قومی

کیاکشمیر کا سودا کرنے کے بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تیاری ہو رہی ہے؟

اسلام آباد (94 نیوز) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی عرب ممالک سے قربتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔نریندر مودی کو متحدہ عرب امارات اور بحرین میں اعلیٰ ترین ایوارڈ سے نواز گیا۔ ایسے میں پاکستان کو کیا کرنا ہو گا؟۔اسی حوالے سے معروف صحافی کامران خان نے ٹویٹ کیا ہے کہ 40 سال سے اسرائیل چاہتا ہے  پاکستان سے سفارتی تعلقات قائم ہوں یا اتنا تعلق تو ہو جتنا اس کا کئی مسلم ملکوں سے ہے ہم انکاری رہے برادر ممالک برا نہ منائیں حتی کہ یہ دوست خود اسرائیل سے جڑ گئے بلکہ مودی جیسےپاکستان دشمن کو بھائی بنا لیا وقت ہے پاکستان اپنے مفاد میں فوری فیصلہ کرے۔

Kamran Khan

@AajKamranKhan

40 سال سے اسرائیل چاہتا ہے پاکستان سے سفارتی تعلقات قائم ہوں یا اتنا تعلق تو ہو جتنا اس کا کئی مسلم ملکوں سے ہے ہمُ انکاری رہے برادر ممالک برا نہ منائیں حتی کہ یہ دوست خود اسرائیل سے جڑ گئے بلکہ مودی جیسے پاکستان دشمن کو بھائی بنا لیا وقت ہے پاکستان اپنے مفاد میں فوری فیصلہ کرے

17.9K

Twitter Ads info and privacy
 کامران خان کے اس ٹویٹ نے لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوالات اٹھا دئیے ہیں۔

اس حوالے سے معروف صحافی انصار عباسی نے بھی ٹویٹ کیا ہے اور کہا ہے کہ کامران خان صاحب جن کی حال ہی میں حکمرانوں سے اہم ملاقاتیں ہوئیں کا یہ ٹویٹ پڑھ کر محسوس ایسا ہوتا ہے کہ کشمیر کو کھونے کے بعد اب اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بھی وقت آ پہنچا ہے؟؟؟

Ansar Abbasi

@AnsarAAbbasi

کامران خان صاحب جن کی حال ہی میں حکمرانوں سے اہم ملاقاتیں ہوئیں کا یہ ٹویٹ پڑھ کر محسوس ایسا ہوتا ہے کہ کشمیر کو کھونے کے بعد اب اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بھی وقت آ پہنچا ہے؟؟؟ https://twitter.com/aajkamrankhan/status/1165543401565106176 

Kamran Khan

@AajKamranKhan

40 سال سے اسرائیل چاہتا ہے پاکستان سے سفارتی تعلقات قائم ہوں یا اتنا تعلق تو ہو جتنا اس کا کئی مسلم ملکوں سے ہے ہمُ انکاری رہے برادر ممالک برا نہ منائیں حتی کہ یہ دوست خود اسرائیل سے جڑ گئے بلکہ مودی جیسے پاکستان دشمن کو بھائی بنا لیا وقت ہے پاکستان اپنے مفاد میں فوری فیصلہ کرے

4,902

Twitter Ads info and privacy
انصار عباسی نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ اگر سوچ اور فیصلوں کا محور پیسہ اور معیشت ہی ہو گا تو پھر وہ وقت بھی آئے گا جب پاکستان کا نیوکلئیر پروگرام بھی ہمیں بھاری لگنا شروع ہو جائے گا اور بھارت کا تسلط تسلیم کرنا ہماری ضرورت بن جائے گی۔

Ansar Abbasi

@AnsarAAbbasi

اگر سوچ اور فیصلوں کا محور پیسہ اور معیشت ہی ہو گا تو پھر وہ وقت بھی آئے گا جب پاکستان کا نیوکلئیر پروگرام بھی ہمیں بھاری لگنا شروع ہو جائے گا اور بھارت کا تسلط تسلیم کرنا ہماری ضرورت بن جائے گی۔ https://twitter.com/ansaraabbasi/status/1165616579272433669 

Ansar Abbasi

@AnsarAAbbasi

کامران خان صاحب جن کی حال ہی میں حکمرانوں سے اہم ملاقاتیں ہوئیں کا یہ ٹویٹ پڑھ کر محسوس ایسا ہوتا ہے کہ کشمیر کو کھونے کے بعد اب اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بھی وقت آ پہنچا ہے؟؟؟ https://twitter.com/aajkamrankhan/status/1165543401565106176 

2,040

Twitter Ads info and privacy
جب کہ اسی معاملے پر شاہ اویس نورانی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کامران صاحب کی ٹویٹ کو صرف ان کی رائے نہ سمجھا جائے بلکہ نئی پالیسی کا اظہار بھی سمجھا جائے۔ یعنی کشمیر کے سودے کے بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تیاری۔

Shah Owais Noorani Official@iamowaisnoorani

کامران صاحب کی ٹویٹ کو صرف ان کی رائے نہ سمجھا جائے بلکہ نئی پالیسی کا اظہار بھی سمجھا جائے۔
یعنی کشمیر کے سودے کے بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تیاری۔ https://twitter.com/AajKamranKhan/status/1165543401565106176 

Kamran Khan

@AajKamranKhan

40 سال سے اسرائیل چاہتا ہے پاکستان سے سفارتی تعلقات قائم ہوں یا اتنا تعلق تو ہو جتنا اس کا کئی مسلم ملکوں سے ہے ہمُ انکاری رہے برادر ممالک برا نہ منائیں حتی کہ یہ دوست خود اسرائیل سے جڑ گئے بلکہ مودی جیسے پاکستان دشمن کو بھائی بنا لیا وقت ہے پاکستان اپنے مفاد میں فوری فیصلہ کرے

754

Twitter Ads info and privacy
خیال رہے کہ پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے پہلے ہی وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ دورہ امریکا کے دوران کشمیر کا سودا کر کے آئے۔
مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close