international

Special status of Jammu and Kashmir, Pakistan revealed to be two options

Islam Abad (94 news) بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ، جس پر پاکستان میں بھارت کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے سینیئر صحافی و تجزیہ کار مطیع اللہ جان نے ٹویٹر پیغام میں نیا انکشاف کر دیا۔

انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کو اس حوالے سے دو آپشن دے دئیے گئے ہیں- ایک تو یہ کہ پاکستان آزاد کشمیر/گلگت بلتستان کو آئینی طور پر اپنا صوبہ قرار دے کر لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد مان لے اور دوسرا یہ کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو بصورت دیگر مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کے بعد امریکی ثالثی آزاد کشمیر پر ہو گی۔مطیع اللہ جان نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے ایک سوال بھی اُٹھایا کہ کیا پاکستان تحریک انصاف اس سب کا حصہ ہے ؟

Matiullah Jan@Matiullahjan919

بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں اقدامات، پاکستان کو۲ آپشن دے دئیے گئے-
۱- آزاد کشمیر /گلگت بلتستان کو آئینی طور ہر اپنا صوبہ قرار دے کر لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد مان لے
۲- وگرنہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کے بعد امریکی ثالثی آزاد کشمیر پر ہو گی۔
پی ٹی آئی کھیل کا حصہ ہے؟

سینئیر صحافی و تجزیہ کار مطیع اللہ جان کے اس سوال پر سوشل میڈیا بالخصوص ٹویٹر پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

خیال رہے کہ صبح بھی ایک خاتون اینکر نے گلگت بلتستان سے متعلق ٹویٹر پیغام میں کہا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب بالآخر گلگت بلتستان کو بھی پاکستان میں ضم کر دیا جائے گا ؟

Amber Rahim Shamsi@AmberRShamsi

Does that mean Gilgit-Baltistan can finally be integrated into Pakistan? #askingforafriend #Article370

خیال رہے کہ بھارت کی پارلیمنٹ میں آج مقبوضہ کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کرنے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد صدارتی حکم نامہ جاری ہوا اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی۔بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق تھا جس کے ختم ہونے کا اعلان ہوتے ہی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی ختم ہو گئی ہے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کو دو ریاستوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
More

Related news

Leave a Reply

Close