قومی

گندم کی قیمت 5 ہزار روپے فی من مقرر نہ ہوئی تو 5 نومبر کو کسان مارچ کریں گے، سردار ظفر حسین خان


مریم نواز نے 11 ارب روپے کا جہاز کہاں سے لیا؟ بیوروکریسی کو 1300 سی سی گاڑیاں دی جائیں، سرکاری مکانات کا رقبہ 10 مرلے تک محدود کیا جائے

فیصل آباد (94 نیوز سٹی رپورٹر) کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی صدر سردار ظفر حسین خان ایڈووکیٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی بوائی سے قبل اس کی قیمت 5 ہزار روپے فی من مقرر کی جائے اور فلور ملوں کو سبسڈی دے کر عوام کو سستا آٹا فراہم کیا جائے، بصورت دیگر 5 نومبر کو مال روڈ لاہور پر کسان مارچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گزشتہ سیزن میں مقامی گندم نہ خریدنے اور درآمدی گندم کو ترجیح دینے سے کسانوں کو شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں گندم کی کاشت میں کمی اور غذائی تحفظ کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو پیداواری لاگت کے مطابق معاوضہ ملنا چاہیے تاکہ وہ آئندہ فصل کی کاشت جاری رکھ سکیں۔ سردار ظفر حسین خان نے مریم نواز کی جانب سے 11 ارب روپے کے جہاز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی کو مہنگی گاڑیاں دینے کے بجائے 1300 سی سی گاڑیاں فراہم کی جائیں اور سرکاری رہائش گاہوں کا رقبہ 10 مرلے تک محدود کیا جائے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ غیر ضروری اخراجات کم کرکے کسانوں کو ریلیف دے اور عوام کے لیے سستے آٹے کی فراہمی یقینی بنائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گندم کی مناسب قیمت مقرر نہ کی گئی تو کسان بورڈ پاکستان اپنے مطالبات کے حق میں 5 نومبر کو مال روڈ لاہور پر کسان مارچ کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیصل آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر علی احمد گورایہ اور یاسین کاہلوں بھی موجود تھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button