قومی

تھانہ صدرپولیس پرانے ریکارڈ پرہمارے ساتھ زیادتی نہ کرے، حرا قدیر کموکا

فیصل آباد (94 نیوز) تھانہ صدر کی پولیس زیادتی کر رہی ہے مریم نواز اور آئی جی پنجاب سے انصاف کی اپیل ہے میرے والد فضل قدیر عرف پپو کموکا اور بھائی حمزہ قادر کمبوکا پر جھوٹی ایف آئی آر دیں کر ہمیں ذلیل کیا جاتا ہے میرے گھر کی چادرچار دیواری کا تقدس پامال کر کے خواتین سے بدتمیزی کی جاتی ہے سی پی او فیصل آبا د اور آر پی او فیصل آبا د رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن شنوائی نہ ہوئی میری اعلیٰ احکام سے اپیل ہے کہ صرف پرانے ریکارڈ کودیکھتے ہوئے ہمارے ساتھ زیادتی نہ کی جائے ۔

ان خیالات کا اظہار فیصل آباد پر یس کلب میں پر یس کانفرنس کرتے ہوئے حراقدیر کموکا ایڈووکیٹ نے کیا ان کا مزید کا کہنا تھا کہ تھانہ صدر کی پولیس اور ہماری برادری کے چند لوگ ہمیں پریشان کر رہے ہیں ۔میرے والد فضل قدیر اور عرف پپو کمو کا اور بھائی حمزہ قادر کموکا پر پولیس نے آٹھ سے نو جھوٹی نارکوٹکس ایف آئی آر در ج کر کے ان پر منشیات فروشی کا ٹیگ لگا دیا ہے ۔وجہ صرف یہ ہے کہ 2009ء میں میرے چاچو ارشد کموکا پر ہونیوالی ایک جھوٹی ایف آئی آر کی میرے والد نے پیروی کی تھی جس پر وہ بری ہوئے اور تھانہ صدر کی پولیس کو چھ سال تک تفتیش بھگتنا پڑی بلکہ ان کی پرو موشن بھی نہ ہو سکی۔ تھانہ صدر کی پولیس نے گھر آکر میرے والد کو اٹھا لیا جسے ہم نے بیلف کے ذریعے بازیا ب کروایا اور میرے چاچو کی طرف سے 12-10-09میں ایف آئی درج کی گئی۔ میرے بھائی پر قتل کا مقدمہ ڈالا گیا جس میں بری ہو گیا تھانہ صدر کی پولیس کبھی ہمارے ڈیری فارم پر چھاپہ مار کر ہمارے مویشی اٹھا لیتی ہے کبھی ہمارے پیٹرول پمپ پر چھاپہ مار کر10لاکھ کیش چھین لیتی ہے کبھی ہمارے گھر پر دھاوا بولا جاتا ہے چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرکے خواتین کے ساتھ بد تمیزی کی جاتی ہے۔ میرے والد کوپرائیویٹ گاڑی میں اغوا کر لیا جاتا ہے ان پر تشدد کیا جاتا ہے جو کہ پہلے ہی شوگر بلڈ پریشر کے مریض ہیں اب تک دی جانیوالی جھوٹی ایف آئی آرز کا مکمل ریکارڈ اور ویڈیوزز میرے پاس موجود ہیں آرپی او ‘ سی پی او سے ملنے کی کوشش کی لیکن کہیں بات نہ سنی گئی مجبور ہو کر پریس کانفرنس کر رہی ہوں تاکہ اس پریس کانفرنس کے ذریعے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز اور آئی جی پنجاب عثمان انور تک میری آواز پہنچ سکے اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے میرا مطالبہ ہے کہ اب تک جو کارروائیاں پولیس کی طرف سے ہمارے خلاف کی گئیں ہیں ان کی انکوائری کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی جائے تھانہ صدر کی پولیس نے تھانہ ٹھیکری والا ودیگر تھانوں سے ساز باز ہو کر میرے والد پر جھوٹے پرچے دئیے ہیں ان کی بھی تحقیقات کروائی جائیں صرف پرانے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ہمارے ساتھ زیادتی نہ کی جائے وہ ریکارد کیسے بنا اس بات کی بھی انکوائری ضروری ہے میں خود کئی بار اپنے والد اور بھائی کو آر پی او آفس پیش کرنے اور ان کے حق میں بیان حلفی کا ذکر کیا میری کسی نے بات نہیں سنی ان کا نام سورس رپورٹ میں ڈال دیا گیا ہے اب 29-6-24ہمارے ساتھ نہ صرف ایف آئی آر والا ظلم کیا گیا بلکہ ہمارے پیٹرول کی اٹھائی گئی آمدنی بھی ہمیں واپس دلائی جائے۔

اس حوالے سے پولیس کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو پولیس کی طرف سے کوئی جوان نہ دیا گیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button