Court rulings on conversion for marrying minority girls are inconsistent with justice, Lala Rubin, Adnan Yusuf


Faisalabad (94 News City Reporter) کمسن لائبہ کیس میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے ،اقلیت سے تعلق رکھنے والی بچیوں کے ساتھ شادی کے لیے تبدیلی مذہب پر عدالتی فیصلے انصاف سے مطابقت نہیں رکھتے ،ہم اس کیخلاف ہائیکورٹ سمیت جوڈیشل کمیشن میں جائینگے ،ان خیالات کا اظہار سربراہ مینارٹی رائٹس موومنٹ پاکستان لالہ روبن ڈینیل ،پرویز اقبال بھٹی سینئر نائب صدر، ابرار سہوترہ، عدنان یوسف، میڈم طاہرہ انجم، ملک سہیل سردار اور جاوید مسیحی (تایا لائبہ )نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ان کا مزیدکہنا تھا کہ 11-2-2024 مقدمہ نمبری 24/169 تھانہ روشن والا میں اغوا کا مقدمہ درج ہوتا ہے کہ عرفان مسیح اور دیگر نے میری بچی کو زنا حرام کاری کے لئے اغوا کر لیا ہے۔ مختصر یہ کہ بعد ازاں تفتیش اور ثبوت کہ بچی کی عمر 11 سال چند ماہ ہے مقدمہ ہذا میں 376 سمیت چائلڈ میرج ریسٹرین ایکٹ اور 420، 468، 471 کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ ثبوت ہیں کہ ملزم نے خود اور بچی کو محض نکاح کیلئے اسلام قبول کروایا۔ 15-6-2024 کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج امجد علی باجوہ صاحب ملزم کی ضمانت اس بنا پر خارج کر دیتے ہیں کہ یہ جرم گھنائونی فطرت کا ہے اور اس طرح کے جرم نے ہمیشہ معاشرے کے سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچایا ہے۔ بعد ازاں ہائیکوٹ سے بھی ملزم کی ضمانت خارج ہوتی ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ٹرائل کورٹ بعد الت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شیخ انوار الحق صاحب نے مقدمہ کو عدم ثبوت خارج کر دیا ہے۔ یہ کہ مثل مقدمہ میں بچی کی عمر اور چائلڈ میرج ریسٹرین ایکٹ اور دیگر دفعات کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ یہ کہ کمسن سے اس کی رضامندی اور بغیر رضامندی جنسی تعلقات استوار کرنا ریپ ہے اور اس کی سخت سزا موجود ہے۔ مسیحی یا اقلیت سے تعلق رکھنے والی کمسن بچیوں کے ساتھ شادی اور محض شادی کیلئے تبدیلی مذہب پر عدالتی فیصلے انصاف سے مطابقت نہیں رکھتے اور یہ ہی وجہ ہے دنیا میں ہمارے عدالتی انصاف کو اہمیت حاصل نہیں۔ ٹرائل کورٹ کا اہم ثبوتوں کو یکسر نظر انداز کر دینا اور ایسے مقدمات میں کمزور فیصلوں سے کمسن بچیاں اور خاندان چاہے۔وہ کسی رنگ، نسل اور مذہب سے ہوں غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ ہم اس موجودہ فیصلے کو نہیں مانتے ہم اس کے خلاف ہائیکوٹ سمیت جوڈیشل کمیشن میں جائیں گے۔ پنجاب حکومت نے بچیوں اور خواتین کے تحفظ کے لیے عہد کیا ہے۔
[18:36, 1/20/2026] Mian Nadeem Ahmad: Faisalabad(بیورو رپورٹ) ریجنل پولیس آفیسرفیصل آباد سہیل اختر سکھیراکا فیصل آباد پریس کلب کا دورہ ، صدر پریس کلب شاہد علی نے عہدیدران اور سینئر صحافیوں کے ہمراہ اسقبال کیا۔آر پی او نے صحافیوں سے ملاقات اور گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور میڈیا کا باہمی تعاون امن و امان کے قیام اور عوام تک درست معلومات کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے میڈیا کو ریاست کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ مثبت اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات سے جرائم کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔دورے کے دوران آر پی او نے بتایا کہ فیصل آباد ریجن میں منشیات فروشوں کے خلاف مثر کارروائیاں جاری ہیں اور اس ناسور کے خاتمے کے لیے بلاامتیاز ایکشن لیا جا رہا ہے۔صدر پریس کلب شاہد علی نے صحافیوں کو درپیش سیکیورٹی اور معلومات کی فراہمی سے متعلق مسائل سے آگاہ کیا، جس پر آر پی او نے فوری اور موثر اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ بعد ازاں صدر پریس کلب نے آر پی او سہیل اختر سکھیرا کو پریس کلب کی سہولیات اور مختلف شعبہ جات، جن میں جم، لائبریری، اسپورٹس کمپلیکس، سوئمنگ پول اور خواتین لانج شامل ہیں، کا وزٹ کروایا۔اس موقع پر سیکرٹری عزادار حسین عابدی، اینکر حنان بخاری، چئیرمین الیکشن کمیشن میاں بشیر احمد اعجاز، سینئر صحافی زاہد مان، میاں محمد سعید، مراتب جٹ، محمد طاہر، نائب صدر ظفران سرور، میاں منور اقبال، رانا محسن فاروق، شوکت علی وٹو، میاں صغیر سانول، رانا شریف، رانا جاوید، فرحان حکیم، بابا سلیم شاہ، ارشد انصاری، افشاں بتول، مریم جاوید، رائے واصف، شاہد محمود، ندیم راجپوت، جاوید مہیس، ملک ظہور احمد، عزیز بٹ، ملک جاوید شمشاد، علی حسن، رومی ایچ ڈی، شعیب الطاف، علی رضا، فصیح نقوی اور قمر عباس قمر شامل تھے۔



