قومی

الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں میں تاخیر کا ذمے دار حکومت کو قرار دے دیا

اسلام آباد (94 نیوز) الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں میں تاخیر کا ذمے دار حکومت کو قرار دے دیا،

ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ نئی حد بندی کی ضمانت دی جو مردم شماری کے سرکاری نتائج کی عدم موجودگی میں ممکن نہیں تھی‘ مردم شماری کیلئے حکومت کو خطوط لکھے اور یہ عمل تیز کرنے پر زور دیا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔
کابینہ کے سابق اراکین شاہ محمود قریشی، شیریں مزاری، فواد چوہدری اور فرخ حبیب کی جانب سے شدید تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیشن اپنی تمام آئینی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے ، اپنی قانونی اور آئینی ذمہ داریوں کے لیے متحرک ہے اور قانون اور آئین کے مطابق عام انتخابات کرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، جہاں ہم اپنے قانونی فرائض کی ادائیگی کے لیے پرعزم ہیں ، وہیں دوسرے اداروں اور شخصیات کو بھی اپنی قانونی اور آئینی ذمہ داریوں کو بروقت پورا کرنا چاہیئے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا کہ سابقہ ​​وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے انضمام اور قبائلی علاقوں کی نشستیں 12 سے کم کر کے 6 کرنے کے بعد قومی اسمبلی کے حلقوں کی تعداد 272 سے کم ہو کر 266 رہ گئی ، ہم نے نئی حد بندی کی ضمانت دی تھی جو مردم شماری کے سرکاری نتائج کی عدم موجودگی میں ممکن نہیں تھی ، چیف الیکشن کمشنر نے 7 مئی 2020 کو عمران خان کو خط لکھا جس میں ان کی توجہ اس معاملے کی طرف مبذول کروائی گئی تھی اور سرکاری نتائج کی اطلاع کے لیے ان سے مداخلت کی درخواست کی تھی ، دیگر متعلقہ حلقوں بشمول وزارت پارلیمانی امور کے ساتھ ساتھ سینیٹ، قومی اسمبلی اور ادارہ شماریات کے سیکریٹریوں کو بھی خطوط لکھے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مزید کہا کہ ان تمام اداروں کو یاد دہانی بھی کرائی گئی جس میں نشاندہی کی گئی تھی کہ حلقہ بندیوں کی حد بندی کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے لیکن یہ اس وقت تک پیشرفت نہیں کر سکتے جب تک مردم شماری کے حتمی نتائج کے حوالے سے باضابطہ طور پر مطلع نہیں کیا جاتا جس کے بعد حد بندی کا عمل بالآخر اس وقت شروع ہوا جب 7 مئی 2021 کو سرکاری مردم شماری کے نتائج سے آگاہ کیا گیا لیکن حکومت کے اعلان کے بعد اسے روک دیا گیا تھا کہ وہ نئی ڈیجیٹل مردم شماری کرے گی ، اس کے بعد مردم شماری کے لیے حکومت کو 30 دسمبر 2021 اور 21 جنوری 2022 کو خطوط بھی لکھے تھے جس میں ان پر مردم شماری کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا گیا تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close