ہونے چاہیے تھے ۔ لیکن ایک سال کے دوران الیکشن کمیشن نے 2 مرتبہ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کئے۔ دسمبر 2022 میں الیکشن کمیشن نے اپریل کے آخری ہفتے میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن بعد میں اسے بھی ملتوی کر دیاگیا ۔ طریقہ کار کے مطابق بلدیاتی انتخابات ایکٹ سیکشن 10 کے تحت حلقہ بندی صرف الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ھوتی ہے۔ یہ حلقہ بندیاں ضلعی انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنر کے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق کی جاتی ہیں ۔ رواں سال کے دوران اپریل میں ایک مرتبہ پھر صوبہ پنجاب میں جون تک بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے حکومت پنجاب کو ایک مراسلہ بھی جاری کیا گیا۔ سوچی سمجھی منصوبہ بندی اور حکومت عملی کے تحت ایک مرتبہ پھر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا مسلہ کھٹائی میں ڈال دیا گیا ہے ۔ مختلف حیلے بہانوں ، تاخیری حربوں سے تو یہی لگتا ہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات , بلدیاتی اداروں ، بلدیاتی نمائندوں سے خوف زدہ ھے ۔ شاید اسی لیے وہ بلدیاتی انتخابات سے فرار کا راستہ اختیار کرنا چاھا رھی ہے ۔ جبکہ اپوزیشن کی ایک بڑی سیاسی جماعت انتخابات کے انعقاد کے لیے بےصبری سے انتظار کررھی ھے۔ تاکہ 8 فروری عام انتخابات کے ٹریکی انجنئیرڈ نتائج اور فارم نمبر 47 کا بدلہ لیا جاسکے۔ برسرِ اقتدار جماعت کی سب سے بڑی یہ حریف سیاسی پارٹی عملی طور پر متحرک اور بلدیاتی انتخابات کے فوری انعقاد کے حق میں دیکھائی نہیں دیتی ھے ۔ بلدیاتی نمائندوں ، بلدیاتی امیدوارن سے یہ بندر تماشا ، یہ مداری کھیل کب تک کھیلا جاتا رہے گا ۔ بکرا کو ایک نہ ایک دن تو چھری کے نیچے آنا ھی ھوگا ۔ کیونکہ بکرا کی ماں کب تک خیر منائے گی ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button