کالم

انسانی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا

تحریر: حافظ اشرف بنگلزئی بلوچ قریبی دوست

حضرت مولانا سید شمس الدین شہید کا بھتیجا عزیر احمد اوزیر
(گمنام خدمت گار)
(94 نیوز) عزیر احمد اوزیر کی پیدائش 1992میں مولانا سید شمس الدین شہید کے گھرچھوٹے بھائی شاہ احمد سعید صاحب کے ہاں ہوئی۔ بچپن ایک دین دار خاندان میں گزرا۔ اپنے دادا حضرت مولانا سید محمد زاہد صاحب رحمہ اللہ کی زیرنگرانی قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں دنیاوی تعلم ژوب میں حاصل کی۔ حضرت مولانا سید محمد زاہد صاحب رحمہ اللّٰہ کی وفات کے کچھ عرصے بعد اپنےوالد شاہ احمد سعید صاحب کے ساتھ 2006میں کوئٹہ منتقل ہوگئے۔کوئٹہ میں اپنی تعلیم جاری رکھی میٹرک کے بعد سائنس کالج میں داخلہ لیا اور جمعیت طلبہ اسلام سے اپنی سیاست کا آغاز کیا۔ کالج سےفارغ ہوکر جمیعت علمائے اسلام سے باقاعدہ سیاست شروع کردی۔ ذہنی طور پریہ طے کرلیا کہ مولانا سید شمس الدین شہید کا مشن کو جاری رکھونگا وقت گزرتا گیا گھر میں کمانے والا صرف ایک والد تھا۔ تو آپ نے سوچا کہ میں ایک ایسا کام کروں جو مولانا سید شمس الدین شہید کا مشن بھی جاری ھو اور گھرکا معاشی نظام بھی چلتا رہے۔ آپ نےفیصلہ کیا کہ کم بوجھ والی ملازمت کرکے دونوں کام ھوسکتے ہیں، لیکن ہر انسان کی خواہش ھوتی ھے کہ مجھے بڑی جگہ مل جائے، بڑا مقام مل جائے۔ مگر یہاں مقصد کچھ اور تھا توآپ نے نوکری کی تلاش جاری رکھی اس کام میں جناب حضرت مولانا سرور ندیم موسیٰ خیل صاحب نے آپکی کافی مدد کی اور دوسری بات مولانا سید شمس الدین شہید کے مشن کو جاری رکھناتھا اس لئے آپ نے عوامی خدمت کمیٹی کی بنیادرکھی اور چیئرمین منتخب ھوگئے۔ ابھی تک سات اضلاع میں خدمت کا کام جاری ہے جس میں آپ کے مخلص دوست بھی شامل ہیں۔ خدمت کا سلسلہ جاری رکھاہوا ہے۔ مختلف آزمائشوں امتحانات سے گزرے، بے گناہ لوگوں کیلئے تھانہ کچہری پہنچ جاتے، وکیلوں کی فیس بھی خود ادا کرتے ہیں، مولانا سید شمس الدین شہید کا نام کوئی بھی بندہ لیتا تواس کے لیے آگ میں بھی جانے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ غریبوں کیلئے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں سے لڑتےعام غریبوں کا علاج امیروں جیسا کرواتے۔ بہت سے فیصلے جو نواب سردارملک غیر منصفانہ کرتے، اس کی مخالفت کرتےاور دوبارہ فیصلے پر نظرثانی کرواکر مظلوموں کےحق میں فیصلہ کرواتے۔ آپ ایک ذہین انسان ہیں۔ مظلوموں کے ساتھ دینےپرآپکے کئی مخالفین پیدا ھوگئے۔ جس پرآپکو دھمکیاں بھی ملتیں۔ آپ کا ایک ہی جواب ہوتا میں مولانا سید شمس الدین شہید کا خون ھوں مجھے موت سے ڈراتے ھو کچھ نیا کرو تاکہ میں ڈر جاؤں۔ آخر میں اپنی جرات ہمت محنت خدمت کے ذریعےاپنی طاقت کا لوہا منوالیا۔ الحمداللہ عزیراحمداوزیر کا خدمت کا طریقہ پہلے دن سے یہ تھا کہ نیکی کر دریا میں پھینک۔ نہ کہ شہرت کیلئے۔

الحمدللہ مولانا سید شمس الدین شہید کا مشن ابھی بھی خدمت کے ذریعے سے جاری ہے اور انشاءاللہ جاری رہیگا اللہ تعالیٰ ہمارے اس گمنام خدمت گار دوست کو ہمشہ خوش سلامت رکھے جس نے اپنا کیریئرعوامی خدمت پر قربان کردیا

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close