قومی

پاکستان نے امریکہ کو ایران کیخلاف فضائی حدود دینے سے انکارکردیا

لاہور (94 نیوز) سینئر صحافی صابر شاکر نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران کیخلاف امریکا کو اپنی فضائی حدود استعمال کیلئے دینے سے انکار کردیا، امریکا نے افغانستان سے ایران کو نشانہ بنانے کیلئے فضائی حدود استعمال کرنے کی مدد مانگی تھی،لیکن پاکستان کی سول ملٹری قیادت نے کہا کہ ہم اس لڑائی کا حصہ نہیں بنیں گے،بلکہ غیرجانبدار رہیں گے۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے اہم ترین جنرل قاسم سلیمانی کو ڈرون حملے میں جاں بحق کردیا تھا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے،دونوں کی جانب ابھی صف بندی کی جارہی ہے، ایران نے اعلان جنگ نہیں بلکہ حملے بھی شروع کردیے ہیں۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ جب تک انتقام نہیں لے لیتے ہمارا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوگا اور لڑائی ختم نہیں ہوگی۔

ترکی صدر کا ایرانی صدر کے ساتھ رابطہ ہوا، چین ، روس یہ سب آپس میں سر جوڑ کربیٹھ گئے ہیں، سعودی عرب اپنے طور پر رابطے کررہا ہے، سعودی عرب کو اندازہ ہے کہ اگر لڑائی ہوئی تو سعودی عرب بھی متاثر ہوگا، قطر کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔قطر فی الحال محتاط ہے اور سرگرم عمل ہے۔ چین نے اپنا وزن ایران کے حصے میں ڈالا ہے اور امریکن جارحیت کو سپورٹ نہیں کیا۔ٹرمپ کو داخلی طور پر بھی مسائل کاسامنا ہے، ان کا بھی مواخدہ ہورہا ہے، وہ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کیلئے بھی یہ سب کچھ کررہا ہے۔

چین، روس، ایران، پاکستان، ترکی کی کوشش ہے کہ خطے کو فساد اور لڑائی سے محفوظ رکھا جائے، تاکہ خطہ ترقی کی جانب گامزن رہے، سی پیک جاری ہے، گوادرایئرپورٹ بن رہا ہے، اس پورے خطے نے سی پیک  کے ذریعے ترقی کرنی ہے۔ایک مرحلہ ایسا آئے گا جب انڈیا بھی سی پیک کا حصہ بن جائے گا جب  پاکستان  اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے۔ امریکا کا مقصد ہے کہ خطے کوعدم استحکام اور بدامنی کی طرف لے کرجایا جائے، اس سے چین ڈسٹرب نہیں ہوگا بلکہ پاکستان،یواے ای، سعودی عرب کوبھی مسائل کا سامنا ہوگا۔  چین اور روس نے اپنا وزن ایران کے پلڑے میں ڈالا ہے، اگرلڑائی شروع ہوتی ہے تو یہ ملک ایران کی خاموشی سے سپورٹ کریں گے۔پاکستان سے مدد مانگی گئی تھی کہ افغانستان میں امریکن فضائی بیسزسے ایران کو نشانہ بنانے کیلئے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔لیکن پاکستان کی سول ملٹری قیادت نے سرجوڑے اور امریکا کو انکار کردیا کہ ہم اس لڑائی کا حصہ نہیں بنیں گے، ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے ، یہ الگ بات کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں ہیں۔جنرل قاسم سلیمانی نے پاکستان کو بھی نشانہ بنایا تھا اور دھمکیاں بھی دی تھیں۔ جس طرح سعودی عرب اور یواے ای کی بھارت میں سرمایہ کاری ہے اسی طرح ایران کی بھی بھارت میں سرمایہ کاری ہے۔چاہ بہار بندرگاہ ایران کے سپر د کی ہوئی ہے، کلبھوشن یادیو چاہ بہار سے ہی گرفتار ہوا تھا، اس کا ایران کی حدود میں نیٹ ورک تھا، جس کو وہ وہاں سے بیٹھ کرپاکستان کیخلاف آپریٹ کرتا تھا۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close