قومی

کوروناکا علاج صرف کمرے میں بندکرناہے،پیسہ وہاں خرچ ہورہاجہاں لگانظربھی نہیں آرہا،چیف جسٹس پاکستان ،ہفتہ اوراتوارکوکاروباری سرگرمیاں بندرکھنے کافیصلہ کالعدم قرار

اسلام آباد(94 نیوز، میاں ندیم احمد) کورونا ازخودنوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے ہفتہ اوراتوارکوکاروباری سرگرمیاں بندرکھنے کافیصلہ کالعدم قرار دیدیا،عدالت نے کہاکہ کاروباری سرگرمیاں ہفتہ،اتوارکوبندکرناآئین کی خلاف ورزی ہے، پنجاب اوراسلام آبادشاپنگ مالزکھولنے کاارادہ رکھتے ہیں،سندھ میں شاپنگ مالزبندرکھنے کی کوئی وجہ نظرنہیں آتی، سندھ شاپنگ مالزکھولنے کیلئے وفاقی حکومت سے رجوع کرے،اجازت کے بعد صوبے شاپنگ مالزکھولنے میں رکاوٹ پیدانہ کریں،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ کوروناکا علاج صرف کمرے میں بندکرناہے،کیا کمرے میں بندہونے پر 25 لاکھ خرچ ہوتے ہیں؟،پیسہ وہاں خرچ ہورہا ہے جہاں لگانظربھی نہیں آرہا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں کورونا ازخودنوٹس کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ کوروناکا علاج صرف کمرے میں بندکرناہے،کیا کمرے میں بندہونے پر 25 لاکھ خرچ ہوتے ہیں؟،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیاکہ پولن سے کتنے لوگ مرتے ہیں؟،وفاقی سیکرٹری صحت نے کہاکہ پولن سے کم وبیش ایک ہزارلوگ مرتے ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ابھی ڈینگی آئے اور 50 ہزارلوگ مرجائیں گے،سرکاری ہسپتال سے کوروناٹیسٹ مثبت،نجی لیب میں منفی نکلتاہے،جسے دل کرتاہے کوروناکامریض قراردےدیاجاتاہے، پیسہ وہاں خرچ ہورہاجہاں لگانظربھی نہیں آرہا۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ عوام حکومت کی غلام نہیں ہے،عوام پرحکومت آئین کے مطابق کرنی ہوتی ہے، پاکستان میں غربت بہت ہے،لوگ روزانہ کماکرہی کھاناکھاسکتے ہیں،چیف جسٹس پاکستا ن نے کہاکہ کراچی پورٹ پراربوں روپے کاسامان پڑاہے جوباہرنہیں آرہا،لگتاہے کراچی پورٹ پرپڑاسامان سمندرمیں پھینکناپڑےگا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیاکسی کومعلوم ہے 2 ماہ بعدکتنی بےروزگاری ہوگی؟،بندہونیوالی صنعتیں دوبارہ چل نہیں سکیں گی،ساراالزام این ڈی ایم اے پرآئے گا،کیاکروڑوں لوگوں کوروکنے کیلئے گولیاں ماری جائیں گی؟۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ سناہے ہولی فیملی ہسپتال سے لوگوں کونجی ہسپتال منتقل کیاجارہاہے،سیکرٹری صحت نے کہاکہ اگرمریض منتقل ہورہے تویہ ڈاکٹرزکامس کنڈکٹ ہے، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ محکمہ صحت میں کالی بھیڑیں موجود ہیں محکمہ صحت تمام کالی بھیڑوں کو جانتا ہےسب سے تھرڈ کلاس ادویات سرکاری ہسپتالوں میں ہوتی ہیں ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ او پی ڈی میں 100 مریض کھڑے ہوتے اور ڈاکٹر چائے پی رہے ہوتے ہیں، کیاکیمرے لگاکر سرکاری ہسپتالوں کی نگرانی نہیں ہو سکتی؟تمام سرکاری ہسپتالوں کے ہر کمرے میں کیمرے لگائیں سیکرٹری صحت نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ جہاں جہاں ممکن ہوگا کیمرے نصب کریں گے۔

سپریم کورٹ نے ہفتہ اوراتوارکوکاروباری سرگرمیاں بندرکھنے کافیصلہ کالعدم قرار دیدیا،عدالت نے کہاکہ کاروباری سرگرمیاں ہفتہ،اتوارکوبندکرناآئین کی خلاف ورزی ہے،پنجاب اوراسلام آبادشاپنگ مالزکھولنے کاارادہ رکھتے ہیں،سندھ میں شاپنگ مالزبندرکھنے کی کوئی وجہ نظرنہیں آتی،سندھ شاپنگ مالزکھولنے کیلئے وفاقی حکومت سے رجوع کرے،اجازت کے بعدصوبے شاپنگ مالزکھولنے میں رکاوٹ پیدانہ کریں۔

عدالت نے کہاکہ 2 دن کاروباربندش کاحکم آرٹیکل 4، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے،پنجاب میں شاپنگ مال فوری طورپرآج ہی سے کھلیں گے،سندھ شاپنگ مال کھولنے کیلئے وزارت صحت سے منظوری لے گا،توقع ہے وزارت صحت رکاوٹ پیدانہیں کریگی اورکاروبارکھول دےگی۔عدالت نے حکم دیا کہ تمام مارکیٹس میں ایس اوپیز پرعملدرآمدیقینی بنایاجائے،ایس او پیزپرعملدرآمدکے حوالے سے متعلقہ حکومتیں ذمہ دارہوں گی۔

سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ تمام وسائل صرف کوروناپرخرچ نہ کیے جائیں،وفاقی وصوبائی حکومتیں وسائل خرچ کرنے سے متعلق اپناموقف دیں،عدالت نے کہاکہ پاکستان میں کورونااتناسنگین نہیں جتنی رقم خرچ کی جارہی،کوروناسے زائدسالانہ اموات دیگرامراض سے ہوتی ہیں،این ڈی ایم اے اربوں روپے کوروناسے متعلق خریداری پرخرچ کررہا،عدالت کااین ڈی ایم اے حکام کونئی ہدایات لینے اورآگاہ کرنےکاحکم دیدیا۔عدالت نے کوروناازخودنوٹس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close