National

Of the Private Schools Federation 15 Schools announced to open in August

Faisalabad (94 News Mian Hamza) کورونا کے باعث نجی تعلیمی اداروں نے طویل بندش کو تعلیم دشمنی قرار دیتے ہوئے 15 اگست کو ادارے کھولنے کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق کورونا کے باعث ملک بھر میں نجی تعلیمی ادارے مارچ سے بند ہیں، اور تمام تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں، جس کے پیش نظر نجی تعلیمی ادارے شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ ادھر والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے الگ پریشان ہیں، اس سال بورڈز کے سالانہ امتحانات بھی کورونا کی نظر ہوگئے اور طلباء و طالبات کو بغیر امتحانات کے اگلی کلاسوں میں پرموٹ کردیا گیا ہے، جس کی نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیموں آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن، آل پاکستان پرائیویٹ سکولز الائنس فاؤنڈرز، پرائیویٹ سکولز یونٹی، پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے اس پالیسی کو رد کردیا تھا کہ اس طرح بچوں کا میرٹ خراب ہوگا اور لائق بچوں کا حق مارا جا رہا ہے۔ لیکن حکومت نے ملک بھر کی کسی تنظیم کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تمام اعتراضات مسترد کردئیے اور بچوں کا بغیر امتحانات کے پاس کردیا۔

ادھر پاکستان بھر کی نمائندگی کرنے والی تنظیم آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے فوری طور پر تعلیمی ادارے کھولنے کا بھی مطالبہ کردیا،

اس سلسلہ میں آل پاکستان پرائیویٹ سکولز الائنس فاؤنڈرز، جائنٹ ایکشن کمیٹی اور پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں مرکزی صدر الائنس فاؤنڈرز و ڈوژنل صدر فیڈریشن میاں ندیم احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 15 اگست کو ایس او پیز کے تحت سکولز اوپن کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عیدالضحیٰ کے بعد فیصل آباد میں ہارن بجاؤ حکمران جگاؤ ریلی نکالی جائے گی، ریلی کا مقصد حکمرانوں کو خواب غفلت سے جگانا ہے کہ بچوں کے مستقبل کو داؤ پر نہ لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم 15 اگست کو ہر حال میں سکول اوپن کریں گے۔

اس موقع پر صوبائی صدر فیڈریشن رانا طاہر سلیم خاں، اسد بشیر گل، شیخ نسیم و دیگر نے کہا کہ ملک بھر کی نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیموں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ہم 15 اگست کو تعلیمی ادارے کھولیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اس سلسلہ میں کوئی رکاوٹ ڈالی یا اساتذہ کے ساتھ کسی قسم کی بھی زیادتی کی تو ملک بھر کے تعلیمی ادارے طلباء و طالبات احتجاج کا حق رکھتے ہیں اور بھر پو احتجاج کی جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بچے چائلڈ لیبر کی جانب جا رہے ہیں، جو کہ حکومتی کارکدگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ رانا طاہر نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں سے جڑے دیگر بیسیوں بزنس بھی بند ہو چکے ہیں، جس میں پرنٹنگ، کپڑا، ٹیلرنگ، بکس شاپس، سٹیشنری، کنٹین و دیگر وشعبہ جات شامل ہیں، انہوں نے کہا کہ کروڑ نوکریاں دینے والوں نے عوام سے نوالہ بھی چھین لیا۔

More

Related news

Leave a Reply

Close