پولیس اور عوام کے درمیان بڑھتی خلیج، پہلے سلام پھر کلام کہاں کھو گیا؟


تحریر: میاں ندیم احمد 94 نیوز
کسی بھی مہذب معاشرے میں پولیس صرف قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں ہوتی بلکہ ریاست کا وہ چہرہ ہوتی ہے جسے دیکھ کر شہری اپنے ملک کے نظامِ انصاف کا اندازہ لگاتے ہیں۔ جب پولیس کا رویہ شائستہ، قانون کے مطابق اور عوام دوست ہو تو شہری خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں، لیکن جب یہی ادارہ خوف، بے عزتی اور طاقت کے بے جا استعمال کی علامت بننے لگے تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی دیوار میں دراڑیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔
گزشتہ کچھ عرصے سے ٹریفک پولیس اور شہریوں کے درمیان تلخ واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ معمولی باتوں پر تکرار، شہریوں سے سخت لہجہ، بے جا چالانوں کی شکایات اور آئے روز ہونے والے جھگڑے ایک سنجیدہ سوال کھڑا کرتے ہیں کہ آخر مسئلہ کہاں ہے؟ کیا واقعی شہری ٹریفک قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں یا پھر کہیں نہ کہیں نظام میں ایسی خامیاں موجود ہیں جنہوں نے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان فاصلے بڑھا دیے ہیں؟
شہریوں کی بڑی تعداد یہ سوال کرتی ہے کہ کیا ٹریفک چالان صرف قوانین کی خلاف ورزی پر کیے جا رہے ہیں یا پھر کسی مقررہ ہدف کو پورا کرنے کے دباؤ میں بھی کارروائیاں کی جاتی ہیں؟ اگر ہر چالان مکمل شواہد اور قانون کے مطابق کیا جاتا ہے تو اس بارے میں عوامی اعتماد بڑھانے کے لیے شفافیت بھی ضروری ہے۔ دوسری جانب اگر کہیں کسی اہلکار کی جانب سے اختیارات کا غلط استعمال ہوتا ہے تو اس کا احتساب بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
پنجاب پولیس کا ایک خوبصورت نعرہ "پہلے سلام، پھر کلام” کبھی عوام دوست پولیسنگ کی پہچان سمجھا جاتا تھا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے شہری آج یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ نعرہ کہاں کھو گیا؟ کیا اب شہری کو پہلے احترام ملتا ہے یا پہلے ڈانٹ، دھمکی اور اختیار کا احساس دلایا جاتا ہے؟
حال ہی میں فیصل آباد کے علاقہ جھال خانوآنہ ستیانہ روڈ کے ایک رہائشی سے متعلق سامنے آنے والا واقعہ بھی عوامی بحث کا موضوع بنا۔ متاثرہ خاندان کا دعویٰ ہے کہ شہری کو گھر سے باہر نکال کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ متعلقہ پولیس حکام نے ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے ایک ٹریفک وارڈن کو عارضی طور پر معطل کر دیا۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو صرف عارضی معطلی ہرگز کافی نہیں ہوگی۔ ایسے واقعات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقیقت سامنے آئے، ذمہ داروں کا تعین ہو اور اگر اہلکار بے قصور ہوں تو ان کا مؤقف بھی عوام کے سامنے آئے۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر پولیس اہلکار شہریوں پر تشدد کریں اور بعد میں صرف عارضی معطلی پر معاملہ ختم ہو جائے تو عوام کا اعتماد کیسے بحال ہوگا؟ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ ہر شخص، خواہ وہ عام شہری ہو یا وردی میں ملبوس اہلکار، ایک ہی قانون کے سامنے جوابدہ ہو۔
ریجنل پولیس آفیسر، سٹی پولیس آفیسر اور چیف ٹریفک آفیسر فیصل آباد بارہا عوام دوست پولیسنگ، میرٹ، شفافیت اور خوش اخلاقی کے دعوے کرتے ہیں۔ یہ دعوے یقیناً خوش آئند ہیں، لیکن ان کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ایک عام شہری سڑک پر پولیس کو دیکھ کر خوفزدہ ہونے کے بجائے خود کو محفوظ محسوس کرے۔ اگر زمینی حقائق ان دعوؤں سے مطابقت نہ رکھتے ہوں تو پھر پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
ٹریفک قوانین پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔ ہیلمٹ، سیٹ بیلٹ، لائسنس، لین ڈسپلن اور دیگر قوانین پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ لیکن قانون نافذ کرنے کا طریقہ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا خود قانون۔ عزتِ نفس مجروح کر کے قانون کی پاسداری نہیں کرائی جا سکتی۔ نرم لہجہ، مناسب رویہ، واضح رہنمائی اور شفاف کارروائی وہ عناصر ہیں جو شہریوں کو قانون کا احترام سکھاتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب بارہا عوامی خدمت، پولیس اصلاحات اور گڈ گورننس کی بات کرتی ہیں۔ یقیناً ان کا وژن یہی ہوگا کہ پولیس عوام کی محافظ بنے، نہ کہ خوف کی علامت۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وژن کو نچلی سطح تک مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے، اہلکاروں کی تربیت میں شہریوں سے حسنِ سلوک کو مرکزی حیثیت دی جائے، باڈی کیمروں اور ڈیجیٹل نگرانی جیسے اقدامات کو فروغ دیا جائے اور شکایات کے ازالے کا ایسا نظام قائم ہو جس پر شہری اعتماد کر سکیں۔
ریاست کی طاقت کا اصل حسن اس کے انصاف میں ہے، نہ کہ اس کے جبر میں۔ اگر شہری یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کی عزت محفوظ نہیں، ان کی بات سنی نہیں جاتی اور انہیں انصاف نہیں ملتا تو یہ احساسِ محرومی آہستہ آہستہ معاشرتی بے چینی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ کسی بھی ذمہ دار حکومت اور ادارے کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔
آج بھی وقت ہے کہ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کی ٹوٹی ہوئی ڈور کو دوبارہ جوڑا جائے۔ پولیس کا کام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا، ان کی جان و مال کی حفاظت کرنا اور قانون کی منصفانہ عملداری کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ عوام کو خوفزدہ کرنا یا ان کی تذلیل کرنا۔ ایک باوقار شہری ہی ایک مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتا ہے، اور ایک عوام دوست پولیس ہی اس ریاست کا حقیقی وقار۔

