National

Kashmir Martyrs' Day is being celebrated all over the world including Pakistan

Islam Abad (94 news) مقبوضہ کشمیر کی جدوجہدِ آزادی کے عظیم شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے دنیا بھرمیں آج یومِ شہدائے کشمیر منایا جارہا ہے ۔

اس حوالے سےترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ یوم شہدائے کشمیر آزادی کیلئے لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، شہداء کے لہو کا ایک ایک قطرہ نہ فراموش کریں گے نہ معاف، ان شاءاللہ کامیابی کشمیریوں کا مقدر ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یوم شہدائے کشمیر پر اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا کہ یوم شہدائے کشمیر آزادی کے لئے بہادر کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔
شہداء کے لہو کا ایک ایک قطرہ نہ فراموش کریں گے نہ معاف کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مظالم جدوجہد آزادی کو دبانے میں ناکام رہے۔ ان شاءاللہ کامیابی کشمیریوں کا مقدر ہے۔ واضح رہے ریاست جموں وکشمیر میں آج سوموار کو لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کی جانب سے کشمیر کی تاریخ کا ناقابل فراموش دن ’’یوم شہدائے کشمیر‘‘ منایا جائے گا۔

گزشتہ سال بھارت کے پانچ اگست کے غیرقانونی اقدام کے بعد مقبوضہ وادی میں کرفیو اور لاک ڈاؤن ہے لیکن اس کے باوجود کشمیریوں کا عزم اور جذبہ وہی ہے۔ جو غیرمتزلزل ارادے کو ظاہرکرتا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کی تکمیل تک جدوجہد جاری رکھی جائیگی۔ یوم شہدائے کشمیر پر مقبوضہ وادی میں پہلی مرتبہ عام تعطیل نہیں ہوگی۔ یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر پاکستان، ریاست جموں وکشمیر کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری نے تقریبات، ریلیاں اور سیمینارز کا انعقاد کرکے عظیم کشمیری شہداء کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔
یوں تو مقبوضہ وادی سات دہائیوں سے شہیدوں کے لہو کی گواہ ہے لیکن 13جولائی 1931ء کا دن کشمیریوں کی تاریخ کا ایک ایسا خون آشام دن ہے۔ جب سری نگر میں 22 بےگناہ مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے تحریک آزادی کشمیر کی بنیاد رکھی 89 سال پہلے کشمیریوں کا کیے جانے والا ناحق خون آج بھی تروتازہ ہے، حریت پسند جاں بازوں کی یاد میں یوم شہدائے کشمیر منایا جارہا ہے۔
13جولائی1931ء کو مرد مجاہد عبدالقدیر خان کے دیدار کے لیے مظلوم کشمیری سری نگر جیل کے باہر جمع تھے جہاں سے عبدالقدیر خان کو عدالت لے جایا جانا تھا، اس دوران نماز ظہر کا وقت ہوگیا اور کشمیری مظاہرین کو نماز ادا کرنے کی اجازت بھی نہ ملی۔ایسے میں ایک کشمیری اذان کے لیے اٹھا تو ڈوگرہ مہاراجہ کے سپاہی نے گولیوں کی بوچھاڑ کردی اور پھر یکے بعد دیگرے 21جانوں کا نذرانہ دے کر حریت پسندوں نے اذان مکمل کی۔ خون کی اس ہولی کیخلاف کشمیری ہر سال 13جولائی کو یوم شہداء مناتے ہیں اور اپنے اس عہد کو مزید مستحکم کرتے ہیں کہ کشمیر میں آخری مسلمان تک اور آخری مسلمان کے آخری قطرہ خون تک آزادی کی جنگ جاری رہے گی۔

More

Related news

Leave a Reply

Close