تقریبات/سیمینارز

پانی کے ضیاع کو روکنے کے لئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، میاں ندیم احمد

فیس فاؤندیشن کے زیراہتمام ورلڈ واٹر ڈے کے موقع پر تقریب

فیصل آباد (94 نیوز) پانی کے بغیر زندگی ناممکن ہے، پانی کے ضیاع کو روکنے کے لئے ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا یہ گفتگو فیس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ورلڈ واٹر ڈے کے حوالے سے دی چناب ایجوکیشنل کمپلیکس ڈھڈی والا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر فیس فاؤنڈیشن و صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز الائنس فاؤنڈرز میاں ندیم احمد نے کہی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر کے کئی ممالک کی طرح پاکستان بھی پانی کی قلت کا شکار ہوتا جا رہا ہے، پاکستان میں دریاؤں سے پانی کا غائب ہوجانا، گھروں کے لئے پینے کا صاف پانی میسر نہ ہونا خطرے کی علامت ہے۔ جہاں حکومتوں نے ڈیم نہیں بنائے پاکستان میں بارش کا لاکھوں کیوسک پانی ندی نالوں کے راستے واپس سمندر میں چلا جاتا ہے جس کو ہم جدید دور میں بھی استعمال میں نہیں لا سکے۔ میاں ندیم احمد نے کہا کہ آئیندہ جنگیں پانی کے حصول پر ہونگی۔ پاکستان کے پاس پانی کے ذخائر بہت کم ہیں، پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے لیکن ہم اس نعمت کو لاپرواہی سے ضائع کررہے ہیں۔

مس آسیہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں گھروں میں بھی پانی کے ضیاع کو روکنا ہوگا۔ ٹوتھ برش کرتے وقت، ہاتھ منہ دھوتے وقت، گھروں میں برتن دھوتے وقت اپنی موٹر سائیکل اور گاڑیاں دھوتے وقت پانی کے ضیاع کو روکنا ہوگا۔

مس ماریہ نے کہا کہ آج کل ہم سب پکی سڑکیں اور پکے مکان بناتے لیکن بارش کے پانی کے لئے کچی جگہ بھی نہیں چھوڑتے جس سے ہماری زمین چارج بھی نہیں ہوتی ہمارے گھروں کا پانی بھی اب 100 فٹ سے زیادہ دور چلا گیا ہے، اور وہ بھی پینے کے قابل نہیں ہے

مس نورین اللہ یار نے کہا کہ ہم لاکھوں روپے پینے کے پانی کے حصول پر خرچ کررہے ہیں، اگر ہم نے اتنا پانی ضائع نہ کیا ہوتا تو آج ہمیں اس مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑتا، انہوں نے کہا کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں آُ اپنے گھروں کی خود مانیٹرنگ کریں گھروں میں جو بھی پانی ضائع کرے اسے روکنا آپکا فرض ہے۔

میاں حمزہ ندیم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی زمانے میں ہمارے ندی، نالوں اور نہروں و راجباہوں میں دریا کا صاف پانی آتا تھا دریاؤں کا پانی غائب ہوگیا اب انہی ندی نالوں میں گٹروں کا پانی چل رہا ہے جس نے زمینی پانی کو بھی آلودہ کردیا ہے انہوں نے کہا کہ فیکٹریوں، ملوں اور کارخانوں کو کیمیکل والا پانی زمین دوز کرنے سے روکنا ہوگا۔ یہ زہر آلود پانی ہماری صحت کو بری طرح متاثر کررہا ہے۔ جس سے ہیپاٹائٹس جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ اور ہم آلودہ پانی پی کر لاکھوں روپے میڈیسنز پر بھی خرچ کررہے ہیں۔

بچوں نے پانی کی اہمیت بارے آگاہی پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے، جن پر پانی بچاؤ ہمیں بچاؤ، پانی کی ایک ایک بوند کو گنو، پانی کو ضائع مت کرو جیسے فقرے درج تھے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close