قومیکامرس

کے پی کے اسمبلی نےاپوزیشن کے بغیر ہی بجٹ منظور کر لیا

پشاور (94 نیوز) خیبرپختونخوا حکومت کی پھرتیاں، اپوزیشن کی غیر موجودگی میں ہی نئے سال کے مالی بجٹ کو منظور کر لیا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ خییبرپختونخوا حکومت نے اپوزیشن کی غیر موجودگی میں نئے مالی سال2019-20 کا بجٹ منظور کر لیا۔ بجٹ منظور ہونے کی اطلاع ملتے ہی اپوزیشن ارکان ایوان میں پہنچ گئے۔ایوان میں اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا جب کہ بجٹ کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں۔واضح رہے صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم نے 900 ارب روپے کا سر پلس بجٹ 2019-20خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش کیا تھا جس میں 693ارب روپے سیٹل اضلاع کو اور 162 ضم شدہ اضلاع کیلئے رکھے گئے ہیں جبکہ45ارب روپے سر پلس ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت نے کئی مدوں میں ٹیکس کی شرح بڑھا دی ہے،نسوار پر ٹیکس کی شرح فی کلو اڑھائی روپے کر دی گئی ہے،بیس ہزار سے زائد آمدنی والے ملازمین پر پروفیشنل ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی۔

نجی تعلیمی اداروں، کلینکس ،ای این جی سٹیشنز ، پٹرول پمپس پر بھی ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے۔محصولات کی مد میں وفاقی ٹیکس کی مد میں وفاق 453.2ارب روپے ،Divisible Poolکی 1فیصد وار آن ٹیرر کی مد میں 54.5 ارب موصول ہوں گے،تیل اورگیس کی رائلٹی اور سرچارج کی مد میں25.6ارب،بجلی21.2ارب، NHPکے بقایا جات کی مد میں34.5ارب،صوبائی ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات کی مد میں53.4ارب،بیرونی پروجیکٹ اسسٹنٹس کی مد میں82ارب روپے،دیگر ذرائع کی مد میں24.7ارب،قبائلی اضلاع کی گرانٹ کی مد میں 151 ارب  روپے موصول ہوںگے جبکہ اخراجات کی مد میں تنخواہیں256ارب ،پنشن69.9ارب،نان سیلری93.5ارب،دیگر جاری اخراجات37.6ارب،صوبائی ترقیاتی پروگرام46ارب،بیرونی ڈیویلپمنٹ اسسٹنٹس82ارب روپے خرچ کئے جائیں گے جوکہ کل693ارب روپے بنتے ہیں جبکہ ضم شدہ اضلاع کیلئے(بشمول صوبے کی طرف سے دیئے گئے 11ارب روپے)،جاری اخراجات 79ارب، ترقیاتی اخراجات 83ارب اخراجات کی مد میں رکھے گئے ہیں جو کہ ٹوٹل 162ارب روپے بنتے ہیں جبکہ سرپلس کی مد میں45ارب روپے ہیں جو کہ خیبر پختونخوا کا کل اخراجات 900ارب روپے بنتے ہیں۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close