ستھرا پنجاب — خدمت، قیادت اور عوامی فلاح کا روشن سفر


94 نیوز۔ تحریر: اختر خان
اسلام نے صفائی کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ دینِ اسلام میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے۔ یہ صرف ظاہری پاکیزگی کا درس نہیں بلکہ باطنی اور اخلاقی طہارت کا بھی پیغام ہے۔ چودہ سو سال قبل اسلام نے انسانیت کو یہ سنہری اصول عطا کیا کہ ایک صاف ستھرا ماحول صحت مند اور مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں طویل عرصے تک صفائی کے معاملات کو وہ توجہ نہیں مل سکی جس کے وہ مستحق تھے۔ گلیوں، بازاروں، محلوں اور دیہات میں کوڑا کرکٹ اور گندگی عام شکایت تھی۔ تاہم جب سے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت میں موجودہ حکومت نے ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، صفائی کے نظام میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ خصوصاً "ستھرا پنجاب” پروگرام کے قیام کے بعد صفائی کے حوالے سے ایک نئی سوچ اور عملی تبدیلی سامنے آئی ہے۔
حکومتِ پنجاب کو ایک عرصے بعد ایسی قیادت میسر آئی ہے جو عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو محض اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے عملی نتائج پر توجہ دیتی ہے۔ مریم نواز شریف کی قیادت میں مختلف شعبوں میں عوامی سہولت، بنیادی خدمات کی بہتری اور انتظامی نظام کی مؤثر نگرانی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صفائی، صحت، تعلیم اور دیگر عوامی خدمات کے شعبوں میں سرگرمی اور بہتری کا تاثر نمایاں نظر آتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے صوبے کے عوام کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے جس عزم کا اظہار کیا، وہ آج عملی شکل میں نظر آ رہا ہے۔ قابلِ تحسین بات یہ ہے کہ صحت کے مسائل اور سرجری کے باوجود انہوں نے سرکاری امور کی نگرانی جاری رکھی۔ ہسپتال میں موجود ہونے کے باوجود ویڈیو لنک کے ذریعے مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، کمشنرز اور دیگر افسران سے مسلسل رابطے میں رہیں اور "ستھرا پنجاب” پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ لیتی رہیں۔ یہ طرزِ عمل ذمہ دار قیادت اور عوامی خدمت کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر "ستھرا پنجاب” پروگرام اپنی کامیابی کے حوالے سے ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آیا۔ صوبے بھر میں ضلعی انتظامیہ، میونسپل اداروں، ٹاؤن کمیٹیوں اور صفائی کے عملے نے دن رات محنت کی۔ آلائشوں کو بروقت اٹھانے، کوڑا کرکٹ تلف کرنے اور گلی محلوں کو صاف رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے۔ کئی مقامات پر شہریوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ اس مرتبہ صفائی کے انتظامات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر اور منظم دکھائی دیے۔
ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، بلدیاتی اداروں اور صفائی عملے نے متحرک کردار ادا کیا۔ شکایات کے فوری ازالے اور صفائی کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی کی گئی۔ اس کے نتیجے میں صوبے کے بیشتر علاقوں میں صفائی کی صورتحال میں واضح بہتری دیکھی گئی۔
یہ حقیقت ہے کہ ایک صاف ستھرا پنجاب صرف ایک انتظامی کامیابی نہیں بلکہ عوامی فلاح و بہبود کی عملی تصویر بھی ہے۔ موجودہ حکومت نے صفائی کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر قیادت متحرک ہو، منصوبہ بندی مؤثر ہو اور نگرانی کا نظام مضبوط ہو تو مثبت تبدیلی ممکن ہے۔
عوام کی توقع ہے کہ مستقبل میں پاکستان کو بھی ایسی قیادت میسر آئے جو عوامی مسائل کو اپنی اولین ترجیح بنائے، میدانِ عمل میں موجود رہے، اداروں کو جوابدہ بنائے اور عام شہری کی زندگی میں حقیقی آسانیاں پیدا کرنے کے لیے کام کرے۔ ایک ایسی قیادت جو صرف وعدوں تک محدود نہ رہے بلکہ نتائج کی بنیاد پر اپنی کارکردگی ثابت کرے۔ مریم نواز شریف کی قیادت کے حامیوں کے نزدیک "ستھرا پنجاب” اور دیگر عوامی منصوبے اسی طرزِ حکمرانی کی ایک مثال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ عوام بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، صفائی کو اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھیں اور اپنے ماحول کو صاف رکھنے میں بھرپور کردار ادا کریں۔ حکومت اور عوام کی مشترکہ کاوشیں ہی ایک صحت مند، خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرے کی ضمانت بن سکتی ہیں۔
بلاشبہ "ستھرا پنجاب” صرف ایک صفائی مہم نہیں بلکہ ایک ایسے وژن کی عکاسی ہے جس کا مقصد پنجاب کو صاف، خوبصورت، منظم اور عوام دوست صوبہ بنانا ہے۔



