قومی

پی ٹی آئی یوٹیوبر نےاعلیٰ فوجی افسر کے جوتے چاٹ کر معافی مانگی؟

اسلام آباد (94 نیوز) پی ٹی آئی کے ایک یوٹیوبر نے حالات کا رخ دیکھتے ہوئے پینترا بدل لیا اور پاک فوج کے اعلیٰ افسر کے قدموں میں جا کر بیٹھ گیا، اور اپنی وفاداری ثابت کرنے کیلئے اعلیٰ فوجی افسر کے جوتوں  کو بوسے دیتا رہا، بات یہاں تک نہیں بلکہ جوتوں کو چاٹتا بھی رہا تاہم ابھی تک اس کو معافی دینے کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا حامی یہ یوٹیوبر  آج کل ایک نجی ٹی وی چینل  سے وابستہ ہے، یہ تحریک انصاف کی حمایت میں پیش پیش رہتا تھا لیکن ہوا کا رخ تبدیل ہوتا دیکھ کر اور اداروں کی طرف سے سختی کی گئی تو  اسے ایجنسیوں کے ٹاؤٹ کا اپنا  کردار  خطرے میں نظر آیا۔ اس  پر اس نے گھبرا کر پاک فوج کے اعلیٰ افسر  سے ملاقات کی درخواست کی اور جا کر ان کے قدموں میں بیٹھ گیا کہ  اسے معافی دے دی جائے۔   اس موقع پر  اپنی وفاداری ثابت کرنے کیلئے   اعلیٰ افسر کے جوتے چومنے اور  چاٹنے لگا اور بار بار معافی مانگتا رہا۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا  کہ ابھی تک اسے معافی نہیں ملی ، اس کے باوجود اس نے اپنے وی لاگز اور ٹویٹس کے مواد میں کافی تبدیلی پیدا کی ہے تاکہ اپنی وفاداری کو ثابت کیا جاسکے۔ اعلیٰ حکام سمجھتے ہیں کہ یہ ایک موقع پرست شخص ہے جو حالات کا رخ دیکھ کر پینترا بدل رہا ہے اور کسی بھی وقت دھوکہ دے سکتا ہے اس لیے اس پر یقین نہیں کیا جانا چاہیے۔ جس عہدیدار  سے یہ معافیاں مانگ رہا تھا اس نے اسے بری طرح ذلیل کیا اور اسے اور اس کے خاندان کو غلیظ گالیوں سے نوازا لیکن اس کے باوجود اس کی غیرت جگانے میں ناکام رہا، یہ سر جھکا کر وہ تمام القابات ڈھٹائی کے ساتھ سنتا رہا  جن سے اسے نوازا جا رہا تھا۔

مذکورہ یوٹیوبر  نے اپنی وفاداری کا یقین دلانے کیلئے تحریک انصاف کے حامی میجر (ر) عادل راجہ اور ان کی اہلیہ کے ساتھ شدید قسم کی لڑائی کی اور ان کے خلاف ٹوئٹر پر باضابطہ محاذ بھی  کھولا۔ عادل راجہ کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے ایک یوٹیوبر کے ساتھ اس کے غیر اخلاقی تعلقات ہیں، اس سے پہلے ارشد شریف خود اپنی زندگی میں اسے انہی بیہودہ حرکتوں کی وجہ سے پھینٹی بھی لگا چکے ہیں۔ یہ ارشد شریف کے بارے میں شرمناک گفتگو اور پراپیگنڈا کرتا رہا لیکن ان کی شہادت کے بعد خود کو ان کا بڑا حمایتی ظاہر کرنے لگا۔ ایجنسیوں نے ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے بھی اس کے کردار کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

شکریہ پاکستان

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button