ساوتھ ایشیا پارٹنر شپ پاکستان نے سماجی رویوں کو تبدیل کرنے کی مہم کا آغاز کردیا


فیصل آباد(94 نیوز) امن گھر فیصل آباد میں ساؤتھ ایشیاء پارِٹنر شپ پاکستان کے زیر اہتمام تربیتی سیشن سے شبنم رشید،بابا لطیف انصاری چیئرمین پاکستان لیبر قومی موومنٹ،احسان الحق ڈائریکٹر سوشل سکیورٹی نارتھ،اصغر پاشا لیبرآفیسر ویسٹ ،یاسمین طاہرہ،پروین لطیف انصاری ویمن ورکرز الائنس،شبانہ پرویز بھٹی،نذیراں بی بی،رب نواز وٹو،ملک نبیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساوتھ ایشیا پارٹنر شپ پاکستان نے سماجی رویوں کو تبدیل کرنے کی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ جس میں خاص طور پر خواتین اور افراد باہم معذوری کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر خود مختار ہونے میں خواتین کو در پیش سماجی رکاوٹوں کو دور کر کے ماحول کو سازگار بنایا جائے اور ہماری معیشت کے سب سے بڑے شعبے ٹیکسٹائل اور فیشن کی صنعت میں خواتین اور مخصوص صلاحیتوں کے حامل افراد کے روزگار کی صورت حال کو بہتر بنایا جائے۔ صوبہ سندھ اور پنجاب کے پانچ بڑے شہروں لاہور، کراچی، ملتان، فیصل آباد اور سیالکوٹ میں اس مہم کی مختلف سرگرمیاں جاری ہیں جن میں خواتین، افراد باہم معذوری ، ان کے خاندان اور علاقے کے لوگ اور ضلعی سطح کے تمام متعلقہ اداروں اور شعبوں کو شامل کیا گیا ہے جو خواتین اور ان مخصوص صلاحیتوں کے حامل افراد کے روزگار کے لیے سازگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ان پانچ شہروں میں خواتین اور معذوری کا شکار افراد ٹیکسٹائل کی صنعت میں روزگار حاصل کرنے کے قابل ہوسکیں۔خواتین اور افراد باہم معذوری کے روزگار کے لیے پانچ شہروں میں ٹیکسٹائل اور فیشن کی صنعت میں سازگار ماحول بنانا ہے۔ لاہور، کراچی، ملتان، فیصل آباد اور سیالکوٹ میں خواتین صدیوں سے ٹیکسٹائل کی صنعت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ قدیم کھڈیوں سے لے کر جدید ٹیکسٹائل کی صنعت تک وہ کپڑے بناتی بنتی اور رنگتی آ رہی ہیں اور ان کی بنت میں انہوں نے ثقافت ، ورثے اور تخلیق کو شامل کیا ہے ۔ اس لیے دنیا بھر میں آج بھی اس صنعت میں خواتین مزدوروں کی بڑی تعداد کام کر رہی ہے۔ پاکستان کی معیشت میں بھی ٹیکسٹائل کا شعبہ بہت اہم ہے۔ جو ہماری ملک کی مجموعی پیدوار میں 8.5 فیصد اور برآمدات میں 54 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ اور یہ ایک کروڑ پانچ لاکھ افرادکو روز گار بھی فراہم کرتا ہے۔



