کالم

پی آر او: عوامی رابطے کا افسر یا طاقت کا غیر اعلانیہ مرکز؟

تحریر: میاں ندیم احمد

سرکاری اداروں، محکموں، سیاسی شخصیات اور بیوروکریسی میں پبلک ریلیشنز آفیسر (پی آر او) کا منصب بنیادی طور پر عوام، میڈیا اور متعلقہ ادارے کے درمیان ایک مؤثر رابطہ قائم کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا تھا۔ اس عہدے کا مقصد یہ تھا کہ معلومات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے، عوامی شکایات متعلقہ افسر تک پہنچیں، صحافیوں کو درست اور مصدقہ معلومات میسر آئیں اور ادارے کا مثبت تشخص اجاگر ہو۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کئی مقامات پر اس منصب کی اصل روح کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔

بعض اداروں میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پی آر او خود کو متعلقہ افسر سے بھی زیادہ بااختیار سمجھنے لگتا ہے۔ وہ یہ طے کرتا ہے کہ کون صاحب سے مل سکتا ہے، کس صحافی کو وقت ملے گا، کس شہری کی درخواست آگے جائے گی اور کسے صرف یہ کہہ کر واپس بھیج دیا جائے کہ "صاحب آج مصروف ہیں”، "صاحب میڈیا سے بات نہیں کرتے”، یا "دو چار دن بعد رابطہ کریں۔” یہ جملے بہت سے صحافیوں اور سائلین کے لیے کسی اجنبی داستان کا حصہ نہیں بلکہ روزمرہ کا تجربہ ہیں۔

بدقسمتی سے بعض جگہوں پر ذاتی پسند و ناپسند بھی سرکاری امور پر اثر انداز ہونے لگتی ہے۔ جس سے اچھے تعلقات ہوں، اس کے لیے دروازے کھل جاتے ہیں، ملاقاتیں فوری ہو جاتی ہیں، فون کالز کا جواب بھی مل جاتا ہے۔ لیکن جس سے ذاتی اختلاف یا ناراضی ہو، اس کے لیے ہر روز نئی وجہ، نیا بہانہ اور نئی رکاوٹ تیار ہوتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف پیشہ ورانہ اخلاقیات کے خلاف ہے بلکہ سرکاری خدمت کے بنیادی اصولوں سے بھی متصادم ہے۔

ایک اور تشویش ناک پہلو بعض افراد میں تکبر اور غرور کا بڑھ جانا ہے۔ عوامی خدمت کے لیے مقرر ہونے والا شخص اگر خود کو عوام سے بلند تر سمجھنے لگے تو پھر اس عہدے کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ ایک سرکاری ملازم کا اصل وقار اس کی کرسی میں نہیں بلکہ اس کے کردار، خوش اخلاقی، دیانت داری اور خدمت کے جذبے میں ہوتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ چند افراد کی غلط روش کی وجہ سے پورے شعبے کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ پاکستان میں بے شمار ایسے پی آر اوز بھی موجود ہیں جو انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں، صحافیوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں، معلومات کی بروقت فراہمی کو یقینی بناتے ہیں اور ادارے کا وقار بھی برقرار رکھتے ہیں۔ ایسے افسران یقیناً قابلِ تحسین ہیں۔ لیکن جہاں خامیاں موجود ہیں، وہاں اصلاح کی ضرورت بھی اتنی ہی اہم ہے۔

سرکاری افسران کو بھی اس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔ اگر کسی ادارے کے سربراہ تک عوام، منتخب نمائندے یا میڈیا آسانی سے نہ پہنچ سکیں تو اس کی ذمہ داری صرف پی آر او پر نہیں بلکہ ادارے کے انتظامی نظام پر بھی عائد ہوتی ہے۔ افسران کو چاہیے کہ وہ اپنے پی آر اوز کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیں، شکایات سنیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی ملازم اپنی ذمہ داری سے تجاوز نہ کرے۔

صحافی بھی ریاست کے دشمن نہیں بلکہ معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں۔ اگر میڈیا کو درست معلومات بروقت فراہم کی جائیں تو افواہوں کا خاتمہ ہوتا ہے، اداروں پر عوام کا اعتماد بڑھتا ہے اور مثبت کام زیادہ مؤثر انداز میں عوام تک پہنچتے ہیں۔ لیکن اگر معلومات روک دی جائیں، غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کی جائیں یا ذاتی پسند و ناپسند کو معیار بنا لیا جائے تو نقصان صرف میڈیا کا نہیں بلکہ پورے ادارے کی ساکھ کا ہوتا ہے۔

پی آر او کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ کسی عہدے کا مالک نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کا امین ہے۔ اس کا کام دروازے بند کرنا نہیں بلکہ رابطے آسان بنانا ہے۔ وہ اگر عوام، میڈیا اور ادارے کے درمیان اعتماد کا پل بنے گا تو اس کا اپنا وقار بھی بڑھے گا اور ادارے کی عزت بھی۔ لیکن اگر وہ اختیار کا ناجائز استعمال کرے گا، لوگوں کو بلاوجہ انتظار کروائے گا، غلط معلومات دے گا یا ذاتی تعلقات کی بنیاد پر فیصلے کرے گا تو نہ صرف اس کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ متعلقہ ادارہ بھی تنقید کی زد میں آئے گا۔

وقت آ گیا ہے کہ ہر سرکاری ادارہ اپنے عوامی رابطہ نظام کو جدید، شفاف اور جوابدہ بنائے۔ ملاقاتوں اور میڈیا رابطوں کے واضح اصول مقرر کیے جائیں، شکایات کا مؤثر نظام قائم ہو اور کسی ایک فرد کو یہ اختیار نہ دیا جائے کہ وہ ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر عوام اور ادارے کے درمیان دیوار کھڑی کر دے۔

یاد رکھیے، عزت منصب سے نہیں بلکہ کردار سے ملتی ہے۔ پی آر او اگر واقعی "پبلک ریلیشنز آفیسر” ہے تو اسے عوام سے تعلقات مضبوط بنانے چاہئیں، نہ کہ عوام اور ادارے کے درمیان فاصلے پیدا کرنے چاہئیں۔ یہی اس عہدے کی اصل روح ہے اور یہی ایک مہذب، شفاف اور جوابدہ نظام کی پہچان بھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button