قومی

پی ٹی آئی کا وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان

لاہور (94 نیوز) پی ٹی آئی کا وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب کے نئے قائد ایوان کے انتخاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ حمزہ شہباز نے پنجاب اسمبلی میں غنڈہ گردی کی روایت قائم کر دی، پنجاب کی تاریخ میں کبھی پولیس اسمبلی ہال میں داخل نہیں ہوئی۔
پرویز الٰہی کے فوٹوگرافر پر بھی قاتلانہ حملہ کیا گیا, وہ شدید زخمی ہیں، اسمبلی گیلری کبھی آئینی نہیں ہوتی وہاں ووٹنگ کرائی گئی، وزیراعلیٰ انتخابی عمل نہیں مانتے اس کو چیلنج کریں گے۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب عدالت میں چیلنج کریں گے، امید کرتے ہیں کہ عدالت ویسے ہی سوموٹو لےگی جیسے لیا گیا تھا، عدالت سے درخواست کرتے ہیں کہ اب اتوار کو بھی عدالت کھول لیں۔

دوسری جانب نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب میاں حمزہ شہبازشریف نے پنجاب اسمبلی اجلاس میں بطور قائد ایوان پہلے خطاب میں کہا کہ اللہ کی ذات کا شکر ادا کرتا ہوں سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، وہ جسے چاہتا ہے عزت عطا فرماتا ہے، پچھلے دو ہفتوں میں قوم ہیجانی کیفیت میں مبتلا رہی، اجلاس بلایا گیا، اس کا ایجنڈا صرف قائد ایوان کا الیکشن تھا، ادھر سے حملہ ہوتا ہے اور اجلا س کی کاروائی چلنے نہیں دی جاتی، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیان دیتا ہے الیکشن آئین و قانون کے مطابق ہوگا، لیکن اسپیکر معزز ممبران پر ایوان کے دروازے بند کردیتے ہیں، ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات بند کردیے جاتے ہیں، آج پھر تیسری مرتبہ ایوان اکٹھا ہوا، کہ لیڈرآف اپوزیشن کا انتخاب ہونا ہے، ہم لابی میں بیٹھے ہوئے تھے تو ہمیں پتا چلا کہ آپ پر حملہ کیا گیا، یہ آپ پر نہیں ایوان پر حملہ تھا، وقت گزر جاتا ہے کردار یاد رہتے ہیں۔
لیکن کیا کسٹوڈین آف ہاؤس جس نے ایوان کی پاسداری کا حلف لیا ہے، کیا حلف اتنا کمزور ہے کہ جب اس کو ہار نظر آئے تو اسمبلی کو سیل کرا دے، اسپیکر نے آج جس بہادری سے اپنا فرض ادا کیا میں ایوان کے توسط سے آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، آپ کو زچ کیا گیا، ہائیکورٹ نے آپ کو اختیارات دیے لیکن پھر آپ کو آئینی کردار ادا کرنے سے روکا گیا، لیکن سب چیزوں کے باوجود جمہوریت کی فتح ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت ہمارے لوگوں، علیم خان جیلیں کاٹیں، جہانگیرترین پر مقدمات بنائے کوئی بات نہیں، لیکن آپ نے 50لاکھ گھروں اور ایک کروڑ نوکریوں کی بات کی، تجاوزات کے نام پر غریبوں کے گھر گرا دیے گئے لیکن بنی گالہ کو ریگولرائز کرا دیا گیا۔ چینی کا بحران آتا تو لوگوں کو لائنوں میں لگناپڑتا تھا، گندم کی پیداوار میں خود کفیل صوبے کو آٹے کا بحران آتا اور لوگ لائنوں میں لگتے،کوروناکے دنوں میں پیناڈول کی گولی بحران ہوگیا، نیازی صاحب کہتے مافیا کی وجہ سے ہورہا ہے۔
