قومی

مخصوص مدت میں الیکشن نہ ہوسکیں تو آرٹیکل 254 لاگو ہوتا ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد(94 نیوز) سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کےازخودنوٹس کاتحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔

13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں 2 ججز کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔ فیصلے میں کہاگیاہے کہ نگران حکومت الیکشن کمیشن کو تمام سہولتیں فراہم کرنے کی پابند ہیں، یہ وفاق کی ڈیوٹی بھی ہے کہ وفاق کی ایگزیکٹو اتھارٹی الیکشن کمیشن کی مدد کریگی،9 اپریل کو انتخابات ممکن نہیں تو مشاورت کے بعد پنجاب میں تاریخ بدلی جاسکتی ہے، مخصوص مدت میں الیکشن نہ ہوسکیں تو آرٹیکل 254 لاگو ہوتا ہے،انتخابات جمہوریت اور آئین کا بنیادی حصہ ہیں، ہائیکورٹس3 روز میں کیسز کا فیصلہ کریں۔

کے پی میں انتخابات کیلئے صدر مملکت کی طرف سے دی گئی تاریخ کالعدم قراردے دی گئی، اکثریتی فیصلہ میں کہاگیاہے کہ کے پی میں انتخابات کی تاریخ کااختیار گورنر کو حاصل ہے،گورنر کے پی الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد تاریخ دیں ۔

سپریم کورٹ نے پنجاب الیکشن کیلئے صدر مملکت کی طرف سے دی گئی تاریخ آئینی قراردے دی،فیصلے میں کہاگیاہے کہ گورنر اسمبلی تحلیل کرنے پر دستخط نہ کرے وہاں تاریخ دینے کااختیار صدر کو ہے ،صدر مملکت نے پنجاب کیلئے 9 اپریل کی تاریخ دی جو عملی طور پر نافذ العمل نہیں ،صدر مملکت الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد پنجاب کیلئے دوبارہ تاریخ دیں ۔

سپریم کورٹ نے 90 روز میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کرانے کا حکم دیدیا، عدالت نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 222 میں کہاگیاہے کہ انتخابات وفاق کا موضوع ہے ،اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں ، انتخابات کی تاریخ کا اعلان گورنر کی آئینی ذمہ داری ہے،الیکشن کمیشن فوری طور پر صدر مملکت کو انتخابی تاریخ کی سفارش کرے۔

جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ تحریری فیصلے کا حصہ ہیں،اختلافی نوٹ میں کہاگیاہے کہ ازخودنوٹس لینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی،ازخودنوٹس جلدبازی میں لیاگیا،سپریم کورٹ کو ازخودنوٹس کا اختیار استعمال نہیں کرناچاہئے تھا،اختلافی نوٹس میں مزید کہاگیاہے کہ معاملہ ہائیکورٹس میں تھا تو سپریم کورٹ نوٹس نہیں لے سکتی تھی،لاہور ہائیکورٹ پہلے ہی مقدمے کا فیصلہ کر چکی ہے،ہائیکورٹ میں معاملہ ازخودنوٹس کی وجہ سے تاخیر کاشکار ہوا،ہائیکورٹس زیرالتوا مقدمات کا جلدفیصلہ کریں ۔

فیصلے میں مزید کہاگیاہے کہ گورنر اسمبلی تحلیل کرے تو 90 دن میں انتخابات لازمی ہیں،گورنر اسمبلی تحلیل کرے تو تاریخ بھی دے گا،خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ دینا گورنر کی ذمہ داری ہے،پنجاب میں انتخابات کی تاریخ دینا صدر کی ذمہ داری ہے،گورنرفیصلہ نہ کرے تو صدر تاریخ دے سکتا ہے،گورنر فیصلہ نہ کرے تو صدر مملکت تاریخ کا اعلان کر سکتے ہیں،گورنر کے حکم پر اسمبلی تحلیل ہوئی ہے تو گورنر نے تاریخ دینی ہے ، گورنر کو اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے ۔

سپریم کورٹ نے صدر مملکت کا پنجاب میں انتخابات کی تاریخ دینا درست قرار دیدیا،عدالت نے کہاکہ صدر الیکشن کمیشن کی مشاورت کے ساتھ تاریخ کا اعلان کریں،ہر ممکن حد تک 90 دن میں انتخابات یقینی بنائے جائیں،الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 اور58 کو مدنظر رکھ کر تاریخ دی جائے،گورنر خیبرپختونخوافوری طور پر انتخابات کی تاریخ دیں، تمام وفاقی و صوبائی ادارے الیکشن کمیشن کی معاونت کریں،اداروں کو سکیورٹی سمیت ہر طرح کی امداد یقینی بنانے کا حکم دیدیاگیا۔

سپریم کورٹ نے کہاہے کہ نگران حکومت الیکشن کمیشن کو تمام سہولتیں فراہم کرنے کی پابند ہیں، یہ وفاق کی ڈیوٹی بھی ہے کہ وفاق کی ایگزیکٹو اتھارٹی الیکشن کمیشن کی مدد کریگی،9 اپریل کو انتخابات ممکن نہیں تو مشاورت کے بعد پنجاب میں تاریخ بدلی جاسکتی ہے ،مخصوص مدت میں الیکشن نہ سکیں تو آرٹیکل 254 لاگو ہوتا ہے،انتخابات جمہوریت اور آئین کا بنیادی حصہ ہیں،ہائیکورٹس3 روز میں کیسز کا فیصلہ کریں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button