پاکستان کو اب نظامی اصلاحات کی ضرورت ہے، صرف سیاسی تبدیلی کی نہیں


تحریر: اختر خان
ریاستیں صرف مضبوط حکومتوں سے نہیں بلکہ مضبوط نظامِ حکمرانی سے مستحکم ہوتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوموں نے وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کیا، ترقی نے ان کے قدم چومے۔ لیکن جب نظام عوام کی ضروریات سے ہم آہنگ نہ رہے تو مسائل بڑھتے گئے، اداروں پر اعتماد کمزور ہوتا گیا اور عوام ریاست سے دور ہوتے چلے گئے۔
پاکستان آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں داخلی سلامتی، معاشی استحکام، سیاسی ہم آہنگی اور مؤثر طرزِ حکمرانی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال، عالمی سفارتی چیلنجز اور اندرونِ ملک دہشت گردی کے خطرات اس امر کے متقاضی ہیں کہ قومی ادارے اور سیاسی قیادت ایک صفحے پر ہوں۔
حالیہ عرصے میں وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی کی جانب سے انتظامی اصلاحات، مضبوط بلدیاتی نظام اور نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے سامنے آنے والے خیالات ایک اہم قومی بحث کو جنم دیتے ہیں۔ ان تجاویز سے اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر انتظامی ڈھانچے پر سنجیدہ غور و فکر ناگزیر ہو چکا ہے۔
قیامِ پاکستان کے وقت ملک کی آبادی چند کروڑ تھی، جبکہ آج یہ تقریباً ستائیس کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ شہروں کا پھیلاؤ، دیہی علاقوں کی ضروریات، تعلیم، صحت، امن و امان، صاف پانی، روزگار اور بنیادی سہولیات کے مسائل کئی گنا بڑھ چکے ہیں، مگر انتظامی ڈھانچہ بڑی حد تک وہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج نئے انتظامی یونٹس اور اختیارات کی مؤثر تقسیم پر سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
اسی کے ساتھ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ قومی سلامتی، سرحدوں کے دفاع اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں بھی عسکری قیادت نے قومی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر اپنی ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔ ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ تمام آئینی ادارے اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں۔ اگر سیاسی قیادت قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اتفاقِ رائے پیدا کرے تو ریاستی اداروں، عوام اور منتخب نمائندوں کے درمیان تعاون ملک کو درپیش بڑے چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اصل مسئلہ اختیارات کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ فیصلے اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں ہوتے ہیں جبکہ مسائل گاؤں، قصبوں اور محلوں میں جنم لیتے ہیں۔ ایک عام شہری اپنے بنیادی حقوق کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگاتا رہتا ہے، لیکن اس کی آواز اکثر فیصلہ سازوں تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ پاتی۔
ترقی یافتہ ممالک نے ثابت کیا ہے کہ مضبوط بلدیاتی نظام ہی مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہوتا ہے۔ جہاں اختیارات، وسائل اور جوابدہی نچلی سطح تک منتقل ہو، وہاں عوامی مسائل جلد حل ہوتے ہیں اور ریاست پر اعتماد بڑھتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بلدیاتی ادارے ہمیشہ سیاسی ترجیحات کے تابع رہے، حالانکہ یہی ادارے عوام اور ریاست کے درمیان سب سے مضبوط پل بن سکتے ہیں۔
آج مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ نوجوان روزگار کے لیے پریشان ہیں، کسان، مزدور، تاجر اور ملازم سب اپنی اپنی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں عوام کو محض وعدوں کی نہیں بلکہ ایسے نظام کی ضرورت ہے جو ان کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرے۔ یہی مقصد ایک مضبوط، بااختیار اور مالی طور پر خودمختار بلدیاتی نظام پورا کر سکتا ہے۔
اگر پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال ریاست بنانا ہے تو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر انتظامی اصلاحات، مضبوط بلدیاتی نظام، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور اداروں کے درمیان آئینی ہم آہنگی کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔
قومیں صرف نعروں سے نہیں، فیصلوں سے آگے بڑھتی ہیں۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سیاسی تبدیلی سے آگے بڑھ کر نظامی تبدیلی کی طرف قدم بڑھائیں، کیونکہ مضبوط نظام ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔
نوٹ: ادارہ کا کالم نگار کےساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
