قومی

پولیس کی مدد سے لیاری گینگ وار کے ارشد پپو، بھائی اور ساتھی کو اغوا کیا، تینوں کے سر تن سے جدا کر کے فٹ بال کھیلا اور لاشوں کو جلا دیا، عزیر بلوچ

کراچی (94 نیوز) پولیس افسران کی مدد سے لیاری گینگ وار کے ارشد پپو، اس کے بھائی اور ساتھی کو اغوا کیا، ان تینوں کے سر تن سے جدا کر کے فٹ بال بنا کر کھیلا اور لاشوں کو جلا دیا, عزیر بلوچ کے اقبالی بیان میں اہم انکشافات سامنے آ گئے-

تفصیلات کےمطابق انسداد دہشت گردی عدالت میں جمع کرائے گئے اقبالی بیان میں کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ نے اہم انکشافات کیے ہیں، عدالت نے اس اقبالی بیان کو کیس کا حصہ بنا دیا۔
اقبالی بیان میں عزیر بلوچ نے اعتراف کیا ہے کہ پولیس افسران یوسف بلوچ، جاوید بلوچ اور چاند نیازی کی مدد سے اس نے لیاری گینگ وار کے ارشد پپو، اس کے بھائی اور ساتھی کو اغوا کیا، ان تینوں کے سر تن سے جدا کر کے لیاری کی گلیوں میں فٹ بال کھیلا اور لاشوں کو جلا دیا، اس کے بعد دہشت پھیلانے کے لیے لاشوں کی ویڈیو بنا کر پورے ملک میں پھیلا دی۔
164 کے اقبالی بیان میں عزیر بلوچ نے کہا میں نے 2003 میں لیاری گینگ وار میں شمولیت اختیار کی، 2008 میں پیپلز پارٹی کے فیصل رضا عابدی اور جیل سپرنٹنڈنٹ نصرت منگن کے کہنے پر پیپلز پارٹی کے قیدیوں کا ذمہ دار بنایا گیا۔ 2008 میں رحمان ڈکیت کی ہلاکت کے بعد لیاری گینگ وار کی مکمل کمان سنبھال لی، اسی سال ہی پیپلز امن کمیٹی کے نام سے مسلح دہشت گرد گروہ بنایا، 2008 سے 2013 تک کوئٹہ اور پشین سے اسلحہ بھی منگوایا، جس سے شہر میں اغوا برائے تاوان، قتل و غارت گری کی اور سیاسی جلسوں اور ہڑتالوں کو کامیاب بنایا۔
عزیر بلوچ نے بیان میں اعتراف کیا کہ لیاری میں اپنی مرضی کے پولیس افسران اور اہل کار تعینات کروائے، پولیس افسران کو ذوالفقار مرزا، قادر پٹیل اور سینیٹر یوسف بلوچ سے تعینات کروایا، ان پولیس افسران کی سرپرستی میں لیاری میں جرائم کیے، مارچ 2013 میں اپنے والد فیض محمد عرف فیضو کے قتل کا بدلا بھی لیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے آئندہ سماعت پر عزیر بلوچ کے 164 کے بیان پر متعلقہ مجسٹریٹ کو طلب کر لیا، خیال رہے کہ عزیر بلوچ کمرہ عدالت میں اس بیان سے منحرف ہو چکا ہے واضح رہے کہ چند ہفتے قبل پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی 15 مقدمات میں بریت کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
پراسیکیوشن ذرائع کے مطابق لیاری گینگ وار کا سرغنہ عزیر بلوچ 15 مقدمات میں بری ہو چکا ہے۔استغاثہ نے موقف دیا ہے کہ ان مقدمات میں گواہوں کے بیانات پر توجہ نہیں دی گئی جب کہ عزیز بلوچ کو سزا دلوانے کے لیے شواہد موجود ہیں۔ یہ اقدام قتل، اغوا،پولیس مقابلہ اور غیر قانونی اسلحہ کے مقدمات شامل ہیں۔عزیر بلوچ کے خلاف بیشتر مقدمات میں 2012 سے 2013 تک ہونے ولاے جرائم شامال ہیں۔
تین ماہ قبل عزیربلوچ کے مسلسل بری ہونے سے متعلق پراسیکیوٹر کا اہم انکشاف سامنے آیا تھا ، پراسیکیوٹر کے مطابق عزیر بلوچ اور گینگ وار کی جانب سے گواہوں وپراسیکیوشن کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ،اس حوالے سے ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ کے مسلسل بری ہونے کے حوالے سے پراسیکیوٹر نے دلائل میں اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ گواہان و پراسیکیوشن کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاج رہی ہیں ، کراچی سینٹرل جیل جوڈیشل کمپلیکس میں سیشن عدالت کے روبرو دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ ایکٹ کے مقدمہ کی سماعت ہوئی،عزیر بلوچ کے مسلسل بری ہونے کے حوالے سے پراسیکیوٹر نےدلائل میں اہم انکشاف کیا۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close