پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے 75 سال جدوجھد کی روشن مثال، کراچی میں PFUJ کی پلاٹینم جوبلی کی تاریخی تقریب


تحریر۔ جاوید صدیقی
94 نیوز۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر PFUJ کی موجودہ قیادت نے پلاٹینم جوبلی کی پروقار تقریب کا اہتمام کراچی کے اسی تاریخی خالق دینا ہال میں کیا جہاں 2 اگست 1950 کواس تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تھی اس تقریب کی صدارت پاکستان کے نامور سینئر صحافی حسین نقی نے کی اس تقریب کے انتظامات پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ سکریٹری جنرل ارشد انصاری کی نگرانی میں کراچی یونین آف جرنلسٹ اور کراچی پریس کلب نے کئے کراچی میں معروف صحافی مظہر عباس kuj کے صدر طاہر خان جنرل سیکرٹری سردار لیاقت پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی سکریٹری سہیل افضل اور سابق صدر ورکن ایف ای سی امتیاز فاران نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس تقریب کو یادگار گار بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا ملک بھر سے پی ایف یو جے کے رہنماؤں منہاج برنا نثار عثمانی اور حفیظ راقب کی قیادت میں آزادی صحافت کی جنگ میں شریک ساتھیوں نے بھی شرکت کی اس تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ تھے انہوں نے افضل بٹ ارشد انصاری اور نیشنل پریس کلب کی سکریٹری نیئرعلی کے ھمراہ PFUJ کی طرف سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے صحافیوں کو پلاٹینم جوبلی شیلڈ بھی پیش کیں تقریب کے اختتام پر کراچی یونین آف جرنلسٹ کے سینیئر رکن وارث رضا نے مشترکہ اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا آج جب ہم کراچی کے تاریخی خالق دینا ہال میں جمع ہیں، ہم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کی جمہوریت، آزادی اظہار، اور صحافیوں و میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے 75 سالہ غیرمتزلزل جدوجہد کا شاندار سنگِ میل منا رہے ہیں۔ سات دہائیوں سے PFUJ آمریتوں اور جابرانہ حکومتوں کے خلاف مزاحمت کی علامت بن کر کھڑی ہے، اور ہر طرح کے دباو کے باوجود خاموش ہونے سے انکار کرتی رہی ہے۔جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان کے ظالمانہ پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس (PPO) سے لے کر جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں میڈیا پر کیے گئے وحشیانہ حملوں تک، PFUJ نے ہر قدم پر جبر کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اور آئینی حق — آزادی صحافت اور اظہار — کے لیے مسلسل آواز بلند کی۔ ہماری جدوجہد صرف فوجی آمروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ ہم نے ان جمہوری حکومتوں کی بھی سختی سے مخالفت کی جو سنسرشپ اور ’پریس ایڈوائس‘ جیسے ہتھکنڈوں کے ذریعے میڈیا کو خاموش کروانا چاہتی تھیں۔2007 میں وکلاءتحریک کے دوران PFUJ نے جنرل مشرف کی "ایمرجنسی ” کے خلاف آہنی دیوار بن کر میڈیا اور ٹی وی چینلز کے حق میں آواز بلند کی۔آج بھی ہم 2025 کے PECA ایکٹ اور 2024 کے پنجاب ڈیفیمیشن قانون جیسے سیاہ قوانین کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے بنیادی اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ہم عہد کرتے ہیں کہ:- ہم آزادی صحافت، آزادی اظہار، جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے اپنی کئی دہائیوں پر محیط جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔- ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک وہ تمام کالے قوانین واپس نہ لیے جائیں جو میڈیا کو خاموش کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
- ہم صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی برطرفیوں، دھمکیوں اور حقوق کی پامالی کے ہر ہتھکنڈے کی بھرپور مزاحمت کریں گے۔
- ہم ان کے پیشہ ورانہ آزادی، تحفظ، اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔
جب ہم اپنی 75 سالہ جدوجہد کی یہ تاریخی تقریب منا رہے ہیں، ہم ایک بار پھر اپنے اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ آزادی صحافت اور اظہارِ رائے کے بغیر جمہوریت اور آئین کی بالادستی ممکن نہیں۔ ہم ہر اس کوشش کی مخالفت کرتے رہیں گے جو میڈیا کو خاموش کرنے کے لیے قانون یا کسی اور ذریعہ سے کی جائے۔
ہم ان تمام حکومتوں، اداروں، اور افراد کو دوٹوک پیغام دینا چاہتے ہیں جو میڈیا کی آزادی سلب کرنا چاہتے ہیں:
"تم ہمیں خاموش نہیں کر سکتے ہو”
پی ایف یو جے PFUJ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے حقوق کی جنگ لڑتا رہے گا، اور آزادی صحافت و اظہار کے دفاع کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑا رہے گا۔
ہم خاموش نہیں ہوں گے۔ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ہم ایک آزاد اور خودمختار میڈیا، اور ایک جمہوری و منصف معاشرے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
آزادی صحافت زندہ باد! !PFUJ پائندہ باد





