قومی

پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، پرویز الہیٰ کو بھی تھپڑ پڑ گئے، زخمی بھی ہوگئے

لاہور (94 نیوز) پنجاب اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی۔ ایوان میں ہنگامہ آرائی کے موقع پر پولیس پنجاب اسمبلی کی بلڈنگ میں داخل ہوئی۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار بھی اسمبلی میں داخل ہوئے۔ پولیس نے بلٹ پروف جیکٹس پہن رکھی ہیں۔پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کی خواتین ارکان کی جانب سے مزاحمت بھی کی گئی۔
گرفتار ہونے والوں میں واثق عباسی، اعجاز اعوان ، ندیم قریشی شامل ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں پولیس داخل ہوئی تو حکومت کی خواتین اراکین اسمبلی کی جانب سے انہیں لوٹے بھی مارے گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب اسمبلی میں پرویز الہیٰ بھی ہنگامہ آرائی کی زد میں آ گئے،وزارت اعلیٰ کے امیدوار کو بھی تپھڑ پڑ گئے،پرویز الہیٰ کو دھکے بھی دئیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئے،ریسکیو اہلکاروں نے پرویز الہیٰ کو طبی امداد دی۔

۔پرویز الہیٰ کو ایوان سے باہر نکال دیا گیا ہے۔دوسری جانب ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پر حملہ کرنے والے اراکین کی رکنیت معطل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر پر حملہ کرنے والے اراکین کی رکنیت معطل کرنے پر غور شروع ہو گیا۔ حملہ کرنے والے ارکان آج کے اجلاس کی کارروائی کا حصہ نہیں بن سکیں گے۔رپورٹ کے مطابق ڈپٹی اسپیکر نے لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کے بعد تازہ صورتحال پر بریفنگ دی۔
ڈپٹی اسپیکر نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے اور اعلیٰ عدلیہ کو صورتحال سے آگاہ کرنے پر مشاورت کی۔واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پر حملہ کیا گیا ہے اور تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی ارکان نے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی نشست کا گھیراؤ کر لیا۔ دوست مزاری کو دھکے دئیے گئے اور لوٹے مارے گئے۔ حکومتی ارکان نے ڈپٹی اسپیکر پر لوٹے اچھالے۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس بدنظمی کا شکار ہو گیا۔صورتحال بگڑنے پر سیکیورٹی طلب کر لی گئی جب کہ سیکیورٹی اہلکار ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کو اسمبلی سے باہر لے گئے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close