قومی

فیصل آباد،انٹرمیڈیٹ پارٹ ون کے پہلے سالانہ امتحان میں 103178 طلبا و طالبات کیلئے 366امتحانی مراکز قائم کر دیئے گئے

فیصل آباد (94 نیوز) فیصل آباد سمیت صوبہ بھر میں انٹر میڈیٹ پارٹ ون کے پہلے سالانہ امتحانات 5 جون بروزپیر سے شروع ہوں گے۔ اس سلسلہ میں بور ڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فیصل آباد کی جانب سے 103178طلبا و طالبات کیلئے 366امتحانی مراکز قائم کر دیئے گئے ہیں اور ریگولر طلبا و طالبات کی رول نمبر سلپیں ان کے اداروں کے توسط سے جبکہ پرائیویٹ طلبا و طالبات کی رول نمبر سلپیں ان کے داخلہ فارمز پر دیئے گئے پتہ جات پر ارسال کردی گئی ہیں۔

کنٹرولر امتحانات فیصل آباد بورڈ ڈاکٹر محمد جعفر علی کے مطابق اعلیٰ و ثانوی تعلیمی بورڈ فیصل آباد میں انٹر میڈیٹ پارٹ ون (سال اول/گیارہویں کلاس) کے پہلے سالانہ امتحانات 5 جون بروزپیر سے شروع ہوں گے۔ انہوں نے بتایاکہ مذکورہ امتحانات کے شفاف انعقاد کیلئے فیصل آباد میں طلبا و طالبات کیلئے 224،چنیوٹ میں 28،جھنگ میں 60اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 54 سمیت کل 366امتحانی مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ان میں طالبات کے97 لوکل،92مفصل، طلبا کے 91لوکل اور79مفصل جبکہ 7کمبائنڈ امتحانی مراکز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔انہوں نے بتایاکہ مذکورہ امتحانات میں پری میڈیکل کے 9438ریگولر طلبا،پری انجینئرنگ کے 4909ریگولرطلبا امتحان دے رہے ہیں
۔اسی طرح جنرل سائنس کے کل 12179،ہیو مینیٹز گروپ کے 16516اورکامرس کے2521 طلبا امتحان میں شریک ہوں گے۔انہوں نے بتایاکہ مذکورہ امتحان میں 53569ریگولر اور 4020پرائیویٹ سمیت 57589 طالبات بھی امتحان دیں گی۔

انہوں نے بتایاکہ امتحانات کے شفاف انعقاد کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ موسم گرما کی شدت میں اضافہ کے باعث تمام امتحانی مراکز والے متعلقہ حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ امتحان دینے والے طلبا و طالبات کی سہولت کیلئے روشنی، ہوا اور ٹھنڈے پانی کامناسب انتظام رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں چیئرپرسن اعلیٰ و ثانوی تعلیمی بورڈ فیصل آبا د و کمشنر فیصل آباد ڈویژن سلوت سعید کی جانب سے چاروں اضلاع فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی ہدائت کی گئی ہے کہ وہ امتحانی مراکز کے دورے کر کے وہاں امتحان دینے والے طلبا و طالبات کیلئے انتظامات کا جائز ہ لیں تاکہ کسی جگہ کسی کمی بیشی کے باعث امتحان میں شریک طلبا و طالبات کو کسی مشکل یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button