تقریبات/سیمینارز

محرم الحرام صبر و استقامت اور حق و باطل کے عظیم معرکے کی یاد دلاتا ہے: مرکزی بین المذاہب امن کمیٹی پاکستان کے زیراہتمام ”پیغام امن” سمینارکا انعقاد

فیصل آباد(94 نیوز میاں حمزہ ندیم)محرم الحرام اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے جو تاریخِ اسلام میں نہ صرف غم و اندوہ، صبر و استقامت اور حق و باطل کے عظیم معرکے کی یاد دلاتا ہے، بلکہ اس مہینے کی حرمت ہمیں امن، صلح، برداشت اور بھائی چارے کے پیغام کی تلقین بھی کرتی ہے۔ پاکستان جیسے کثیر المذاہب اور کثیر المسالک معاشرے میں اس مہینے کے دوران امن و امان کی فضا قائم رکھنا ریاست، اداروں، مذہبی قیادت، سول سوسائٹی اور عوام سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ان خیالات کااظہارمرکزی بین المذاہب امن کمیٹی پاکستان کے زیراہتمام منعقدہ ”پیغام امن سمینارسے خطاب کرتے ہوئے سرپرست اعلیٰ مرکزی بین المذاہب امن کمیٹی پاکستان سیدضیاء اللہ شاہ بخاری ‘چیئرمین مرکزی بین المذاہب امن کمیٹی پاکستان صاحبزادہ پیرقاری عبدالرحمن قادری ‘پیرفیض رسول حیدررضوی ‘ایس پی لائلپورٹاؤن راناناصرجاوید’ مولانازاہدمحمودقاسمی ‘احسن تارڑ’مفتی یونس ‘صدرحافظ شاہداشرف ‘سینئروائس چیئرمین علامہ سکندرحیا ت ذکی ‘سیکرٹری جنرل صاحبزادہ طاہرمحمودسیالوی ‘وائس چیئرمین آغاغلام جعفررضاعلوی، آرگنائزر پروفیسر عبدالصمد معاذ، چیف کوارڈینیٹرقاری محمدعارف سیالوی، وائس چیئرمین حافظ خبیب حمید، پاسٹرعمران لیاقت جمال، سردار ہیرا سنگھ، جاویداکبرہاشمی، چوہدری ارشدجاوید، خالدمحموداعظم آبادی سمیت دیگرنے کیاانہوں نے مزیدکہاکہ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے محرم الحرام کے سلسلے میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات، جدید ای پورٹل کا قیام، اضلاع کی سطح پر ایمرجنسی پلان کی تیاری، حساس مقامات کی نشاندہی، موبائل سگنلز کی عارضی بندش، لاڈ اسپیکر کے غیر قانونی استعمال کے خلاف کارروائی، جلوسوں کی طے شدہ حدود کی پابندی اور مجالس کی مکمل مانیٹرنگ جیسے اقدامات قابلِ تحسین، دور اندیش اور وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔جدید ای پورٹل کا قیام یقینا ایک انقلابی قدم ہے جس سے نہ صرف مرکزی سطح پر حالات کی نگرانی آسان ہو گئی ہے بلکہ ضلعی سطح پر مثر رابطہ کاری، معلومات کی ترسیل اور خطرات کے تیز رفتار تجزیے کی راہ بھی ہموار ہوئی ہے۔ اگر یہ نظام مکمل شفافیت، بروقت اپڈیٹس اور انٹیلیجنس رپورٹنگ سے مربوط ہو تو پاکستان جیسے حساس معاشرتی تانے بانے والے ملک میں کسی بھی ممکنہ فرقہ وارانہ چنگاری کو شعلہ بننے سے روکا جا سکتا ہے۔پنجاب سانڈ سسٹم ریگولیشن ایکٹ 2015 کے نفاذ کا اعادہ، بغیر اجازت لاڈ اسپیکر کے استعمال پر سخت کارروائی، اور مخصوص مذہبی نعروں یا اشتعال انگیز زبان پر پابندی جیسے اقدامات معاشرتی امن کی کلید ہیں۔ یہ پالیسی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ دوسروں کے جذبات کا احترام بھی ایک اسلامی اور جمہوری معاشرے کا بنیادی اصول ہے۔مرکزی بین المذاہب امن کمیٹی پاکستان ہمیشہ سے اس مقف پر قائم رہی ہے کہ ملک میں فرقہ واریت، مذہبی منافرت اور لسانی تعصب کے خلاف ریاستی اقدامات اس وقت مثر ہوں گے جب تمام طبقات مل کر ان کے نفاذ کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھیں گے۔ اس ضمن میں کمیٹی نے ماضی کی طرح اس سال بھی محرم الحرام کے دوران بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لیے درج ذیل عملی اقدامات کا عزم کیا ہے:تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ سے رابطہ و مشاورت، مقامی سطح پر ضلعی امن کمیٹیوں کے ساتھ اشتراک، مجالس، جلوسوں اور خطبات میں اتحاد و یگانگت کا پیغام، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی حوصلہ شکنی، نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنا، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے قریبی تعاون۔یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت نے محرم کے پروگرامز کے لیے مکاتب فکر کی تفریق کے بغیر سکیورٹی پلان تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے۔ یہ سوچ قومی وحدت کی آئینہ دار ہے، مگر اس سوچ کو حقیقت میں بدلنے کے لیے عوامی تعاون ناگزیر ہے۔ اگر عوام قانون پر عمل کریں، اشتعال انگیزی سے گریز کریں، مشکوک حرکات کی بروقت اطلاع دیں، اور مذہبی قیادت صبر و رواداری کا عملی مظاہرہ کرے تو نہ صرف محرم بلکہ پورا سال امن و سکون کا سال بن سکتا ہے۔مرکزی بین المذاہب امن کمیٹی پاکستان حکومتِ پنجاب کے ان مثر اقدامات کو سراہتے ہوئے اسے خراجِ تحسین پیش کرتی ہے کہ اس نے محض رسمی اجلاسوں یا بیانات پر اکتفا کرنے کی بجائے ایک قابلِ عمل، مربوط اور شفاف سکیورٹی نظام تشکیل دیا ہے۔ ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ماضی کی طرح اس سال بھی امن و امان، اتحادِ امت، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔پیغام امن سیمینارمیں ممبران ڈسٹرکٹ امن کمیٹی سیدحسنین شیرازی ‘پروفیسرآصف رضاقادری ‘ڈاکٹرممتازچوہدری غلام محی الدین انصاری ایڈووکیٹ ‘ پیرغلام رسول ‘حکیم محمدسعید’رانابشارت ‘راناذوالفقار’تجمل حسین ‘ڈاکٹرغلام مصطفی’وحیدرضاقادری ‘ڈاکٹرعلی افضال ‘اسامہ اصغرچیمہ ‘پروفیسراحسان عالم چوہان ‘مولاناعبدالحئی ‘چوہدری عبدالسلام ‘پاسٹرواصل گل ‘مفتی سہیل انجم ‘ڈاکٹردلنوازتیجا’سلیم مسیح ‘فاروق ایوب ‘شہبازشریف سہوترا’ذیشان بٹ ‘فیضان بٹ ‘عبدالرحمن چیمہ ‘میاں عمران ‘میاں منیرتوحیدی ‘محمدطلحہ ‘ملک فیصل ‘راشدعلی ‘حافظ جنید’سفیان طاہر’حمزہ گجرکپل آف فیصل آباد’لیڈیزونگ سے میڈم نسرین ‘میڈم ثمینہ بانوسمیت ممبران وعہدیداران مرکزی بین المذاہب امن کمیٹی پاکستان کی کثیرتعدادنے شرکت کی ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button