گیس167فیصد مہنگی ہوئی، ٹاک شوز پر غلیظ گالیاں دینے والے کو ٹائیگرز کہا جاتا ہے، ہر چیز پر جھوٹ بولا جاتا ہے، بھرے جلسوں میں دوستوں کو للکارا جاتا ہے، کبھی ایبسولوٹلی ناٹ، کبھی یورپی یونین کو للکارا جاتا ہے۔ ہمارے دوستوں کو ناراض کیا گیا۔کہتا مجھے آلوٹماٹر کے ریٹ کیلئے الیکٹ نہیں کیا گیا، تو کیا بادشاہت کیلئے لایا گیا تھا۔
میں اپنے قائد محمد نواز شریف ، صدر جماعت شہبازشریف اور پارٹی کا شکر گزا رہوں، جنہوں نے مجھ پر احسان کیا۔ میں آج بھی ایک کارکن ہوا، مجھے قائد ایوان کہلانے سے زیادہ ورکر کہلانے پر ناز ہے۔سانحہ ساہیوال ہوا میں اس بچی کے گھر گیا، میری بھی ایک بچی ہے، مجھے آج بھی اس کے آنسو نہیں بھولتے کہ میں نے ان کو کہا میرے بابا کو گولی مت مارو، میری ماما کو گولی مت مارو، اسی طرح موٹروے کا واقعہ ہوا تو سی سی پی او نے کہا کہ خاتون رات کے اندھرے میں باہر کیوں نکلی؟ سیف سٹی کیمرے 18ارب کا منصوبہ جس کے 30فیصد کیمرے بند پڑے ہیں، ڈاکے پڑتے ہیں، امن وامان کی صورتحال ، تقرروتبادلوں کیلئے ریٹ فکس ہوتے ہیں، 5آئی جی ، چیف سیکرٹری بدل دیے گئے، کوئی بڑا صوبہ نہیں بناسکے تو کوڑا ہی اٹھا لیتے۔
مشینوں کو قبضے میں لے لیا اور صوبے کی صفائی کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔نااہل شخص کو وزیراعلیٰ پنجاب لگا کر صوبے کے ساتھ سازش کی گئی،بیڈ گورننس کی وجہ سے70فیصد مہنگائی ہوئی، ہر طرف انتشار ہے، غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹے جاتے ہیں، پنجاب میں بہترین بلدیاتی نظام لائیں گے، 58ہزار الیکٹڈ ممبران کو فارغ کردیا، سپریم کورٹ نے بحال کیا، جب ڈپٹی اسپیکر کا گلا دبایا جائے گا، اس کو نوچا جائے گا، وہ اپنی جان بچانے کیلئے باہر چلا جاتا ہے، تو قانون حرکت میں آتا ہے، پولیس کے کردار پر ان کو شاباش دیتا ہوں۔
بہت انتقام ہوگیا، بداخلاقی ہوگی، گریبان پکڑ لیے، آج جو ایوان میں ہوا، یہ قوم کا مسئلہ نہیں ہے، قوم کے بچے بھوکے ہیں، گیس بجلی کے بلو ں پر ذہنی مریض بن چکے ہیں۔انتقام کا صفحہ ہم نے پھاڑ دیا ہے، کسی سے انتقام نہیں لیں گے، صوبے کی خدمت کیلئے کمرکس کے میدان میں نکلیں گے، اگر عوام کا بھلا ہوگیا تویہی جمہوریت میں انتقام ہوا کرتا ہے۔
شاندار ایوان میں آئین وقانون کا قتل ہوا ہے، نیا اسپیکر منتخب کریں گے ، ایوان کی ان ہاؤس کمیٹی بنائیں گے، جمہوریت آئین کے خلاف سازش کی انکوائری کروائیں گے، ان لوگوں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے تاکہ آئندہ ایسا تماشا نہ لگے۔ہماری حکومت عوامی حکومت ہوگی، عوام اور حکومت کے درمیان خلا کو ختم کریں گے عوام میں گھل مل جائیں گے، اب صوبے کو پتا چلے گا کہ اللہ کے بعد صوبے کا کوئی والی وارث ہے، ترقی کا سفر جہاں سے ٹوٹا تھا وہیں سے شروع کریں گے، اچھے پولیس افسران اور اچھے بیوروکریٹس کو لے کر آئیں گے تاکہ گڈگورننس قائم ہوسکے ۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close