قومی

حکومت کی طرف سے صحت سہولت کارڈ کا اجراء بہت بڑاقدم ہے، ڈاکٹر حبیب بٹر

فیصل آباد (94 نیوز) حکومت کی طرف سے صحت سہولت کارڈ کا اجراء بہت بڑا قدم ہے، اس سے عوام اس مہنگے دور میں بھر پور استفادہ کرسکیں گے، لیکن اس کے لئے اپنے خاندان کا ریکارڈ نادرا میں مکمل کرنا ضروری ہے۔ یہ گفتگو میڈیکل سپرنٹنڈنٹ چلڈرن ہسپتال ڈاکٹر حبیب احمد بٹر نے ریڈیو پاکستان ایف ایم 93 کے حالات حاضرہ پر مبنی معروف پرگرام رابطہ میں میزبان میاں ندیم احمد کیساتھ انٹرویو کے دوران کہی، انہوں نے کہا کہ والدین 18 سال سے کم عمر کے بچوں کے ب فارم لازمی بنوائیں تاکہ اس سہولت سے مستفید ہو سکیں، بصورت دیگر وہ استفادہ نہیں کرسکیں گے،

انہوں نے کہا آؤٹ ڈور مریض اس سہولت سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔ کیونکہ آؤٹ ڈور پہلے ہی مفت ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں لوگوں کا مفت علاج ہورہا ہے، ڈاکٹر حبیب بٹر نے کہا کہ تمام سرکاری اور لسٹ کے مطابق پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی اپریشنز ہونگے، ادویات فری ملیں گی اور 10 لاکھ روپے تک لوگوں کا علاج ہوگا جو حکومت ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا چلڈرن ہسپتال میں روزانہ کی بنیاد پر لوگ اس سہولت سے مستفید ہورہے ہیں، ہسپتال میں ہر قسم کی سرجری ہو رہی ہے اور 16 بیماریوں کا علاج مفت ہوگا۔ لیکن وہ مریض جو ہسپتال میں داخل ہونگے انکا اور جن بچوں کے ب فارم بنے ہوئے ہونگے علاج فری ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ گھر کے سربراہ کے شناختی کارڈ پر ایک خاندان کی رجسٹریشن ہوگی۔ قومی شناختی کارڈ ہی صحت سہولت کارڈ ہے، شانختی کارڈ نمبر سے ڈیٹا سامنے آجاتاہے، اس سربراہ کے غیر شادی شدہ بچے اس کارڈ پر ہونگے۔ شادی شدہ افراد کا الگ سے ڈیٹا ہوگا، وہ اپنے خاندان کے خود سربراہ ہونگے۔ بیوہ خاتون گھر کی سربراہ ہوگی۔ لیکن نادرا آفس میں ریکارڈ مکمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتالوں بارے یا دیگر معلومات کے لئے ٹول فری نمبر۔ 09009-0800 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close