قومی

صحافیوں کی ٹرولنگ کرنے اور دھمکیاں دینے والوں کیخلاف انکوائری کا حکم

اسلام آباد (94 نیوز)وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ صحافی حضرات ہمیں معاشرے کی نبض بتاتے ہیں، آئین بھی اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے، ہمیں ایک تحمل و برداشت والا معاشرہ چاہئے، حکومت نے صحافیوں کی ٹرولنگ کرنے والے عناصر کے خلاف انکوائری کا حکم دیا ہے۔
تفصٰلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت سینیٹ اجلاس ہوا، پشاور کے آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) سانحہ کے شہدا کے لئے ایوان میں دعا کرائی گئی، دعا سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کرائی۔
اجلاس کے دوران سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ہمیں سوچنا ہوگا کہ دعا کے ساتھ کیا دوا بھی کی ہے، جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پہلے آج کا بزنس مکمل ہو جائے پھر اس پر بھی بات کرتے ہیں۔

سینیٹر جام سیف اللہ نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کچھ صحافیوں اور اینکرز کو ایک مخصوص سیاسی جماعت کی جانب سے نشانہ بنایا جارہا ہے، ان صحافیوں کی ٹرولنگ کی جارہی ہے، دھمکیاں دی جارہی ہیں۔سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم صحافیوں سے پوری طرح اظہار یکجہتی کرتے ہیں، یہ وہ صحافی ہیں جن کو اسی سیاسی جماعت کے دور میں نوکریوں سے نکالا گیا، ایک طبقہ کہتا ہے پاکستان میں کشمیر اور فلسطین سے زیادہ ظلم ہورہا ہے، میں اس معاملے کو وزیراعظم تک بھی پہنچاو¿ں گا، آوازوں کو بند کرنے کا کلچر ختم ہونا چاہئے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آج یہ معاملہ وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے وزیراعظم کے ساتھ میٹنگ میں اٹھایا ہے، صحافی حضرات ہمیں معاشرے کی نبض بتاتے ہیں، آئین بھی اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے، ہمیں ایک تحمل و برداشت والا معاشرہ چاہئے، حکومت نے ایسے عناصر کے خلاف جو صحافیوں کے خلاف ٹرولنگ کررہے ہیں، انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
اجلاس میں ملک بالخصوص اسلام آباد میں ہیروئن کے عادی افراد کی تعداد میں تشویشناک اضافے کی تحریک پیش کی گئی۔
اجلاس کے دوران سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اسلام آباد میں ہیروئن کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، وفاقی درالحکومت میں کھلے عام ہیروئن کے عادی افراد نظر آتے ہیں۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نارکوٹس کے کنٹرول کے لئے اینٹی نارکوٹکس فورس کام کر رہی ہے، اینٹی نارکوٹکس کے تحت کارروائیوں میں لاکھوں ٹن نشہ تلف کیا جا چکا، پاکستان میں اس حوالے سے سزاو¿ں کی شرح بھی زیادہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نشے سے متاثرہ افراد کے لئے بحالی سینٹروں کیلئے قانون بنایا گیا ہے، 27 سالوں سے ایک قانون موجود ہے لیکن کارکردگی خوش آئند نہیں، قانون کے تحت صوبوں نے بحالی سینٹرز پر کام کرنا تھا۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ نشے سے متعلق قانون کے تحت سزاو¿ں پر اچھی پیشرفت ہے، بدقسمتی سے نشے سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے پیشرفت نہیں، فیصلہ کیا ہے کہ یہ معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لاو¿ں گا، معاملہ کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا اور صوبوں سے بھی بات ہوگی۔
اجلاس میں انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کلچرل اور ہیلتھ سائنسز کے قیام کا بل کو مشترکہ اجلاس میں پیش کرنے کی تحریک منظور بھی کی گئی، تحریک سینیٹر فوزیہ ارشد نے پیش کی۔
دوران اجلاس صحافیوں کو دھمکیاں دینے اور ٹرولنگ کا معاملہ بھی ایوان میں زیر بحث آیا۔

بعد ازاں اجلاس میں 15 منٹ کا وقفہ کردیا گیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button