کالم

پاک بھارت ٹاکرا کیا رنگ لائے گا

پاک بھارت ٹاکرا جیت کس کی ہوگی شائقین کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے اس سوال کا جواب تو میچ کے اختتام پر ہی سامنے آئے گا مگر یہ ضرورہے کہ دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف اس میچ میں بازی لے جانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگاکر میدان میں کھیل کا مظاہرہ کریں گی ۔ پاکستانی شاہینوں نے ایونٹ کے اپنے افتتاحی میچ میں ہانگ کانگ کو بڑے مارجن سے شکست دیکر اچھا آغاز کیا مگر ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی اب دیکھنا یہ ہے کہ مضبوط حریف بھارت کے خلاف پاکستانی کھلاڑی کس حکمت عملی سے میدان میں اترتے ہیں بلاشبہ یہ فائنل سے پہلے فائنل میچ ہے بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز نے اس میچ میں پاکستان کے پانچ کھلاڑیوں کو بھارت کے خلاف بڑا خطرہ قراردیا ہے جن میں اوپنر فخرزمان جو بھارت کے خلاف سنچری سکور کرچکے ہیں جو بھارتی باؤلرز کے لئے آسان ٹارگٹ ثابت نہیں ہوں گے نوجوان بلے باز امام الحق نے اپنے ون ڈے کیرئیر میں نو اننگز میں چار سنچریاں بنائیں ہیں وہ فخر زمان کے ساتھ اوپننگ کریں گے اور اس جوڑی کو اگر بھارت کے خلاف خطرہ قرار دیا جائے تو یہ غلط نہیں ہوگا جبکہ بابر اعظم جو میدان میں ہمیشہ بہت پراعتماد نظر آتے ہیں اور پریشر میں بھی ٹیم کو ساتھ لیکر چلتے ہیں ان کا شمار آئی سی سی کی جانب سے جاری دس بہترین بیٹسمینوں میں شمار کیا جاتا ہے یو اے ای میں کھیلے گئے میچوں میں انہوں نے اب تک کھیلی گئی گیارہ اننگز میں پانچ سنچریاں سکور کی ہوئیں ہیں اور اس وقت وہ مکمل فارم میں ہیں جبکہ آل راؤنڈر شاداب خان جو نہ صرف بہترین باؤلر ہیں بلکہ ایک اچھے بیٹسمین بھی ہیں بھارت کے خلاف ایک بڑا خطرہ ہیں شاداب خان کی باؤلنگ نے ہمیشہ ہی بھارتی بیٹسیمنوں کو پریشان کیا ہے اور خطرہ ثابت ہوئی ہے وہ میچ کا پانسہ بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اسی طرح نوجوان باؤلر حسن علی بھی ایک بہترین باؤلر ہیں او ر ان کا شمار دنیا کے بہترین باؤلر ز میں کیا جاتا ہے اور بھارتی بیٹسمین ہمیشہ ان کو بہت محتاط انداز سے کھیلتے ہیں اور پریشر میں نظر آتے ہیں حسن علی نے ون ڈے کرکٹ میں تیز ترین پچاس وکٹیں حاصل کرکے اپنے ہم وطن فاسٹ باؤلر وقار یونس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اس میچ میں حسن علی کی کارکردگی پر بھی شائقین کرکٹ کی نظریں مرکوز ہوں گی اب دیکھنا یہ ہے کہ پاک بھارت میچ میں یہ کھلاڑی کیسی پرفارمنس دکھاتے ہیں ان سے جو امیدیں وابستہ ہیں کیا ان پر یہ پورا اترتے ہیں کہ نہیں او ربھارت کے خلاف اس میچ میں ایک مرتبہ دوبارہ اپنی دھاک بٹھانے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ نہیں دوسری جانب بھارتی ٹیم اس میچ میں اپنے بہترین بلے باز ویرات کوہلی کے بغیر میدان میں اترے گی جس کا پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے بھارتی کپتان روہت شرماپاکستان کے خلاف میچ میں کپتانی کررہے ہیں ان کے لئے بھی ایک بڑا امتحان ہے اس سے قبل ان کی پاکستان کے خلاف بطور بیٹسمین کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو وہ اپنی ٹیم میں سیئنر ترین کھلاڑی ہیں اوپننگ کرتے ہیں جبکہ ان کے علاو ہ یووراج سنگھ اور دھونی بھی پاکستان کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں پاکستان کو اس میچ میں باؤلنگ کے شعبہ میں بھارت پر واضح برتری حاصل ہے جبکہ بھارتی ٹیم کے پاس پاکستان کے مقابلے میں تجربہ کار بیٹسمین ہیں۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close